اصل سازش

اصل سازش
اصل سازش
کیپشن: 1

  

کچھ لوگوں نے تو یہی کہاکہ یہ حکومت ‘آئین اور پارلیمنٹ کے خلاف سازش ہے‘ نادان دوستوں کی طرف سے بیانات اور اشاروں نے بھی اسی موقف کی تائید کی- ایک صاحب تو برملا یہی کہتے تھے کہ میں جمہوریت کو مانتا ہوں اور نہ ہی اس پارلیمنٹ کو اور نہ ہی اس پارلیمنٹ کو تحفظ دینے والے آئین کو- یہ سب کچھ کوڑے دان میں پھینک دیا جانا چاہیے اس کی جگہ نیا نظام تشکیل دینا چاہیے- اس کے لئے ایک قومی حکومت بننی چاہیے جو اس جمہوریت اور پارلیمانی نظام میں موجود خرابیوں کو دور کرے‘ اس کے بعد آزاد اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن نئے انتخابات کروائے-

دوسرے صاحب کا موقف تھا کہ وزیر اعظم استعفی دیں‘ اسمبلیوں کو برطرف کریں‘ ٹیکنوکریٹس کی نگران حکومت بنائی جائے جو کرپشن بھی ختم کردے اور کرپٹ لوگوں کا احتساب کرے اس کے بعد آزاد اور غیرجانبدار الیکشن کمیشن کے ذریعے نئے انتخابات کروائے جائیں‘ ان کا دعوی تھا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے 90فیصد ارکان ڈاکو‘ چور اور لٹیرے ہیں‘ یعنی ان کی جماعت کے دس فیصد لوگ ہی فرشتے ہیں- اپنے دھرنے کے دوران وہ تبدیلی کی آمد کے ساتھ نئے پاکستان کی نوید بھی سناتے رہے اور جوش خطابت میں کبھی ایمپائر اور کبھی تھرڈ ایمپائر کی انگلی اٹھنے کا دعوی بھی کرتے رہے-بھول گئے کہ تھرڈ ایمپائر کی انگلی نہیں اٹھا کرتی جب گراﺅنڈ میں ایمپائر کے فیصلے کو چیلنج کیا جاتا ہے تو تھرڈ ایمپائر کی مدد حاصل کی جاتی ہے اور اس کا فیصلہ ٹیلی ویژن کی سکرین اور گراﺅنڈ سکرین کے ذریعے سامنے آتا ہے-

یہی وہ پس منظر ہے جس میں ایمپائر کے کردار پر نکتہ چینی بھی ہوئی اور بہت سے سوالات بھی سامنے آئے مزید یہ کہ زندہ باد کے نعرے بھی لگوائے گئے جس سے بات کا بتنگڑ بن گیا جتنے منہ اتنی باتیں‘ قیاس آرائیاں‘ افواہیں اور چہ میگوئیاں‘ رہی سہی کسر ٹیلی ویژن کے چینلز پر بیٹھے اینکر پرسنز اور نام نہاد سیاسی دانشوروں نے پوری کردی‘ کہیں سکرپٹ کا تذکرہ ہوا تو کہیں مختلف فارمولوں پر بحث مباحثہ ہوا-کہیں ڈھکے چھپے اور کہیں کھلے انداز میں اظہار خیال ہوا- کہیں تاریخ بیان ہوئی تو کہیں مارشل لاءایڈمنسٹریٹروں کی کارکردگی کو زیر بحث لایا گیا- تو کہیں گڑے مردے اکھاڑ کر آج کے حالات کا تجزیہ کیا گیا- جیسے موجودہ قیادت بھی شاید اسی سمت سفر کرنے والی ہے-

یہ نادان دوستوں کی محبت تھی کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ناگزیر ہوگیا اور تمام سیاسی پارلیمانی جماعتیں‘ آئین‘ پا رلیمنٹ اور جمہوریت کے نام پر متحد ہوگئیں اور وزیر اعظم کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ان کے استعفی کے مطالبے کو بھی رد کردیا اور انہیں اپنی پوری قامت سے کھڑے ہونے کا مشورہ بھی دیا- جس سے یہ تاثر بھی نمایاں ہوا کہ پارلیمنٹ اور فوج ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں‘ لیکن بات محض نادان دوستوں تک ہی محدود نہںی رہی خود حکومتی کارندوں نے بھی پارلیمنٹ کے اتحاد کو جواز بنا کر بلکہ اس سے فائدہ اٹھا کر غیر اعلانیہ محاذ آرائی شروع کرتے ہوئے براہ راست تو الزام تراشی نہیں کی مگر نادان دوستوں پر تابڑ توڑ حملے بھی شروع کردیئے اور مذاکرات کے ایجنڈے پر بھی نظرثانی کردی- جس کے بعد مبینہ طور پر فوج کو بھی بیک فٹ پر جانا پڑا اور اسے بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے کی تجویز پیش کرنا پڑی- یہی وہ پس منظر ہے جس میں دھرنے والوں کو بھی مفاہمت کے راستے پر چلنا پڑا-

اگرچہ ہنوز دھرنا برقرار ہے اور استعفوں کا مطالبہ بھی موجود ہے لیکن اس بات میں کوئی شبہ نہیں دھرنے والے ”آﺅٹ“ ہوچکے ہیں انہیں بہت جلد پویلین لوٹنا پڑے گا- جو کچھ انہیں حاصل ہوگا وہی غنیمت سمجھا جائے گا اور اس کے بعد انہیں اسی تنخواہ پر ہی کام کرنا پڑے گا- لیکن افسوس کہ اس سے پہلے انہیں جو کچھ حاصل ہو رہا تھا وہ پہلے بہت زیادہ تھا اور اب بہت کم ہے- مگر اس سے یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے رفقائے کار جس تکبر اور غرور کا شکار تھے وہ انتہائی کم ہوگیا ہے اب انہیں اپنے طرز عمل پر بھی نظرثانی کرنا پڑے گی بلکہ وزیر اعظم کو اپنے ”رفقائے کار“ بھی تبدیل کرنا پڑیں گے اور کچھ نئے لوگ بھی سامنے لانا پڑیں گے- جو دیگر پارلیمانی پارٹیوںکے بھی ہوسکتے ہیں- یہی وہ تبدیلی ہے جو دھرنوں اور مارچ کے نتیجہ میں آئے گی اسی کو خوش آئند سمجھنا چاہیے-

لیکن ہمیں افسوس تو اس بات کا ہے کہ اس ساری محاذ آرائی میں سب سے زیادہ نقصان فوج کا ہوا ہے لہذا ہمیں یہ کہنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ یہ سازش نوازشریف اور ان کی حکومت کے خلاف نہیں تھی بلکہ یہ سازش فوج کے خلاف تھی‘ جس میں بین الاقوامی قوتیں بھی شامل ہوسکتی ہیں جو پاکستان کی خالصتا پروفیشنل صلاحیتوں سے آراستہ فوج سے خوفزدہ رہتی ہیں‘ چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ فوج کے وہ ادارے جنہیں دنیا بھر میں تسلیم کیا جاتا ہے وہ اس سازش کے محرکات کو تلاش کریں ان کے خلاف موثر حکمت عملی تیار کریں اور ان اداروں اور افراد کا بھی محاسبہ کریں جو ارادی اور غیر ارادی طور پر محض سیاسی مفادات کے لئے مہروں کا کردار ادا کرتے رہتے ہیں-  ٭

مزید :

کالم -