ایک اور امریکی فتنہ!

ایک اور امریکی فتنہ!
ایک اور امریکی فتنہ!

  

یہ امریکی واقعی ”مادر پدر آزاد“ قوم ہیں (محاورةً بھی اور لغواً و لساناً بھی) نت نئی قبیح حرکتیں ان کو سُوجھتی رہتی ہیں اور نت نئے قبیح تر تجربے کرتے رہتے ہیں۔ نہ ان کو دنیا کی پروا ہے، نہ عقبیٰ کی۔ نہ ان کا دین نہ مذہب، سیکولر عقیدے کی تمام انتہاو¿ں کو پار چکے ہیں۔ بیٹی اور باپ اور ماں اور بیٹے کے رشتے کا تقدس ان کے لئے بے معنیٰ ہے، وہ جانوروں کی طرح صرف یہ جانتے ہیں کہ فلاں مذکر ہے اور فلاں مو¿نث ہے۔ان کے سینوں میں ایسا دل ہے جو جسم میں دورانِ خون کے لئے محض ایک پمپ کا کام کرتا ہے، ایسا دل نہیں جو جذبات کا منبع ہو، جو شرفِ انسانی کا سرچشمہ ہو، جو نیک و بد میں تمیز کر سکے، جو فنا و بقاءکا ادراک رکھتا ہو اور جو خدا اور بندے کے مقامات کا شناسا ہو۔ انہیں بھلا کیا خبر کہ جو تیشہ، پتھر پر گرتا ہے، اس کی آواز اور ہوتی ہے اور جو جگر پر گرتا ہے، اس کی صدا کچھ اور ہوتی ہے!.... مرزا جانِ جاناں مظہر کا یہ شعر ان کی اسی کیفیت کا مظہر ہے:

صدائے تیشہ کہ برسنگ میخورد دگر است

خبر بگیر کہ آوازِ تیشہ و جگر است

مَیں نے جب سے اس امریکی ملعون سام بیسائل(Sam Bacile) کی دریدہ دہنی کی خبر اخباروں میں پڑھی ہے، لفظ ”ملعون“ میری نگاہ میں بہت حقیر، بلکہ شریف المعانی لگنے لگا ہے۔ ایشیائی زبانوں میں کوئی ایسا لفظ نہیں، جو اس سوختہ نصیب کی بدکرداری کا شارح کہلا سکے۔ مَیں نے کالم کی ابتداءمیں جن فقرات کا سہارا لیا ہے، ان کے مفہوم کی جھلک بیسائل کے کریکٹر میں دیکھی جاسکتی ہے۔ یہ امریکی یہودی صرف اپنی نہیں، پوری کی پوری امریکی قوم کے خبثِ باطن کا آئینہ دار ہے۔ اوباما نے اگرچہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اس کی مذمت کی ہے، لیکن ساتھ ہی اس حملے کی مذمت بھی کی ہے کہ جو فدایانِِ رسولﷺ نے تریپولی میں امریکی سفارت خانے پر کیا اور جس میں امریکی سفیر سٹیوینز(Stevens) مارا گیا۔ تین اور امریکی بھی جھلس کر ہلاک ہوگئے اور سارا امریکی سفارتخانہ جل کر خاکستر ہوگیا۔ اس سام بیسائل کا گرو، وہی ملعون ٹیری جونز (Terry Jones) ہے، جس کے نام سے دنیائے اسلام کا بچہ بچہ واقف ہوچکا ہے۔ فلوریڈا کے اسی پادری کے کہنے پر اس امریکی یہودی بیسائل نے ڈیڑھ گھنٹے کی وہ فلم بنائی، جس کا نام ”مسلمانوں کی بے گناہی(Innocence of Muslims) رکھا، جس پر 50 لاکھ ڈالر لاگت آئی اور جسے امریکہ کے 100 یہودی دولت مندوں نے مل کر فنانس کیا۔ بطور اشتہار اس فلم کا تیرہ چودہ منٹ کا ایک کلپ یو ٹیوب پر چڑھایا گیا جس میں اس ہستی کے کردار کو موضوع بنایا گیا جو جانِ کائنات ہے اور جو دنیا بھر کے مسلمانوں کا ملجا و ماوا ہے۔ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔

