ہمیں زندہ ہیرو نہیں چاہیے !

ہمیں زندہ ہیرو نہیں چاہیے !

  

©                                                        ”مَیں نے اس سے یہ کہا ، یہ جو دس کروڑ ہیں،جہل کا نچوڑ ہیں، ان کی فکرسوگئی،ہر امید کی کرن ظلمتوں میں کھو گئی، یہ خبر درست ہے، ان کی موت ہوگئی، بے شعور لوگ ہیں، زندگی کا رو گ ہیں ، اور تیرے پاس ہے ان کے درد کی دوا، مَیں نے اس سے یہ کہا ، یہ جو دس کروڑ ہیں ، جہل کا نچوڑ ہیں©“۔یہ نظم بہادرشاعر حبیب جالب نے ضیاءالحق کے دور میں کہی۔ نظم میں بظاہرعوام پر علامتی تنقید کرکے سابق ڈکٹیٹرکی پالیسیوں کو شدید تنقید کانشانہ بنایا گیا، لیکن سچ یہی ہے کہ ہمارے عوام ایک آدمی کوہیروبناتے ہیں اور جب وہ ہیرو بن جاتا ہے پھر اس کو مار دیتے ہیں، پھر ایک اور ہیرو کی کی تلاش میں اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے بکھرے ہوئے قبیلوں کو ایک قوم کی شکل دی، عزت سے جینے اور اسلامی اصولوں کے مطابق زندگیاں گزارنے کے لئے ایک آزاد ملک کاتحفہ دیا،پاکستان کے پہلے گورنرجنرل بنے اوراپنی تنخواہ صرف ایک روپیہ ماہانہ مقررکی۔ایک ایمبولینس میں جان دی۔کیاہوا، کیسے ہوا، کیوں ہوا؟کسی نے نہیں پوچھااور عوام سو گئے۔

پاکستان کے پہلے نڈروزیراعظم خان لیاقت علی خان سرعام گولی کانشانہ بنے۔کس نے کیوں مارا، کسی نے نہیں پوچھا، ہاں عوام سوگئے۔ محسنِ پاکستان ڈاکٹرعبدالقدیرخان آئے ، جنگوں کے سائے تلے پلنے والی قوم کوطاقتوراقوام میں لاکھڑاکیا۔پھرکیا ہوا؟انہیں پابندِ سلاسل کردیا گیا اور عوام سوگئی۔

ہم ہیرو کو تابوت میں دیکھنے والی قوم ہیں، ہمیں زندہ ہیرو نہیں چاہئیں ۔ پاکستان میں ہیرو وہی ہوتاہے جو مرجائے یاماردیاجائے۔ ہم پھراُسے ہیرومانتے ہیں۔ کچھ کچھوے نمابونے ، مفادپرستوں کاٹولہ عوام کے سامنے ڈگڈی بجاتے ہیں۔ عوام اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اورلَٹھ لے کرہیرو کو ماردتے ہیں ، پھرآپس میں ایک دوسرے سے پوچھنے لگتے ہیں، اس کاقصورکیاتھا؟لیکن اتنی دیرمیں وہ ڈگڈی بجانے والااقتدارکے تخت پربیٹھ کراگلے دس سال تک ڈگڈی بجاتاہے اور عوام سوجاتے ہیں ۔کچھ ایساہی حال پاکستان کے مایہ ناز ٹراماسرجن ڈاکٹررضوان نصیرکاہے ۔ پاکستان کے عوام سڑکوں سے نعشیں اُٹھانے کے عادی تھے، جلی ہوئی نعشیں نکالنے کی عادی تھی، مچھلیوں اور کچھوﺅں کی غزائیں بننے والی نعشیں نکالنے کی عادی تھی، لیکن کیاہوا؟ایک سرپھراانسان آیا، اس نے اپنے ہم وطنوں کی خاطرپاکستان کی سب سے پہلی جدید ایمرجنسی سروس بنائی جو اب تک 21لاکھ سے زائد انسانوں کو ریسکیوکرچکی ہے، جس نے اب تک 47 ہزار سے زائد فائرکیسس پرریسپانڈکیاہے، لیکن وہ غلط انسان ہیں، ارے بھائی اگرکرپشن نہیں کرتے تو نہ کرو، لیکن کرپشن کرنے والوںکو کیوں نکالتے ہو؟ ٹھیک ہے مان لیااگرکسی ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرکے باپ نے خط لکھ ہی دیاکہ اس کابیٹازانی، شرابی اور نافرمان ہے ، تو اس سے آپ کو کیامسئلہ ہے؟

اگرایک ریسکیورکرپشن کرتاہے، قوانین کی خلاف ورزی کرتاہے، اپنی کمزوریاں چھپانے کی غرض سے آپ کے خلاف پراپیگنڈاکرتاہے، تو اُسے کرنے دیجیے۔ پلیزآ پ اپنی نوکری کریں۔صبح سات بجے آفس کو چل دیتے ہیں، پھرسورج سُلاکرجاتے ہیں، اب یہ کیا بات ہوئی؟سرکاری دفترہے کو ئی محبوبہ کاگھرنہیں، جو جانے کانام ہی نہیں لیتے۔ اور یہ میرٹ کیا ہوتاہے؟ خداکےلئے وزیراعلیٰ پنجاب کی نقل مت کریں اور یہ میرٹ ویرٹ چھوڑدیں۔عجیب سے دبلے پتلے ریسکیوربھرتی کر لئے ہیںآپ نے۔کمال کرتے ہیں آپ بھی ، ہمیں موٹے موٹے ریسکیور چاہئیں، جن کی توندیں باہرنکلی ہوئی ہوں، جن کا وزن 200کلو سے کم نہ ہو۔جب باہرنکلیں تو عوام منہ میں انگلیاں ڈال کرکھڑے ہوں کہ یہ ہاتھیوں کی فوج کہاں سے آئی؟خدا کے لئے آپ ہوش کے ناخن لیں، یہ پاکستان ہے۔ہمیں نہیں چاہیے آ پ کاجوش اور جذبہ۔لوگ پہلے بھی مرتے تھے ،اب مرجائیں گے تو کیا ہوگا؟انسان پید ا ہوتاہے مرنے کے لئے چاہے و ہ ٹریفک ایکسیڈنٹ کا شکارہو،چاہے وہ آگ میں جل مرے، چاہے وہ سنسناتی لہروں کا نشانہ بنے ، جیسے تیسے مرے، خداراآپ نے ٹھیکہ لے رکھاہے لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ کرنے کا؟اور ویسے بھی ہم نے کون ساآپ کو قدرومنزلت کے تاج پہنانے ہیں!اگرآپ کو بہت شوق ہے انسانیت کی خدمت کا تو آپ جائیں دنیا میں بہت سی اقوام رہتی ہیں ، امریکہ جائیں، برطانیہ جائیں، ملایشیاءانڈونیشیا،یاکسی بھی ضرورت مند قوم کی خدمت کریں، کم از کم ہمیں آپ کی ضرورت نہیں، ہم بے حس، لیکن معصوم قوم ہیں ، آپ ہمیں سونے دیں۔آپ کو ہیروہی بنناہے تو جب تابوت میں آئیں گے تو ہم آپ کو ہیرو مان لیں گے۔زندہ ہیروہمیں نہیں چاہیے!    ٭

مزید :

کالم -