علی موسیٰ گیلانی، کیا گرفتاری کیا رہائی ہے

علی موسیٰ گیلانی، کیا گرفتاری کیا رہائی ہے
علی موسیٰ گیلانی، کیا گرفتاری کیا رہائی ہے

  

سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے قومی اسمبلی کے رکن علی موسیٰ گیلانی25ستمبر تک عبوری ضمانت پر رہا کر دیئے گئے ہیں، ان کی گرفتاری ایفی ڈرین کیس میں سپریم کورٹ کے گیٹ پر ہوئی اور اے این ایف کے وردی پوش اور سفید پارچات والوں نے مل کر اُن کو زبردستی کار سے باہر نکالا، یوں وہاں دھینگا مشتی ہوئی جسے کیمرے کی آنکھ نے محفوظ ہی نہیں کیا ، چند لمحوں بعد یہ منظر آن ایئر تھا جسے ناظرین نے دیکھا۔ علی موسیٰ گیلانی اور مخدوم شہاب الدین دونوں ہی حفاظتی ضمانت پر تھے کہ راولپنڈی کی عدالت نے ان دونوں کی عبوری ضمانتیں منسوخ کر دیں۔ بہرحال یہ حضرات گرفتار نہیںہو سکے تھے اور اے این ایف کے ریکارڈ کے مطابق مفرور قرار پا گئے۔ مخدوم شہاب الدین نے دو روز قبل عدالت عظمیٰ سے ضمانت کروا لی اور ان کی ضمانت قبل از گرفتاری25ستمبر تک منظور کر لی گئی۔ اس کے بعد علی موسیٰ گیلانی کے منتظر تھے کہ وہ کب اس عمل سے گزرتے ہیں۔ بہرحال انہوں نے معروف قانون دان، سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا کی وساطت سے درخواست ضمانت دائر کی جسے جمعہ کے روز سنا جانا تھا اور علی موسیٰ گیلانی اسی سماعت کے لئے سپریم کورٹ آئے۔ وہ اپنی کار میں تھے کہ جونہی عدالت عظمیٰ کے دروازے پر پہنچے وہاں منتظر اے این ایف کے عملے نے اُن کی کار کو روک کر انہیںگرفتار کرنے کی کوشش کی، اُن کی طرف سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا گیا تو عملے نے زبردستی کی اور اُن کو گھسیٹ کر باہر نکالا اور پھر اپنی گاڑی میں ڈال کر لے گئے، جہاں کیمرے نے یہ سین محفوظ کیا ، وہاںعدالت عظمیٰ کے احاطے اور اردگرد موجود حاضرین نے منہ میں انگلیاں ڈال لیں کہ کیا بلندی اور کیا .... ہے۔

علی موسیٰ گیلانی کے وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا بھی موجود تھے وہ فوجداری کے ماہر قانون دان ہیں۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ کہہ کر عدالت عظمیٰ کے گیٹ سے یہ گرفتاری توہین عدالت ہے وہ اندر کورٹ روم میں چلے گئے جونہی فاضل جج حضرات نے سماعت شروع کی تو انہوں نے علی موسیٰ گیلانی کی گرفتاری کے بارے میں بتایا اور مو¿قف اختیار کیا کہ درخواست ضمانت دائر کی جا چکی، جس میں نوٹس ہو گیا تھا اور علی موسیٰ گیلانی اس کے جواب میں خود کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لئے آئے تھے۔ انہوں نے سرنڈر کا لفظ استعمال کیا اور کہا کہ یہ صریحاً توہین عدالت ہے ۔ فاضل عدالت نے سخت نوٹس لیا اور فوری حکم جاری کیا کہ آدھ گھنٹے کے اندر اندر علی موسیٰ گیلانی کو عدالت میں پیش کیا جائے اور پھر ایسا ہی ہوا جس کے بعد دلائل دیئے گئے اور عدالت نے اے این ایف کے عملے کی سرزنش کرتے ہوئے وہیں عبوری ضمانت منظور کر لی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ مخدوم شہاب الدین ضمانت قبل از گرفتاری اور علی موسیٰ گیلانی بعد از گرفتاری ضمانت پر ہیں۔

