سچ کا عذاب

سچ کا عذاب
 سچ کا عذاب
کیپشن:   1 سورس:   

  


آج صبح میری آنکھ اطلاعی گھنٹی کے بجنے سے کھلی۔

پپو آیا ہے۔۔۔چند ہی لمحے گزرے تھے کہ بیگم نے ناگوار سے لہجے میں اطلاع دی۔

پپو میرا لنگوٹیا یار ہے۔ جسے شارٹ کٹ استعمال کرکے راتوں رات امیر بننے کا شوق ہے۔ اور اپنے اس شوق کی تکمیل میں وہ آئے روزنت نئے آئیڈیاز اورطریقے ڈھونڈکران پر عمل درآمد کی کوششیں کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے کم و بیش تمام آئیڈیاز شرمندگی اور رسوائی پراختتام پذیر ہوتے ۔جس کی وجہ سے اہل محلہ اور عزیز واقارب اسے ہڈ حرام قرار دیتے ہیں ۔

باہر نکلا تو دیکھا کہ پپو کے ہاتھ میں ایک خوبصورت چوکور ڈبہ تھا۔۔۔۔آبھئی پپو بڑے دنوں بعد شکل دکھائی ۔۔۔کہاں تھا تو ؟

معانقہ کرتے ہوئے میں نے اس سے پوچھا۔

ابے پترکار چھوڑ ان باتوں کو(پپو مجھ جیسے صحافیوں کو پتر کار کہتاہے)۔۔۔دیکھ نہیں رہا ، خدمت خلق کررہا ہوں۔۔۔یہ کہتے ہوئے اس نے ڈبہ میرے سامنے کیا جس پر جلی حروف میں ً چندہ برائے سیلاب زدگان ً کے الفاظ درج تھے۔ میں نے پوچھا یہ کیاہے ۔؟

تو اسے میری نالائقی پر افسوس ہوا ۔بتانے لگا کہ ملک کوبدترین سیلاب کا سامنا ہے۔پنجاب میں فلڈ ایمرجنسی ڈیکلئیر کردی گئی ہے۔ دوسوسے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔ لاکھوں ایکٹر اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔ہزاروں مکانات جزوی اور مکمل مسمار ہوگئے ہیں۔10 لاکھ سے زائدافراد بے گھر ہوچکے ہیں۔اورمتاثرین کوخوراک ، خیمہ جات، ادویات ، بستر ، کپڑوں ،رہائش اور ابتدائی طبی امداد کی فوری فراہمی کے لیے ہماری ضرورت ہے۔

پپوپرنس کی سنجیدہ گفتگو میرے لیے حیرانگی کی بات تھی۔

تین گھنٹوں میں 2ہزار روپے کما چکا ہوں۔۔۔پپو کی گفتگو جاری تھی۔۔۔کمائی سے کیا مطلب تم کچھ بیچ رہے ہومیں نے پوچھا ۔

ابے صبح سے فلاں چوک میں کھڑا ۔لوگوں سے سیلاب سے متاثرہ بہن ، بھائیوں کی امداد کے لیے اپیل کررہا تھا۔جس کے نتیجے میں یہ رقم اکٹھی ہوئی ہے۔پپو کو ایکبار پھر سے میری کم علمی پر افسوس ہوا۔

مجھے یہ سن کر خوشی ہوئی کہ پپو پرنس سیلاب زدگان کی مدد کررہا ہے۔۔۔ متاثرین تک یہ روپے یا امداد ، کیسے پہنچاؤ گے ؟ میں نے پوچھا ۔۔۔ توکہنے لگا کہ ان روپوؤں سے تو اس نے گھر کے لیے راشن خرید لیا ہے۔۔۔پپو تو آگیا ناں اپنی حرکتوں پے۔میں نے غصے کا اظہار کیا تواس نے دانت نکالے ڈھیٹوں کی طرح جواب دیا۔۔۔

اول خویش بعد درویش ۔۔۔

یا ر ایک آئیڈیا ہے میرے پاس۔۔۔پپو پرنس پھر سنجیدہ تھا۔

اب وہ کیا ہے ۔ ۔۔کیونکہ پپو کا ہر آئیڈیا سرمایہ لگائے اور عملی طورپر کچھ کئے بغیر ہی دولت مند بننے کے گرد ہی گھومتا ہے ۔

یا رمل کر ایک این جی اوکھولتے ہیں۔۔ اس نے یوں بیان کیا جیسے این جی او ایک دوکان ہو۔جس کے کھولتے ہی سرمائے کے بغیر منافعے کی بارش ہونے لگے گی۔

پپو کا کہناتھا کہ اس وقت ملک میں سب سے منافع بخش کام این جی او کھولنا ہے۔این جی او کھولنے کے لیے کسی سرمائے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک لیٹر ہیڈ چھپواؤ ۔ دوچار ہزارروپے سے این جی او کے نام پر اکاؤنٹ کھلواؤ۔20ممبران کے ناموں کے ہمراہ سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ یا ضلعی حکومت یا انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ کو دوخواست دو ،ساتھ ہی پانچ سے 10ہزار روپے خرچ کرو ۔ این جی او رجسٹر ڈ ہوجائیگی۔پھر سیلاب ہو یا زلزلہ، قحط سالی ہویا آئی ڈی پیز کی مدد کا معاملہ ہر موقعے پر متاثرین کی امداد کے بہانے لوگوں کی جیبیں خالی کرو۔اور ملک میں ایسا کوئی تہوار SORRYبحران یا آفت نہ بھی ہو تو بھی معاشرے سے غربت ، بیروزگاری ، ناانصافی ، چائلڈ لیبر ، خواتین پر تشدداور دہشت گردی کے خاتمے یا خواتین ، بچوں،مزدوروں اور عام آدمی کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور جد وجہد کرنے کے نام پر پیسہ کمائینگے۔۔۔۔۔

