جمہوریت کے پہرے دار۔۔۔!!

جمہوریت کے پہرے دار۔۔۔!!
 جمہوریت کے پہرے دار۔۔۔!!
کیپشن: 1

  


وطن عزیزکی فضائیں سرخرو ہیں۔۔۔! کہ جمہوریت کے پہرے دار ابھی زندہ ہیں اور اس سال یوم آزادی پرجمہوری ٹرین کو پٹڑی سے اتارنے کے لئے سازشوں کے جو تانے بانے بنائے گئے وہ بکھر چکے ہیں اور پارلیمنٹ کے ایوان کے اندر چند سو افراد نے عوامی طاقت کے تحفظ کے لئے جو ثابت قدمی دکھائی ہے وہ تاریخ کے اوراق میں چمکتی دمکتی رہے گی ۔تمام رنجشوں اور شکوے شکائتوں کو اپنے سینوں میں دفن کرکے وینٹی لیٹر پر آخری سانسیں لیتی ہوئی جمہوریت کو زندگی کی طرف رواں دواں کر دیا۔۔۔کمال کردیا ہے۔۔۔! میاں نواز شریف اور چوہدری نثار احمد نے۔۔۔! کہ ایسے وقت میں در گزر کی صفت پر عمل پیرا ہو کر ایوان کو تماشہ گاہ بننے سے بچا لیا ۔حکمت اور دانائی پر مبنی یہ فیصلہ جمہوری سوچ کی فتح ہے ۔ملک کی سیاسی، آئینی اور پارلیمانی تاریخ میں منتخب نمائندوں کا یہ منفرد اعزاز ہے، جس پرایوان میں بیٹھے ہوئے جمہوریت کے ان ضامنوں کو لائف ٹائم جمہوری ایوارڈ ملنا چا ہئے ۔ان کی ماضی کی کمزوریوں اور خامیوں کے نقش مٹا دینے چاہئیں ۔جمہوریت کے تحفظ کے لئے پارلیمنٹ کے اندر موجود ارکان اسمبلی نے متحد ہو کر جو عظیم الشان کارنامہ انجام دیا ہے وہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔

پارلیمنٹ کے ارکان سے معصوم سی درخواست ہے کہ جس طرح انہوں نے غیرجمہوری اور غیرآئینی طاقتوں کے خلاف یکجہتی کا اظہار کیا ہے تھوڑی سی جرأت اور بہادری کا یہ اظہار ۔۔۔! کہ وہ ملک کو درپیش دوسرے مسائل کی طرف بھی توجہ کر لیں تو پاک سرزمین کی قسمت بدل سکتی ہے ۔پارلیمنٹرین فیصلہ کر لیں ۔۔۔کہ ہاں ہاں ۔۔۔کالا ڈیم بنے گا۔۔۔کیونکہ جمہوریت کی طرح اس ڈیم کے بننے میں ملک کی سلامتی اوربقا ء ہے، پھر چاہے اس کے خلاف کتنے دھرنے کیوں نہ دے دےئے جائیں،کتنی ریلیوں اور جلوسوں کا انعقاد کیوں نہ کیا جائے ،آپ کی ذات پر کتنی ہی تنقید کیوں نہ کی جائے، ڈیم کے دشمن آپ کو کتنی ہی گالیاں کیوں نہ دیں بس انہیں بتا دیں۔۔۔کہ کالا باغ ڈیم بنے گا۔۔۔! کیونکہ یہ پارلیمنٹ کا فیصلہ ہے اور ہم متفق ہیں کہ کالا باغ ڈیم سمیت دوسرے اہم ڈیم جو سیاسی مصلحتوں کا شکار ہیں وہ بن کے رہیں گے۔۔۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاک دھرتی پر اندھیروں کو ختم کرنے کے لئے ان ڈیموں کی تعمیر میں کسی تاخیر اور سیاسی مصلحت کا انتظار نہ کیا جائے ۔

پارلیمنٹرین ایک اور فیصلہ کر لیں۔۔۔کہ ذاتی اور سیاسی مفاد ات ان کی منزل نہیں ۔ ان کا جینا اور مرنا اب صرف قومی مفاد کے لئے ہے ، نوکری میرٹ پر ملے گی ، تبادلہ انتظامی ضروریات کے مطابق ہوگا، پولیس سیاسی دباؤ سے آزاد ہوگی اور وعدہ کریں کہ سیاست دان کسی کی ناجائز مدد کے لئے تھانیداروں کو تنگ نہیں کریں گے، پٹواری سرکار کے حکم سے مبراء ہوگا ۔اپنے ووٹروں سے کہہ دو کہ وہ آئندہ الیکشن میں انہیں ووٹ دیں یا نہ دیں ۔۔۔وہ ان کے لئے کوئی غیر قانونی کام نہیں کریں گے۔ اس کے جواب میں ووٹر ان کے خلاف لانگ مارچ کریں یا ان کو حلقے سے نکال دیں ۔وہ منتخب پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر عہد کر لیں کہ جس طرح ہم جمہوریت بچانے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں اسی طرح میرٹ کی بالادستی کے لئے ہمارے بازو ایک ساتھ ہیں ۔

