ڈینگی، آدھی آستین اور فری پارکنگ

ڈینگی، آدھی آستین اور فری پارکنگ
ڈینگی، آدھی آستین اور فری پارکنگ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اگر ان دنوں آپ کو کسی بھی کام سے لاہور میں لاٹ صاحب کے دفتر جانے کا اتفاق ہو تو سینئر افسروں کی روزانہ حاضری (یا غیر حاضری) کا گوشوارہ دیکھ کر یہ اندازہ آسانی سے لگا سکتے ہیں کہ انسداد ڈینگی کی مہم اپنی شدت کے اعتبار سے اس وقت عروج پہ پہنچ چکی ہے ۔ ہمارے صوبائی دارالحکومت میں سکول کالج ، سرکاری دفاتر ، تجارتی املاک اور مچھروں کی دیگر افزائش گاہیں حکومتی چھاپہ ماروں کی زد میں ہیں ، جن کی کمان سیکرٹری ، ایڈیشنل سیکرٹری اور ڈائرکٹر جنرل کے مرتبے کی شخصیات کر رہی ہیں ، اور وہ بھی اس بھر پور جذبے کے ساتھ کہ ’خوچہ مرے گا نہیں تو ڈرے گا تو سہی ‘ ۔ یوں ، موجودہ متاثرین ڈینگی کا پچھلے سال کی تعداد سے موازنہ کریں تو جنگی بنیادوں پر جاری یہ مہم وسط ستمبر تک انسانی اور مالی وسائل کا ضیاع ثابت نہیں ہوئی ۔

٭٭٭

 یہ حکومتی کوششیں اپنی جگہ ، لیکن کوئی بھی جسمانی ، نفسیاتی یا تہذیبی عارضہ ہو ، اس سے بچاﺅ کی تحریک عوامی شمولیت کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ چنانچہ یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ سماجی طبقے ، رہائشی علاقے اور عمر کے لحاظ سے شہریوں کو کس کس ذریعے سے کیا کیا ہدایات دی گئیں اور ان پر کہاں تک عمل ہوا ۔ جیسے ’بیاد صحبت نازک خیالاں ‘ کے مصنف ڈاکٹر آفتاب احمد خان کے بقول ، کسی زمانے میں صوفی غلام مصطفے تبسم کو ہر صبح ننگے پاﺅں شبنم آلود گھاس پر ٹہلنے کی ایسی عادت تھی کہ اس سہولت کی کمیابی کے باعث کراچی جانے سے گریز کرنے لگے ۔ اب حالات بدل گئے ہیں اور ملک کی ہر بڑی سیرگاہ میں گھاس پہ چلنے کی ممانعت ہے ، جس سے تمام صوبوں میں یکساں طور پر حسن فطرت کی حفاظت ہو رہی ہے ۔ 

٭٭٭

 اس سے یہ مراد نہیں کہ ہر بڑے باغ میں نصب تحریری اعلان ناموں کا تعلق صرف نباتات کے تحفظ ہی سے جوڑا جائے ۔ نہیں ، میرے شہر کی ’اصلی تے وڈی‘ جی او آر کو ، جو انگریز نے اپنے ہاتھ سے بنائی تھی ، باقی ماندہ لاہور سے جدا کرنے والے عظیم الشان پارک میں ایک سفید بورڈ پر جلی حروف میں درج ہدایات آپ کے عمومی چال چلن کے بارے میں ہیں ۔ مثال کے طور پر یہ شق کہ ’غنڈہ گردی ، ہلڑ بازی ، خواتین پہ آوازے کسنا اور بد تمیزی ‘ نہ صرف ممنوع ہیں بلکہ ان میں ملوث افراد کو پولیس کے حوالے بھی کیا جائے گا ۔ ایک ننھے منے بورڈ پر یہ عبارت بھی ہوا کرتی تھی کہ باغ کے ٹریک پر خواتین اونچی ایڑی کے جوتے پہن کر نہ چلیں ۔ اب یہ بورڈ دکھائی نہیں دیتا، کیونکہ خواتین اس سے ہدایت پا کر ’جوگر پوش‘ ہو چکی ہیں اور ان کے جوتوں سے ٹریک کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ۔