 جب سے مَیں نے آنحضور کے کردار کے بارے میں فلم میں کہے گئے الفاظ کا متن پڑھا ہے، میرا رواں رواں انتقام کی آگ میں جل رہا ہے.... جو الفاظ آپ رسول اللہﷺ کی مکی اور مدنی زندگی میں آپ کے بدترین دشمنوں نے بھی آپ کے بارے میں کہے اور جب سے اب تک جتنے بھی اسلام دشمن ملعونوں نے جو کیچڑ بھی آپ کی ذات اقدس پر اُچھالا، وہ تمام کا تمام مل کر بھی بیسائل کی اس ہرزہ سرائی کا عشرِ عشیر نہیں بن سکتا جو اس نے اس فلم میں کی ہے۔

یہ سب کچھ نو گیارہ کی گیارہویں برسی پر آن ایئر کیا گیا جس کو دیکھ اور سن کر ساری مسلم اُمہ میں غیظ و غضب کی لہر دوڑ گئی۔ مصر، یمن، تیونس، افغانستان، بنگلہ دیش، پاکستان سارے کے سارے اس کی لپیٹ میں آگئے.... دوسری طرف امریکی صدر کا ”ردعمل“ ملاحظہ کیجئے کہ انہوں نے اپنی بحریہ کے دو تباہ کن جہاز لیبیا کی طرف روانہ کر دئیے!....آپ نے اگر اوباما کا ردعمل تری پولی کے امریکی سفارت خانے پر حملے کے فوراً بعد سنا اور دیکھا ہے تو آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ اوباما کی، آواز اور لب و لہجے میں اعتذار کی کوئی ہلکی سی جھلک بھی نہیں تھی۔

ہمارے میڈیا نے اس موضوع پر ٹاک شو کئے ہیں اور اخباروں نے ادارئیے قلمبند کئے ہیں اور واقعہ کی شدت سے مذمت کی ہے، لیکن مَیں سوچتا ہوں کہ کیا مذمت کے چند لفظ لکھ یا بول دینا، رسولِ خدا کی جناب میں اتنی بڑی گستاخی کرنے والے کا جواب ہے یا اس کے علاوہ کچھ اور بھی ہو سکتا تھا؟.... بڑے عجیب عجیب خیال اور سوال میرے ذہن میں آتے رہے ہیں، مثلاً:

-1 کیا صرف لیبیا، مصر اور یمن ہی مَیں عرب مسلمان بستے ہیں؟.... کیا تیل پیدا کرنے والے دوسرے عرب ممالک مسلمان نہیں؟.... کیا سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین وغیرہ میں بھی کوئی امریکہ مخالف مظاہرہ ہوا ہے؟

-2 سعودی عرب تو ناموسِ رسالت کا سب سے بڑا پاسبان ہے۔ وہاں مکہ بھی ہے اور مدینہ بھی۔ وہیں پر حضرت محمدﷺ آسودئہ خاک ہیں۔ کیا ریاض میں امریکی سفارت خانہ نہیں؟.... کیا وہاں کوئی امریکی کام نہیں کرتا؟.... کیا سعودی عرب کے سارے کے سارے تیل کے کنویں سعودی انتظامیہ کے کنٹرول میں ہیں اور ان کے آس پاس کوئی ایک امریکی بھی نہیں رہتا؟

-3 کیا 57 مسلمان ملکوں کی او آئی سی یہ سمجھتی ہے کہ بیسائل نے کوئی گناہ نہیں کیا؟.... کیا اقوام متحدہ صرف غیر مسلموں کے لئے بنائی گئی تھی؟.... کیا امریکہ کے خلاف ہماری او آئی سی کوئی قرار دادِ مذمت سلامتی کونسل میں نہیں لاسکتی؟.... کیا دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کے عقائد پر حملے سے دنیا کا امن خطرے میں نہیں پڑ گیا؟.... کیا اسامہ بن لادن ڈاکٹرین کی تجدید کی جراثیم اس فلم میں پوشیدہ نہیں ہیں؟

-4 کیا ایسا تو نہیں کہ مغرب کی عیسائی دنیا، اس قسم کی فحش حرکات سے اسلامی دنیا کی غیرت اور حمیت کا ٹیسٹ لینا چاہتی ہے؟.... کیا فلم کا یہ ٹریلر اسی ٹیسٹ کا بیرومیٹر تھا؟