ایوان کے اندر آرام دہ کرسیوں پر بیٹھے ہوئے لیڈر فیصلہ کر لیں کہ کنبہ پروری ختم۔۔۔!چاہے اپنے پرائے ہو جائیں ،دوست دشمن بن جائیں اور دشمن مزید دشمن بن جائیں۔۔۔! ان کی ناراضگی کا خوف دل سے حرف غلط کی طرح مٹا دیں ۔اَناکا مسئلہ نہ بنائیں، چاہے میاں صاحب کو اسحاق ڈار کی قربانی دینی پڑے ،چاہے اچکزئی کو اپنے بھائی کی گورنری سے ہاتھ دھونے پڑیں ۔ جتنے بھی پارلیمنٹرین ہیں، ایک فہرست بنا لیں اور جہاں جہاں بھی جس کاعزیز ہے اس سے ہاتھ اٹھا لیں،جو ناراض ہوں انہیں بتا دیں کہ جمہوری سسٹم بچے گا تو جمہوری روایات بھی قائم ہوں گی اور کنبہ پروری کا ناسور غیرجمہوری اور غیرآئینی مطالبات کے ساتھ ہی دفن ہو جائے گا ۔عوامی نمائندگان عہد کر لیں کہ ان کی زندگی سادہ ہو گی۔بڑی بڑی بچارو اور لگژری گاڑیاں ان کے استعمال میں نہیں ہوں گی ،پارلیمنٹ لاجز سے ارکان اسمبلی بغیر ائیر کنڈیشنڈ کوچ میں بیٹھ کر ایوان میں آئیں گے ۔

جمہوری نظام کے یہ پہرے دار گیٹ والوں کو حکم دے دیں کہ بڑی گاڑیوں کو ایوان کے اندر داخل نہ ہو نے دیا جائے، کیونکہ پارلیمنٹ بچی ہے تو عوامی روایات بھی پروان چڑھیں گی ۔پوری پارلیمنٹ ہاتھوں میں ڈنڈے لے کر کرپشن کے سانپ کا سر کچل دے اور اپنی ذات اور زبان کو حلال کے ذائقے میں رنگ دے، بالکل اِسی طرح جیسے جمہوریت کے خلاف اعلان جنگ حرام ہے۔۔۔اِسی طرح کرپشن کی حمایت میں ایک جنبش بھی ناقابل قبول ہے۔قسم کھا لیں کہ ترقیاتی فنڈز میں ایک پائی کی بھی ہیرا پھیری نہیں ہوگی،جو پیسہ جس مقصد کے لئے ہے اِسی دہلیز پر پہنچے گا۔ عوام کی صحت،تعلیم،روزگار اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لئے بھی ارکان اسمبلی ناصرف آواز اُٹھائیں گے، بلکہ بھوکے ننگے رہ کر بھی یہ سہولتیں عوام تک پہنچائیں گے۔

دھرنوں میں بیٹھے ہوئے جمہوریت دشمنی میں ’’نیا پاکستان ‘‘ بنانے کا نعرہ لگاتے ہیں ،لیکن پارلیمنٹرینز کے پاس طاقت ہے ۔ آپ واقعی نیا پاکستان بنا سکتے ہیں ۔ جمہوریت کے پہرے دارو ۔۔۔! سن لو اور جان لو ۔ کہ جمہوریت بچانے کے بعدآپ نے عوام کے اصل مسائل کے حل کے لئے بھی اسی طرح کی یکجہتی نہ دکھائی تو مورخ لکھے گا۔۔۔ کہ ’’ دو ہزار چودہ کی پارلیمنٹ نے جمہوریت کو بچانے کے لئے جس بے مثال طاقت کا مظاہرہ کیا،وہ اپنی کرسیاں بچانے کے لئے تھی ‘‘ اور یقین رکھنا کہ ایسی صورت میں نہ یہ کرسی آپ کے پاس رہے گی اور نہ ہی عزت کا یہ مقام آپ کی آئندہ نسلوں میں سے کسی کو ملے گا۔

مزید :

کالم -