سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے سے صدارتی استثنا ختم نہیں ہوا

سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے سے صدارتی استثنا ختم نہیں ہوا
سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے سے صدارتی استثنا ختم نہیں ہوا

  

توہین عدالت ایکٹ مجریہ 2012ءکو کالعدم کرنے سے متعلق سپریم کورٹ نے اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ اس ایکٹ کو سپریم کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے کے ذریعے3اگست2012ءکو کالعدم کر دیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں مذکورہ ایکٹ میں صدر، گورنر، وزیر اعظم ، وفاقی وزرائ، وزراءمملکت ، وزیر اعلیٰ اور صوبائی وزراءکوآئین کے آرٹیکل248(1) کے تحت توہین عدالت کی کارروائی سے مستثنا قرار دینے کا اقدام آئین کے آرٹیکل 25کے منافی قرار دیا ہے ۔اس آرٹیکل کے تحت قانون کی نظر میں تمام شہری برابر اور مساوی قانونی تحفظ کے حق دار قرار دیئے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 204کے تحت سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس ہر اس شخص کو سزا دے سکتی ہیںجو توہین عدالت کا ارتکاب کرے گا۔یہ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے وہ حصے ہیں جن سے بظاہر یہ تاثر لیا جا سکتا ہے کہ اس فیصلے کے بعد صدر مملکت کے خلاف بھی توہین عدالت کی کارروائی ہو سکے گی۔کیا اب صدر مملکت کا عدالتی ٹرائل کے حوالے سے استثنا ختم ہو گیا ہے ؟۔ اس کا جواب نفی میں ہے۔ عدالت عظمیٰ کے تفصیلی فیصلے کے باوجود صدارتی استثنا کا معاملہ جوں کا توں ہے۔یہ فیصلہ عدالتوں کو صدر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا اختیار نہیں دیتا۔آئین کے آرٹیکل248کے ذیلی آرٹیکلز (2)، (3) اور (4) خالصتاً صدر کے استثنا سے متعلق ہیں جن کی تشریح سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں موجود نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے صرف آرٹیکل248(1)کی تشریح کی ہے ، جس میں کوئی نئی بات اس لئے نہیں ہے کہ عدالت عظمیٰ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو سزا دے کر اس کی عملی تشریح پہلے ہی کر چکی ہے۔توہین عدالت ایکٹ 2012ءمیںان عوامی عہدیداروں کو توہین عدالت کی کارروائی سے مستثنا قرار دیا گیا تھا جنہیں آرٹیکل248(1)کا تحفظ حاصل ہے۔ آرٹیکل 248(1)میں کہا گیا ہے کہ صدر، گورنر، وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور وفاقی و صوبائی کابینہ کے ارکان اپنے عہدہ کے اختیارات کی انجام دہی کے دوران کئے گئے اقدامات کے حوالے سے عدالتوں کے سامنے جواب دہ نہیں ہوں گے۔

اب آتے ہیں آئین کے آرٹیکل248کے ذیلی آرٹیکلز (2)، (3) اور (4)کی طرف ۔ یہ آرٹیکلز خالصتاً صدر مملکت اور گورنرز سے متعلق ہیں، آرٹیکل 248(2) میں کہا گیا ہے کہ ”صدر یا کسی گورنر کے خلاف اس کے عہدے کی معیاد کے دوران کسی عدالت میں کوئی فوجداری مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی پہلے سے زیر سماعت مقدمات جاری رکھیں جائیں گے“۔ آرٹیکل248کا ذیلی آرٹیکل(3)اس کی مزید وضاحت کرتا ہے کہ ”صدر یا گورنر کے عہدے کی معیاد کے دوران کسی عدالت کی طرف سے اس کی گرفتاری یا قید کے لئے کوئی حکم جاری نہیں ہوگا“۔ جبکہ آرٹیکل 248 کا ذیلی آرٹیکل(4) صدر یا گورنر کے ذاتی حیثیت کے کسی فعل پر دیوانی مقدمہ بازی سے متعلق ہے، اس آرٹیکل کے تحت صدر یا گورنرز کو 60دن کا نوٹس دے کر ان کے خلاف دیوانی مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے۔

سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلہ میں یہ تو کہا گیا ہے کہ آرٹیکل25کے تحت قانون کی نظر میں سب برابر ہیں لیکن آرٹیکل 248 کے ذیلی آرٹیکلز (2)، (3) اور (4) کی تشریح کر کے صدر کا استثنا ختم نہیں کیا گیا ہے۔یہ ذیلی آرٹیکلز ابھی تک تشریح طلب ہیں۔ صدرآصف علی زرداری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست زیر سماعت ہے ۔ آئین کے آرٹیکل248(2)اور(3) کے تحت بادی النظر میںاس پر عدالتی کارروائی جاری رہنا مشکل ہے۔ تاہم لاہور ہائیکورٹ توہین عدالت ایکٹ کیس میںسپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کی روشنی میں آرٹیکل248کے ذیلی آرٹیکلز (2) اور(3)کی تشریح کرنے کی مجاز ہے۔عدالت عظمیٰ کا یہ تفصیلی فیصلہ تو صدراتی استثنا کی تشریح کرتا نظر نہیں آ رہا۔

مزید : تجزیہ