-5 کیا امریکہ، تیل پیدا کرنے والے ان عرب ممالک کے باشندوں کا ردعمل معلوم کرنا چاہتا ہے جو ”عرب سپرنگ“(Arab spring) کی بادِ بہاری سے فیض یاب نہیں ہوئے؟.... امریکہ کا چونکہ سب سے بڑا مفاد اس خطے میں تیل کا مفاد ہے کہ اس کی ساری اکانومی کا داومدار اسی تیل پر ہے، اس لئے آج اگر یہ تیل بند ہو جائے تو امریکہ اور یورپ، آنے والے چند ہفتوں یا زیادہ سے زیادہ چند مہینوں میں، اوجِ فلک سے پاتال میں جاگریں گے۔ مغرب کے لئے یہ منظر سوہانِ روح ہوگا۔ امریکہ جس مقصد(تیل) کے لئے عراق میں آیا تھا۔ اس کا وہ مقصد کماحقہ پورا نہیں ہوا اور جس مقصد کے لئے افغانستان میں آیا تھا (پاکستان کو ڈی نیوکلیئرائز کرنا) وہ بھی پایہءتکمیل کو نہ پہنچا.... اُدھر ایران اپنے ارادوں پرڈٹا ہوا ہے۔ پاکستان نے چین کو دعوت دے رکھی ہے کہ گوادر کا کنٹرول سنبھال لے.... چین، پاکستان، ایران کے اس اتحاد کے خلاف امریکہ چاہتا ہے کہ اس عرب دنیا کا ردعمل بھی معلوم کرے کہ جہاں اس کے اصل مفادات ہیں۔ ان مفادات میں ”تیل اور پانی“ دونوں شامل ہیں، یعنی تیل کے کنویں اور پانی کے وہ عرب سمندر کہ جہاں امریکی بحری بیڑے لنگر انداز رہتے ہیں۔ امریکہ کی50 ریاستیں تو جس جگہ موجود تھیں، وہیں ہیں اور وہیں رہیں گی، لیکن اس کے نو بحری بیڑے بھی اس کی نو موبائل ریاستیں ہیں جو سینہءآب پر مسلمان ممالک کے بہت قریب رواں دواں رہتے ہیں۔ ان کو وہاں سے نکالنے کی ایک صورت تو ان عرب ممالک کے ”شیوخ“ کو نکالنا تھا، جنہوں نے بقول شیخ رشید ستو اور دھنیا پی رکھے ہیں اور دوسری صورت عرب عوام ہیں، جن کی غیرتِ ایمانی کو کچوکے لگا کر ٹیسٹ کیا جا رہا ہے کہ آیا وہ بھی ”ستو و کشنیز نوش“ ہیں یا کسی عرب بیداری یعنی ”عرب سپرنگ“ کا مظاہرہ کرتے ہیں....؟

”مسلمانوں کی بے گناہی“ نام کی اس فلم کے نام میں جو طنز پوشیدہ ہے، اس کو سمجھنے کے لئے کسی ارسطو یا افلاطون کی ضرورت نہیں۔ راقم السطور نے ان کالموں میں کئی بار سوال اٹھایا ہے کہ مسلمانوں کی ”ناٹو“ کہاں ہے؟ ان کی اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کہاں ہے؟ اور اگر مسلم امہ کا سب کچھ مکہ و مدینہ ہے تو کیا ان دو متبرک شہروں میں مُسلم امہ کی یو این او اور سیکیورٹی کونسل نہیں بنائی جاسکتی؟

شاعرِ مشرق نے تو عربوں کو مخاطب کرتے ہوئے ایک سو برس پہلے کہہ دیا تھا:

اے ز افسونِ فرنگی بے خبر

فتنہ ہا در آستینِ او نگر

از فریب او اگر خواہی اماں

اُشترانش را ز حوضِ خود براں

(اے امتِ عربیہ کہ تو افرنگی کے افسون سے بے خبر ہے، اس افرنگی کی آستینوں میں چھپے ہوئے فتنے دیکھ۔ اگر اس کے فریبوں سے امان چاہتے ہو تو اس کے اونٹوں کو اپنے حوضوں سے باہر ہانک دو)

قارئین! اچھی طرح جانتے ہیں کہ عربوں کے حوضوں سے اقبال کی مراد سعودیوں کے تیل کے کنویں تھے!  ٭

مزید : کالم