سیلاب کی تباہ کاریاں اور حکومتی امدادی پیکیج

سیلاب کی تباہ کاریاں اور حکومتی امدادی پیکیج

ڈیرہ غازی خان کی ڈی جی نہر میں پہاڑی برساتی نالوں میں بارشوں کے نیچے میں پانی کے بہاؤ میں تیزی سے ڈی جی کنال میں شدت کی طغیانی سے تین مقامات پرشگاف پڑ گیا ، جس سے ڈیرہ غازی خان کا شہردریا کا ٹھاٹھیں مارتے پانی کا منظر پیش کرنے لگا۔ اسی طرح راجن پور میں بھی ہر طرف سیلابی کیفیات دیکھنے کو ملیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایت پر فوری طور پر ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے لوگوں کی مدد اور امدادی کاموںکے لئے خادم اعلیٰ نے اپنے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سینئر مشیر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کی سربراہی میںٹیم روانہ کی جو پہلے ڈی جی خان پہنچی۔ ٹیم میں صوبائی وزیر چوہدری عبدالغفور ، وزیر زراعت احمد علی اولکھ، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے مجاہد شیر دل، سیکرٹری انہار خالد مسعود چودھری، کمشنر ڈی جی خان طارق محمودخاں، آر پی او محمد نواز وڑائچ، ڈی سی او افتخار علی سہو، ڈی پی او چودھری محمد سلیم ، چیف انجینئر چودھری محمد شفیق اور دیگر متعلقہ افسران نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی کاموں کی نگرانی کی ۔

 اس دوران ڈی سی اوڈی جی خان اور راجن پور کے کمیٹی روم میں علیحدہ علیحدہ میٹنگ منعقد ہوئیں، جس میں متاثرین سیلاب کو ریلیف مہیا کرنے اور امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے بارے حکمت عملی مرتب کی گئی۔ سینئر مشیر وزیراعلیٰ پنجاب سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان کی103سالہ تاریخ میں وڈور سمیت کسی بھی رود کو ہی نے اتنی بڑی تباہی نہیں مچائی۔ اس باروڈور رود کو ہی میں ایک لاکھ 65ہزار کیوسک پانی آیا جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ اس موقع پر انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ نہر کے کنارے کو جان بوجھ کر توڑنے کے معاملے پر سیکرٹری انہار مکمل رپورٹ تیار کرکے جلد حکومت کو پیش کر رہے ہیں۔

الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا نے اس بار انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مبالغہ آرائی سے کام لیا اور عوام میں خوف و ہراس پھیلایا۔ وزیراعلیٰ نے حالات کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کو متاثرین کی محفوظ مقامات تک منتقلی، بحالی اور پانی کی نکاسی کے لئے متعلقہ فنڈز کو بلا تفریق خرچ کرنے کے احکامات دئیے۔

پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے گزشتہ سالوں بھی سیلاب اور دیگر آفات میں جو ریلیف کے لئے کام کئے وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔ اس ادارے کو سابقہ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے خالد شیر دل نے جدید تقاضوں پر مبنی ادارہ بنا کر یورپی یونین سے تعریفی سند حاصل کی ۔ یورپی یونین کے پاکستان میں مقیم سفیر نے اس پر اپنے ریمارکس دیتے ہوئے اس کو جدید تقاضوں اور صلاحیتوں پر مبنی ادارے کا خطاب دیا۔ اس ادارے میں جدید آلات پر مبنی کمانڈ کنٹرول کمیونی کیشن سسٹم، ویڈیو کانفرنس روم، حالات کا جائزہ لینے اور اس پر لائحہ عمل کرنے کے لئے تھنک ٹینک، تیز رفتار ڈیزاسٹر ریسپانس فورس ، فیبری کیٹڈ سٹوریج کا صوبے بھر میں نیٹ ورک، ریسکیو فورس وغیرہ شامل ہے۔

پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مجاہد شیر دل نے بہترین حکمت عملی اور ٹیم ورکس کے ساتھ سیلاب متاثرہ لوگوں کو پانی سے نکال کر محفوظ مقامات پر پہنچایا۔ اس سلسلے میں ریسکیو 1122کی کاوشوں کو کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ پی ڈی ایم اے نے متاثرہ اضلاع راجن پور اور ڈی جی خان میں 24 فلڈ ریلیف کیمپ قائم کئے، جہاں 2,444متاثرین سیلاب کو شیلٹر فراہم کیا گیا ہے۔اس دوران عارضی سروے کرایا گیا، جس کے مطابق راجن پور کا 4,47,199 ایکڑ رقبہ متاثر ہوا جبکہ 204125 ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا اور 170دیہات متاثر ہوئے۔ اسی طرح ڈیرہ غازی خان میں 103دیہات متاثر ہوئے، جبکہ 48,250 ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا اور 3,57,698 ایکڑ رقبہ متاثر ہوا۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایت پر فوری طور پر 250ٹرکوں کے ذریعے امدادی اشیاءمتاثرین سیلاب کو پہنچائی گئیں، جن میں خشک خوراک کے 44,150بیگ، 27,000 بیگ چاول، 30ہزار بیگ آٹا، 15ہزار کمبل، 7,792خیمے، 45 ہزار منرل واٹر کی بوتلیں تقسیم کی گئیں۔ دونوں اضلاع کی مقامی انتظامیہ فلڈ ریلیف کیمپوں میں تینوں وقت کا پکا ہوا کھانا باقاعدگی سے مہیا کر رہی ہے، جبکہ انہیں اشیاءخوردونوش و ضروریہ بھی باقاعدگی سے فراہم کی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر 105ٹرک امدادی اشیاءکے متاثرہ علاقوں میں بھیجے۔

ڈیرہ غازی خان کے مختلف علاقوں میں پانی کے اخراج کے لئے 48ڈی وائرنگ پمپ لگائے ہیں جہاں تیزی سے پانی کو نکالا جارہاہے، جبکہ راجن پور میں بھی پانی کی سطح متواتر گر رہی ہے اور جلد وہاں سے بھی پانی کا اخراج ہوجائے گا۔ حکومت کے بروقت اقدامات اور انتظامات کی بدولت انسانی جانوں کا نقصان کم ہوا ہے۔ حکومت نے 9اموات پر فوری طور فی کس 5لاکھ روپے (45لاکھ)لواحقین میں تقسیم کئے ہیں۔ دونوں اضلاع سے پانی نکلنے کے بعد اصل نقصان بارے سروے کرایا جائے گا ،جس کے بعد حکومت کی طرف سے لوگوں کو ان کے نقصان پر ریلیف بھی مہیا کیا جائے گا۔       ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...