قومی اسمبلی کے منتخب رکن علی موسیٰ گیلانی نے اس معاملے کے حوالے سے کافی گفتگو کی اور میڈیا والوں کے سخت سوالات کا بھی سامنا کیا ۔ اُن کا مو¿قف تھا کہ وہ اپنے والد کی ہدایت پر بیرون ملک سے واپس آ گئے تھے اور باقاعدہ تفتیش میں شامل ہوئے۔ قریباً آٹھ بار ان کو بلایا گیا اور وہ ہر بار اے این ایف کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہو کر سوالات کے جواب دیتے رہے۔ اس کے باوجود اُن کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا کہ وہ زخمی بھی ہوئے اور کپڑے بھی پھٹے، جواب میں اے این ایف کا مو¿قف بھی سامنے آیا جو یہ ہے کہ اگر ملزم کار سے باہر ہی نہ نکلے تو پھر کیا کِیا جائے۔ علی موسیٰ گیلانی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیںکی گئی یہ وضاحت اپنی جگہ، لیکن اس کا کیا جواب ہے کہ علی موسیٰ گیلانی سے پہلے مخدوم شہاب الدین بھی ضمانت کے لئے آئے تھے اُن کے ساتھ کوئی تعرض نہ ہوا اور علی موسیٰ گیلانی کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُن کو ہر قیمت پر گرفتار کرنا مقصود تھا اور شاید ایسا کرنے سے کسی کی انا کو تسکین ہونا تھی، کیونکہ جب یہ کیس شروع ہوا تو انتظامیہ کی طرف سے تفتیشی افسروں کو کئی بار تبدیل کیا گیا اور غیر معمولی طور پر تبدیل ہونے والے صاحب خود سائل بن کر عدالت عظمیٰ میں گئے اور واپس اپنی تعیناتی کا حکم حاصل کیا ، اب علی موسیٰ گیلانی کہتے ہیں کہ تفتیشی ٹیم کے سربراہ خود اُن کے خلاف گواہ ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کا ذہن پہلے ہی سے بنا ہوا ہے اور وہ ان(موسیٰ) کو مجرم تصور کرتے ہیں اس لئے ان سے غیر جانبداری کی توقع عبث ہے بہرحال عدالت عظمیٰ کے فاضل بنچ نے اس ساری کارروائی کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا اور اہل کاروں کی سرزنش بھی کی۔

یہ سب دیکھا اور لکھا تو اس لئے کہ اس دُنیا میں لینا دینا چلتا رہتا ہے ۔ ایک وقت تھا کہ سید یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے اُن کا حکم چلتا تھا تو اُن کے صاحبزادگان کا بھی رتبہ تھا اور پھر سید یوسف رضا گیلانی پارٹی پالیسی پر قربان ہو کر سابق وزیراعظم اور سزا یافتہ ہو گئے وہ اس سزا کو تسلیم نہیں کرتے البتہ یہ کیا کہ اپنی نشست سے اپنے صاحبزادے کو منتخب کرا دیا اور کہا ”یہ عوام کی عدالت کا فیصلہ ہے “ اب علی موسیٰ گیلانی ضمانت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ والد نے کہا تو وہ آئے ہم سب کو عدلیہ پر اعتماد ہے اور آج تو میرا یقین اور بھی پختہ ہو گیا ہے ، والد اور صاحبزادے کی بات میں باریک سا فرق تلاش کیا جا سکتا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ پہلے ہی سے ایسا محتاط رویہ اختیار کیا جاتا۔

اب صورت حال یہ ہے کہ اے این ایف نے جو کرنا تھا کیا اور مقدمہ کی پیروی بھی اسی ”جذبے“ کے تحت ہو گی۔ ادھر سے بھی پیغام دیئے گئے ہیں وہ یہ کہ سپیکر نے ایک حکم جاری کیا جس کے تحت علی موسیٰ گیلانی کو پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا رکن نامزد کر دیا گیا اور اب وہ خود تحقیق کرنے والے اراکین میں شامل ہیں۔

معاملہ چونکہ عدالت میں ہے اس لئے ہم اس بارے میں کوئی رائے نہیں دیں گے، لیکن جو بات عوام کہہ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ” کیا عروج اور کیا زوال ہے “ اگر عروج کے زمانے میں احتیاط کی جائے تو بعد میں ایسی صورت حال سے بچا جا سکتا ہے ، ہمارے خیال میں اے این ایف کا رویہ بھی کچھ منتقمانہ ہی محسوس ہوا جو ان کو بھی زیب نہیں دیتا۔ علی موسیٰ گیلانی ملزم ہی سہی، پھر بھی عوامی نمائندہ تو ہیں۔ اُن کے خلاف جرم ثابت کیا جائے تو یہ عدالت کی صوابدید ہے کہ فیصلہ کیا ہوتا ہے ، کسی تفتیشی ایجنسی کو ایسا عمل زیب نہیں دیتا، جہاں تک ایفی ڈرین کیس کا تعلق ہے تو اس کا نوٹس خود عدالت عظمیٰ نے لیا ہوا ہے اور وہ اس کی سماعت بھی کرے گی اس لئے سارے ہی فریقوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے ، جہاں تک گیلانی فیملی کا تعلق ہے تو اگر الزام ہیں تو وہ جواب دہ بھی ہیں اس لئے ان کو بھی اپنی صفائی دینا ہو گی۔ گزشتہ روز صدر آصف علی زرداری نے بھی اظہار ہمدردی کیا ۔ سید یوسف رضا گیلانی کو فون کر کے خصوصی طور پر بلایا اور اپنے ساتھ اسلام آباد لے گئے جہاں ان معاملات کے حوالے سے غور کر کے لائحہ عمل مرتب ہو گا، ہم تو یہی کہیں گے کہ اگر اب عدالت عظمیٰ پر اعتماد کیا اور پہلے سے بھی یقین پختہ ہو گیا ہے تو پھر اپنے وکلاءحضرات کے توسط سے دفاع بھی عدالت میں کریں اور صفائی دیں۔ عدالت کا فیصلہ جو بھی ہو اسے تسلیم بھی کیا جائے۔     ٭

مزید : کالم