آگ اور لاقانونیت کا لاوا

آگ اور لاقانونیت کا لاوا
آگ اور لاقانونیت کا لاوا

کراچی اور لاہور میں انسانوں کے زندہ جل جانے کے واقعات پر بھی لگتاہے جلد ہی مٹی ڈال دی جائے گی۔ کہانیاں بہت سی چل رہی ہیں، مگر نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلے گا، کیونکہ جہاں قانون بے بس ہو چکا ہو اور اسے معاشرے کے مختلف بااثر گروہوں اور طبقوں نے یرغمال بنا رکھا ہو، وہاں پورا معاشرہ بھی زندہ جل جائے تو کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگے گی۔ کراچی میں تین سو سے زائد انسانوں کی موت نائن الیون سے بھی بڑا واقعہ ہے، لیکن سوائے انکوائری کمیٹیاں بنانے کے اورکچھ بھی نہیں ہو گا، کیونکہ کھرا جس طرف جاتا ہے، وہاں جاتے ہوئے سب کے پر جلتے ہیں۔ قانون کی بے توقیری جس قدر آج ہے، پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ مصلحت کی عینکیں پہن کر وقت گزارنے والی سیاسی قیادت یہ سوچنے کی روا دار ہی نہیں کہ جس طرف یہ معاشرہ جا رہا ہے، کیا وہ تباہی کا راستہ نہیں، کیا قانون کو بے اثر کر کے اور سپریم کورٹ کے احکامات کو نہ مان کر ہم اس انارکی کی طرف نہیں جا رہے، جو فیصلہ کرنے کا اختیار عوام کو دے دیتی ہے اور ان کے فیصلوں سے سب زمین کا رزق بن جاتے ہیں، چاہے کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔ اس وقت اگر قومی منظر نامے پر نظر ڈالی جائے تو سب سے بڑا اور تباہ کن مسئلہ قانون کی عدم موجودگی ہے۔ بلوچستان میں دیکھیں یا کراچی میں، پشاور میں دیکھیں یا لاہور میں، ہر جگہ قانون کی عملداری ایک سوالیہ نشان بنتی جا رہی ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب ملک خطرات میں گھرا ہوا ہے اور داخلی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔ انصاف اور قانون میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ قانون کے بغیر انصاف نہیں پنپ سکتا اور انصاف کے بغیر قانون کی حرمت برقرار نہیں رہ سکتی۔

جب سے عدلیہ آزاد ہوئی ہے، انصاف کے بارے میں لوگوں کی توقعات بھی بڑھ گئی ہیں، مگر جس ملک میں امراءاین آر او جیسے ریلیف حاصل کرتے ہوں، وہاں قانون کی عملداری اورانصاف اتنی آسانی سے عام کیسے ہو سکتا ہے؟ ابھی تک شیدے ریڑھی والے جیسے عام پاکستانیوں کو اس سوال کا جواب نہیں مل سکا۔ عام آدمی انصاف حاصل کرنے کے لئے جن دشواریوں کا شکار ہوتا ہے، کیا وہ ختم ہو جائیں گی۔ کیا عدلیہ کی اس آزادی کا کچھ فائدہ عام آدمی کو بھی پہنچے گا یا معاملات اسی طرح چلتے رہیں گے۔

یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ اگر پاکستان سے لاقانونیت اور بے انصافی کا خاتمہ کر دیا جائے تو ہمارے دیگر تمام مسائل خودبخود حل ہو سکتے ہیں۔ ملک میں شاید ہی کوئی ایسا باشعور شخص ہوجو یہ کہنے کی جرا¿ت کرے کہ پاکستان میں بے انصافی کا دور دورہ نہیں۔ جس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس ملک کے نظام سلطنت کی ایک اینٹ اکھیڑو تو درجنوں کرپٹ افراد نکلتے ہیں، اسی طرح یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وطن عزیز کے ہر شعبے میں بے انصافی قدم قدم پر اپنا تسلط جمائے ہوئے ہے۔ نا انصافی بھی ان بہت سی مکروہ باتوں میں سے ایک ہے جنہیں ہم بدنام زمانہ نظریہ ضرورت کے تحت حلال قرار دے دیتے ہیں۔جس طرح ظلم کرنے والے ظلم کو اپنا استحقاق سمجھتے ہیں، اسی طرح انصاف کا خون کرنے والے اپنے ہر عمل کو انصاف کی عینک لگا کر دیکھتے ہیں اور ساون کے اندھے کی طرح انہیں ہمیشہ ہرا ہی ہرا نظر آتا ہے۔

میرٹ کی دھجیاں اڑا کر اپنے نا اہل بیٹوں اور بھانجوں‘ بھتیجوں کو آگے لانے والے طبقے کے بگڑے ہوئے نواب اپنے اس عمل کو نا انصافی کی بجائے ایک ایسا کارنامہ سمجھتے ہیں‘ جو ان کی نسلی و خاندانی روایات میں مزید چار چاند لگا دیتا ہے۔ یہ طبقہ ملک کے کروڑوں عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھتا ہے‘ جن کے حقوق کو پامال کرنا اس کا خود ساختہ استحقاق بن جاتا ہے۔ اسی طرح حکومت کو بلیک میل کر کے قومی خزانے پر شب خون مارنے یا اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے پلاٹ ،پرمٹ کے نیلام گھر سجانے والے یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے کوٹ کے کالر میں انصاف کے کچھ اور خوبصورت پھول پرو دئیے ہیں۔ خیر یہ تو بے انصافی کے نہایت صاف ستھرے روپ ہیں،جو بالائی سطح پر محو پرواز رہتے ہیں اور ایک محدود طبقے کی روز مرہ ہابی کے باعث ان سے عام لوگ ذرا کم ہی واقف ہوتے ہیں، البتہ انصاف کے بارے میں جو دو عملی تھانے‘ کچہری‘ دیہات اور محلے کی سطح پر روا رکھی جاتی ہے،وہ عام آدمی کی زندگی کو ایسا دکھ بنا دیتی ہے،جس کی آگ میں جلتے جلتے وہ ایک دن اس قدر مسخ ہو چکا ہوتا ہے کہ شناخت تک باقی نہیں رہتی۔