٭٭٭

 ذرا غور سے کام لیں تو آج کل ایک اخباری ادارے کے تحت ہونے والے سچ مچ کے دنگل کے اشتہارات اس مین گیٹ کی رونق کو بڑھا رہے ہیں جہاں سے جدید اردو روزمرہ کے مطابق ، عوام باغ میں گھستی ہے ۔ ویسے مزہ لینے کا موڈ ہو تو آئیے جی او آر ’خاص‘ والے راستے سے پولو کے گھوڑوں اور ’صاحب لوگ‘ کے ہمراہ اندر داخل ہو کر دیکھتے ہیں ۔ دروازے سے پرے جگہ جگہ ’احتیاط برائے ڈینگی بخار ‘ کے پوسٹر ہیں جن میں تصویری خاکوں کے ساتھ درج ہے کہ ’آدھے بازو کی شرٹ اور نیکر کا استعمال مت کریں ‘ اور ’ اپنے بدن کو مکمل ڈھانپ کر رکھیں ‘ ۔ بات واضح ہے اور سمجھ میں آنے والی ، مگر یہ کیا ؟ ڈینگی کے موسم میں ’آفیسر زگیٹ‘ پہ پوری طرح سایہ فگن ’پینڈو‘ رنگوں اور ’خیری میری‘ سائز والے بینر کے بھدے حروف۔ فرماتے ہیں ’بحکم وزیر اعلیٰ پنجاب ، پارکنگ فری ہے‘ ۔

 ٭٭٭

 کوئی غیر قانونی حرکت سرزد ہوتی دیکھ کر آپ یا تو پولیس سے رجوع کرتے ہیں یا عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی سوچ سکتے ہیں ۔ یہاں تو خلاف قانون کچھ ہوا ہی نہیں ۔ پھر بھی سوال یہ ہے کہ بھائی جان ، اس سائز کا یہ فخریہ اعلان صرف ایک ہی مخصوص گیٹ پہ کیوں جبکہ اس سے کہیں بڑا کار پارک باغ کے دوسری جانب واقع ہے ۔ اس کے علاوہ رنگ ، الفاظ اور کتابت کا اسلوب بھی تو متن کا حصہ ہوا کرتا ہے ، خاص طور پہ جب ’وقوعہ ‘ سے صرف ڈیڑھ سو گز دور بیٹھے ہوئے ایک ایسے شخص کا حوالہ دیا گیا ہو جس کو آپ کچھ بھی کہہ لیں ، ’ذوق حسن و زیبائی سے محرومی ‘ کا الزام نہیں دے سکتے ۔ یہی نہیں ، اس اشتہار کو دیکھ کر رواں حکومتی ترجیحات کے بارے میں بھی شکوک سر اٹھانے لگتے ہیں ، کیونکہ اس کے ’کوہجے پن ‘ نے انسداد ڈینگی کی با وقار تشہیری مہم کو گہنا کر رکھ دیا ہے ۔

٭٭٭

 بھارت کے ایک وزیر اعظم مرار جی ڈیسائی نے کہا تھا ’جمہوریت کے خلاف جرائم پر سزا نہیں دی جاسکتی ، مگر ان کے اثر کو زائل کرنا ضروری ہوا کرتا ہے ۔ مَیں نے بھی اپنی جمالیات کو درست کرنے کے لئے فوری طور پہ ایک اضطراری حرکت کی ، لیکن اس ’دیوانگی‘ میں دانشمندی کا بھی ایک پہلو تھا ۔ حرکت تھی کسی سرکاری ادارے ، این جی او یا تھنک ٹینک کی مدد کے بغیر یہ تعین کرنے کی کوشش کہ اونچی ایڑی کے جوتوں کی طرح ، پارک میں جگہ جگہ آویزاں احتیاط برائے انسداد ڈینگی کا ’سیر کنندگان‘ پہ کتنا اثر پڑا ہے ۔چنانچہ پوری اور آدھی آستین والے مرد و خواتین کے تناسب کا جائزہ لینے کا عمل بدھ کی شام ساڑھے چھ بجے شروع ہوا ۔ ٹریک تھا ریس کورس پارک کا اور میری سمت تھی گھڑی کی سوئیوں کے الٹ ۔ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں پر کوئی بارہ منٹ میں سامنے سے آنے والے پچاس افراد پورے ہوگئے تو مَیں نے گنتی روک دی ۔

٭٭٭

 اب مکمل اور نصف آستینوں کا الگ الگ ٹوٹل جو کیا ہے تو ڈینگی ہدایات کے تحت پورا لباس پہننے والے صرف آٹھ نکلے جبکہ آدھے بازﺅں والے ’بے ہدائیتوں‘ کی تعداد ، بلا امتیاز صنف و رنگ و ملت ، پچاس میں سے بیالیس تھی ۔ سائینسی زبان کا رعب ڈالنے کے لئے مَیں اسے باالترتیب سولہ اور چوراسی فیصد بھی کہہ سکتا ہوں ۔ یا اللہ ، یہ کیا ہوا ؟ عجیب بے بسی محسوس ہو رہی تھی کہ اہل لاہور میں معقولیت کی راہ پہ چلنے والوں کی شرح اتنی کم ہے ۔ وہ بھی ایک ایسے پارک میںجہاں کراں تا بہ کراں ’ پڑھے لکھوں‘ کا ہجوم رہتا ہے ۔ ان میں امپورٹڈ ٹی شرٹ پہننے والے بعض ایسے اصحاب بھی ہیں جو صبح کے اوقات میں ڈینگی مچھروں کے خلاف سرکاری دستوں کی کمان کرتے ہوئے پائے گئے ۔ تو کیا یہ بڑے افسر بھی مملکت کے ساتھ بیک وقت وہی ’لاگ‘ اور ’لگاﺅ‘ رکھتے ہیں جس کی جڑیں انگریز ی دور میں فوجی بھرتی اور مغلوں کے عہد میں منصب داری نظام کی ’پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ‘ تک پھیلی ہوئی ہیں ؟

