چاند، عید اور رویت ہلال کمیٹی (2)

چاند، عید اور رویت ہلال کمیٹی (2)
چاند، عید اور رویت ہلال کمیٹی (2)

یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اگر بعض لوگوں کے اس جذباتی مطالبے کو قبولیت عامہ حاصل ہوگئی تو کیا ضمانت ہے کہ مستقبل میں لوگ نمازوں کے معاملے میں بھی یہ مطالبہ نہیں کریں گے کہ نمازوں کے اوقات بھی حرمین کی نمازوں کے مطابق ہی مقرر کئے جائیں اور عین ممکن ہے کہ کوئی سر پھرا یہ مطالبہ بھی کردے کہ آج سائنس کا زمانہ ہے، حرمین میں پڑھی جانے والی نماز کی تلاوت اور جماعت کی تصویر ٹیلی ویژن کے ذریعے سنائی بھی دیتی ہے اور دیکھی بھی جاتی ہے، لہٰذا تمام مسجدوں میں الگ الگ اماموں کی کیا ضرورت ہے۔ پورے عالم اسلام میں یکجہتی قائم کرو۔ ٹیلی ویژن سامنے رکھ کر امام کعبہ کی اقتداءہی میں نماز ادا کر لیا کرو۔ اس سے پورے عالم اسلام کی یکجہتی کا مظاہرہ ہوگا اور اس طرح عالم اسلام کا اتحاد و نفاق بھی نظر آئے گا۔ ظاہر ہے یہ مطالبہ مضحکہ خیز ہی ہو گا اور کوئی عقل مند اس کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہو گا، کیونکہ عالم اسلام کی یکجہتی شرعی قواعد و ضوابط کی تسلیم پر موقوف ہے، محض حرمین سے جذباتی وابستگی پر قواعد و ضوابط میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی اور نہیں ہی شرعی اصول و ضوابط کو جذباتی وابستگی پر قربان کیا جا سکتا ہے۔

اختلاف مطالع کا وجود ایک ہی ملک کے اندر بھی ممکن ہوا کرتا ہے، مثلاً پنجاب اور سندھ میں سورج کے طلوع و غروب کا فرق10منٹ سے لے کرا آدھے گھنٹے تک کا ہے جس وقت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے لوگ مغرب کی نماز ادا کر رہے ہوتے ہیں، اس وقت کراچی میں سورج موجود ہوتا ہے اور کراچی میںمغرب کی نماز پنجاب اور خیبر پختونخوا کی نسبت آدھا گھنٹہ بعد ادا کی جاتی ہے۔ اب اگر کوئی شخص ملک میں اتحاد و یکجہتی کا نعرہ لگا کر کراچی والوں کو کہے کہ وہ بھی پنجاب و خیبر پختونخوا کے ساتھ آدھا گھنٹہ پہلے نماز مغرب ادا کریں تو پاکستان بھر کے لوگ اس کی جو تواضع کریں گے، وہ اظہر من الشمس ہے۔ اس لئے پورے عالم اسلام کے لئے یگانگت اور یکجہتی کا نعرہ دے کر اختلاف مطالع کو درخواعتناء خیال نہ کرنا کم علمی، بلکہ حماقت کی دلیل ہے، جسے شرعی نقطہ ¿ نظر اور عقلی لحاظ سے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ روزہ اور عیدالفطر کے لئے چاند کا دیکھنا لازمی ہے۔ ان کی دلیل اس حوالے سے یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا .... صوموالرویتتہ والفطروالرویتتہ....چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی روزے چھوڑو، لہٰذا اس حدیث کی صحت کے بارے میں شک کی گنجائش نہیں، تاہم اس حدیث کی روشنی میں چند بنیادی نکات قابل توجہ ہیں۔

٭....کیا اس حدیث سے تعمیم مراد ہے کہ مسلم معاشرے کا ہر فرد اس بات کا مکلف ہے کہ وہ بچشم خود چاند دیکھے تو اس پر روزہ فرض ہو گا۔

٭.... یا یہ کہ مسلم معاشرے کے چند افراد بھی چاند دیکھ لیں تو روزوں کی فرضیت کے لئے ان چند کا چاند دیکھ لینا کافی ہو جائے گا۔