یقین مانئے اس وقت دل خون کے آنسو روتا ہے، جب کسی غریب اور بے بس کی زبان سے یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ پاکستان میں انصاف بکتا ہے۔ عصمت اور انصاف اگر دیگر اشیاءکی طرح قابل فروخت بن جائیں تو پھر باوسیلہ لوگوں تک محدود ہو جاتے ہیں‘ فائیو سٹار ہوٹل کے کھانوں کی طرح جنہیں دو وقت کی روٹی کو ترسنے والے افراد دور سے بھی نہیں دیکھ سکتے۔ عصمت اور انصاف اگر انمول رہیں،ا قابل فروخت سمجھے جائیں‘ تو ان کی عظمت اور وقار قائم رہتے ہیں،قابل فروخت ہو جائیں تو چاہے کتنے ہی مہنگے بکیں،معاشرے میں ان کا وقار و احترام ختم ہو جاتا ہے۔ معاشرے کے بے وسیلہ اور غریب لوگوں کا اس انداز سے سوچنا کہ اب انصاف بھی قابل فروخت شے بن چکا ہے اور جو زیادہ بولی دے، اسی کی جھولی میں آگرتا ہے،معاشرتی و قومی نقطہ نظر سے ایک ایسی المناک، بلکہ شرمناک صورت حال ہے جو ہمارے پورے معاشرتی ڈھانچے کو دیمک زدہ لکڑی کی طرح زمین بوس کر سکتی ہے۔ نہایت دکھ کی بات ہے کہ ضلع کچہریوں کے احاطے میں کہ جہاں طاقتوروں اور قانون شکنوں کے ستائے ہوئے سائلوں کو ڈھارس اور انصاف ملنا چاہئے،سب سے زیادہ دکھ اور اذیت بھری کہانیوں کو جنم دینے کا باعث بنتے ہیں ۔نصاف کے حصول کو اس قدر گنجل دار بنا دیا گیا ہے کہ غریب آدمی اس کی ڈور کو ساری زندگی بھی سلجھاتا رہے تو اسے اس کا آخری سرا نہیں ملتا، لیکن دوسری طرف یہی گنجل اگر کسی دولت مند اور طاقتور کے ہاتھ میں آجائے تو اس کی ساری گرہیں اور ساری سلوٹیں اس طرح سلجھتی چلی جاتی ہیں،جیسے جادوگر کے کھل جا سم سم کہنے پر دروازے کھلتے ہیں۔ بحیثیت مسلمان قوم ہمارے لئے سب سے زیادہ د کھ کی بات یہ ہونی چاہئے کہ ہم ایک ایسے عظیم نبی کے امتی ہیں،جس نے اپنی تعلیمات میں سب سے زیادہ زور ہی عدل و انصاف پر دیا ہے،لیکن ہم نے ان کی تعلیمات کے برعکس عدل و انصاف کو بھی ایک ”پروڈکٹ“ بنا دیا ہے،جسے بآسانی خریدا جا سکتا ہے،بس خریدنے والے کے پاس بولی لگانے کی استعداد ہونی چاہیے۔

ابھی چند روز پہلے ایک اعلیٰ عدالت کے معزز جج نے یہ کمنٹس دئیے ہیں کہ انصاف کو نچلی سطح پر دستیاب ہونا چاہیے، کیونکہ ہر شخص اعلی عدالتوں سے رجوع کرنے کی مالی سکت نہیں رکھتا۔ مہنگے وکیل اور مخصوص شہروں میں واقع ہونے کی وجہ سے یہ عدالتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جاتی ہیں،لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اعلیٰ سطح پر اس بات کا احساس ہونے کے باوجود کہ انصاف عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو چکا ہے اور اسے نچلی سطح پر یقینی بنایا جانا چاہئے تاکہ عدل و انصاف پر عوام کا اعتماد برقرار رہے، بے انصافی کے ٹھہرے ہوئے پانی میں کوئی ارتعاش پیدا نہیں ہو سکا،جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بے انصافی کے ہاتھوں لگنے والے احساس محرومی اور اس عدم تحفظ کے زخم گہرے ہوتے جارہے ہیں، مگر افسوس ان زخموں کی کسی کو پرواہ نہیں۔ وہ مسیحا بھی ان زخموں کو قابل اعتنا نہیں سمجھتے،جنہوں نے قوم کی نمائندگی، مسیحائی اور حکمرانی کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ وہ انصاف عام کرنے کا ڈھنڈورا ضرور پیٹتے ہیں، لیکن اپنی اپنی سطح پر انہوں نے کبھی اپنے ارد گرد بسنے والے انسانوں کے لئے انصاف کو عام کرنے کی کوشش نہیں کی۔ کراچی اور لاہور کے واقعات پر غور کیا جائے تو وہ بھی قانون کی بے اثری اور انصاف کی عدم موجودگی ہی کا نتیجہ نظر آئیں گے۔ اگر اس لاقانونیت کی آگ کو نہ روکا گیا تو یہ سب کچھ جلا کر راکھ کر دے گی۔ ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...