٭٭٭

 ڈینگی احتیاطوں کے ضمن میں یہ ابتدائی تحقیق خلاف توقع اتنی عبرت ناک تھی کہ مَیں اپنے دل کو اس بوڑھی میم کی مثال پر عمل کرنے سے بمشکل روک سکا جس نے انگلستان میں کسی لمبے چوڑے مارکیٹ سروے کے لئے مجھ سے کاغذوں کے کئی پلندے بھروائے تھے ۔ پھر جب اسے یہ محسوس ہوا کہ میرا اور میری بیوی کا رہن سہن ، کار کا ماڈل اور تفریحی مشاغل ہمارے تعلیمی اور طبقاتی کوائف کی سطح سے کہیں نیچے ہیں تو بڑی معصومیت سے کہنے لگی کہ اگر تمہارا عہدہ ذرا سا گھٹا دوں تو میری ریسرچ حقیقت سے قریب تر ہو جائے گی ۔ مَیں نے ضلع ڈیرہ غازی خان میں متعین اس پولیس اہلکار کا سوچ کر اجازت دی جس نے انظباتی کارروائی کے جواب میں لکھا تھا کہ ’سخی سرور سے آگے تھانہ نہ ہے اور کانسٹیبل سے نیچے رینک نہ ہے ‘ ۔

٭٭٭

 تو اب کیا کیا جائے ؟ کیا وہی گیا جو دور جاہلیت کے عرب حسب منشا فال نہ نکلنے کی صورت میں کیا کرتے تھے ۔ یعنی جمعہ کی شام ایک بار پھر اپنا تحقیقی جائزہ دہرایا ۔ تجربہ گاہ وہی ریس کورس پارک ، طریق کار پہلے والا ، البتہ وقت آٹھ بجے رات جب معمول کی بجلی بند تھی، مگر سولر لائیٹس اتنی تھیں کہ ’ملبوس شماری‘ ہو سکے ۔ اب کے رزلٹ ذرا ’خوش ذائقہ‘ نکل آیا ، یعنی پچاس میں سے سترہ اور تینتیس ، جسے دوگنا کرلیں تو ہدایت پانے والے سولہ سے چونتیس فیصد پہ آ چکے تھے ۔ ہمارے زمانے کے امتحانی معیار سے تو یہ بھی تھرڈ ڈویژن ہی بنی ، مگر خبر بنانے والے تو معمولی سی لسانی ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ’مکمل ملبوسات کی شرح میں انقلاب ، تعداد دوگنی سے زیادہ ہو گئی‘ ۔ نیوز ایڈیٹر نے شماریات کا مضمون پڑھ رکھا ہو تو وہ چوراسی اور چھیاسٹھ کے حاصل تفریق پر مبنی سرخیوں کو اور امید افزاءبھی بنا سکتا ہے ۔

٭٭٭

 اس مرحلے پر آپ شائد ایک کہنہ مشق صحافی سے کسی چھوٹی موٹی پیش گوئی کی توقع بھی کر رہے ہوں ۔ تو ، جناب ، مجھے لگتا ہے کہ ڈینگی کے معرکے میں پیش بینی اور پیش بندی کی بدولت اس مرتبہ مچھر کے مقابلے میں انسان کا پلہ بھاری ہے ۔ یہ توقع بھی ہے کہ میرا یا کسی اور کا آئندہ ملبوساتی سروے باغوں میں مکمل لباس کی بتدریج بڑھتی ہوئی مقبولیت کو ظاہر کرے گا ، اس لئے کم نہیں ہوگی کہ تب تک سردیاں آ گئی ہوں گی اور ’فری پارکنگ ‘ والا بینر بھی پھٹ چکا ہو گا ۔ یوں ہم سیر گاہوں کے باہر پوری اور آدھی آستینوں کی جبری چیکنگ کر کے یہ ثابت نہیں ہونے دیں گے کہ ’ڈنڈہ پیر اے وگڑیاں تگڑیاں دا‘ یا یہ کہ ہمارے یہاں سارے فرائض مملکت کے کے کرنے کے ہیں ، میری اور آپ کی کوئی ذمہ داری نہیں ۔   ٭

مزید : کالم