ظاہر ہے کہ سو فیصد لوگوں کا چاند دیکھنا فرض نہیں، بلکہ چند افراد کے چاند دیکھ لینے سے بھی حدیث کا مدعا و مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ اس بات کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں چاند کے لئے شہادتوں کی ثقاہت کا تذکرہ ہے۔ابو داﺅد کی روایت ہے: ”حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک بار رسول اللہﷺ کے زمانے میں لوگوں نے رمضان کا چاند دیکھنے کی کوشش کی(لیکن عام طور سے لوگ دیکھ نہ سکے) تو مَیں نے رسول اللہﷺ کو اطلاع دی کہ مَیں نے چاند دیکھا ہے تو آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ بھی روزہ رکھیں“.... (معارف الحدیث، جلد4،صفحہ127)

اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے مولانا منظور نعمانی لکھتے ہیں: ”معلوم ہوا کہ ر مضان کا چاند ثابت ہونے کے لئے صرف ایک مسلمان کی شہادت اور اطلاع بھی کافی ہو سکتی ہے۔ امام ابو حنیفہ ؒ کے مشہور قول کے مطابق ایک آدمی کی شہادت اس صورت میں کافی ہوتی ہے، جب مطلع صاف نہ ہو۔ ابریا غبار وغیرہ کا اثر ہو۔ یا وہ شخص بستی کے باہر سے یا کسی بلند علاقے سے آیا ہو، لیکن اگر مطلع بالکل صاف ہو اور چاند دیکھنے والا آدمی باہر سے یا کسی بلند مقام سے بھی نہ آیا ہو، بلکہ اس بستی ہی میں چاند دیکھنے کا دعویٰ کرے، جس میں باوجود کوشش کے اور کسی نے چاند نہ دیکھا ہو تو ایسی صورت میں اس کی شہادت پر چاند ہو جانے کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس صورت میں دیکھنے والے اتنے آدمی ہونے چاہئیں، جن کی شہادت پر اطمینان ہو جائے“.... (معارف الحدیث، جلد4، صفحہ 127،128)

اس فرمان رسول اللہﷺ اور تشریح سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہر فرد کا چاند دیکھنا فرضیت یا اختتام رمضان کے لئے ضروری نہیں۔ شاہد اور عادل حضرات کی گواہی بھی اس بات کے لئے کفایت کا درجہ رکھتی ہے۔ اس بحث سے یہ بات پایہ¿ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ صوموا الرویتہ سے مراد ہر آدمی کا بیک سرود و چشم چاند دیکھنا مقصود نہیں، بلکہ چاند کے طلوع کا تیقن و تعین مراد ہے۔ اب یہ تیقن و تعین اگر سائنسی اصولوں کے ذریعے بھی ہو جائے تو اس کو کافی نہ ماننے کے لئے کون سا امرمانع رہ جاتا ہے۔

روزنامہ ”پاکستان“ کے اداریئے اشاعت 21ستمبر2009ءمیں لکھا تھا کہ اب تک متعدد مسلم ممالک رویت ہلال کو مکہ مکرمہ سے منسلک کر چکے ہیں اور اس کی بدولت وہاں عید کا چاند اتفاق و اتحاد اور یکجہتی کا پیغام لے کر افق پر نمو دار ہوتا ہے، انتشار کا باعث نہیں بنتا۔ یہ بات بظاہر پُرکشش معلوم ہوتی ہے، لیکن عملاً ایسا نہیں۔ ان ممالک کی نشاندہی بھی اگر ہو جاتی، جنہوں نے خود کو اس حوالے سے سعودی عرب سے منسلک کر دیا ہے تو بہتر ہو گا وہاں وہ قرب و جوار کے چھوٹے چھوٹے علاقے ضرور ہیں، جہاں کا مطلع سعودی عرب کے مطلع کے مطابق ہے، وہاں تو یہ بات ممکن ہے، لیکن ایسے ممالک جو مطلع کے اعتبار سے سعودی عرب کے ساتھ متعلق و مشترک نہیں، وہاں ایسا ہر گز نہیں.... مثلاً اس بار عراق کے کچھ علاقوںمیں عید اتوار کو ہوئی اور کچھ علاقوں میں سوموار کو ہوئی۔ اسی طرح لیبیا میں عید ہفتہ کو منائی گئی۔ ان علاقوں کے لوگوں نے تو خود کو سعودی عرب کے ساتھ منسلک نہیں کیا اور ان کی اسلامی یکجہتی بھی متاثر نہیں ہوئی۔ جانے پاکستان میں ہی یکجہتی کا مطلب ایک ہی روز عید کیوں لے لیا گیا۔ یہ یکجہتی کا محدود تصور ہے، جس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اصل الاصول کسی بھی منطقے میں چاند کا طلوع و غروب ہے۔ اس اصول پر رمضان یا عید کا فیصلہ کیا جانا شرعی ضابطہ ہے نہ کہ خود کو مکہ و مدینہ سے متعلق کر دینا۔(جاری ہے)    ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...