میں نے اسے بتایا کہ این جی او ایسے ہی رجسٹرڈ نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے SOCIETEIS REGISTERATION ACT 1860کے علاوہ VOLUNTARY SOCIAL WELFARE AGENCIES ORDINANCE 1961اورCOMPANIES ORDINANCE 1984کے ساتھ ساتھ CO-OPERATIVE SOIETIES ACT 1925 جیسے قوانین موجود ہیں۔غیر سرکاری تنظیم این جی او کو غیر منافع بخش تنظیم یا این پی او بھی کہتے ہیں۔اس لیے این جی او کے ذریعے پیسہ نہیں کمایا جاسکتا ۔یہ تو خدمت انسانیت اور فلاح کا کام ہے۔۔۔

ابے چھوڑ پتر کار ۔۔۔۔۔ پپو میری بات سے رتی برابر متاثر نہیں تھا۔۔۔کس دور کی باتیں کرتا ہے۔ہمارے ملک میں 50ہزار سے زیادہ رجسٹرڈ اور ان رجسٹرڈ این جی اوز ہیں۔جن میں ۔۔۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں۔۔خواتین کے حقوق کے تنظیمیں۔۔انسانی حقوق ، بچوں اور خواتین کے حقوق کی مشترکہ تنظیمیں۔۔صارفین کے حقوق کے تنظیمیں۔۔فروغ تعلیم کی تنظیمیں۔۔مزدوروں کے حقوق کے تنظیمیں۔۔منشیات کے خلاف برسر پیکار تنظیمیں۔۔صحافتی تنظیمیں۔۔خواتین پر تشدد کی مخالف تنظیمیں۔۔دیہی ترقی کی تنظیمیں۔۔ماحولیات اور موسمی تغیرات پر کام کرنے والی تنظیمیں۔۔جانوروں کے تحفظ کی تنظیمیں۔۔لیگل ایڈ تنظیمیں۔۔فنون لطیفہ اور آرٹ کی تنظیمیں۔۔امن و امان کے قیام کی تنظیمیں۔۔بوڑھوں کا خیال رکھنے والی تنظیمیں۔۔غربت کے خاتمے کی تنظیمیں۔۔ قیدیوں کی رہائی اور ان کے حقوق کے تحفظ کی تنظیمیں۔۔لاپتہ اور مسنگ پرسنز کے ساتھ ساتھ گمشدہ بچوں کی تلاش کرنے والی تنظیمیں قدرتی آفات میں کام کرنے والی تنظیموں سمیت بہت سی تنظیمیں شامل ہیں۔جن کی اکثریت وجود نہیں رکھتی ۔ لیکن وہ فنڈز لیتی ہیں۔ اور کمائی کرتی ہیں۔کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں ہے۔

پپو کی باتوں اور معلومات نے مجھے ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔۔۔یہ سب تجھے کیسے پتا چلا ۔۔میں پوچھ اٹھا۔۔

میں نے پورا ہوم ورک کرلیا ہے۔۔پپو اپنا کالر درست کرتے ہوئے اترا رہا تھا۔

پتا ہے۔ رات میں، انٹرنیٹ پر قدرتی آفات سے ریکوری اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیمیں تلاش کرتا رہا۔اور کافی سرچ کے بعد گنتی کی چند تنظیمیں سامنے آئیں ۔ان میں بھی بعض کے صرف نام درج تھے۔ ان کے

ایڈریس ، رابطہ نمبر یا منشور کا ذکر نہیں تھا۔مذکورہ پیج پر نظر آنے والے معلومات کی روشنی میںً جاگو ً اورً کا ل فار ہیلپً نامی تنظیموں کے دیئے گئے نمبروں پر رابطہ کرکے ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے حالیہ سیلاب میں متاثرین کے لیے کس قدر امدادی اور ریسکیو سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے۔ تو شرمندہ لہجے میں جواب نفی تھا۔مزیدمعلومات کے لیے لاہور کے لارنس روڈ پر واقع صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے دفتر پہنچا جہاں ان کے ڈائریکٹر شاہد علی سے ملاقات ہوئی ۔ان سے پوچھا کہ متاثرین سیلاب کے لیے کتنی این جی اوز کن کن علاقوں میں کام کررہی ہیں۔توشاہد علی کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ کچھ نہیں جانتا ۔اس کے متعلق آپ پنجاب سوشل ویلفئیر آفس سے رجو ع کریں۔جس پر میں سوشل ویلفئیر آفس شملہ پہاڑی پہنچ گیا۔جہاں ان کی ڈپٹی ڈائریکٹر لبنیٰ جبیں نے بتایا کہ رجسٹرڈ این جی اوز کی تعداد 172صفحات پر مشتمل ہے۔ اس سے زیادہ معلومات فراہم نہیں کرسکتیں۔ اس پر میں نے ڈی جی سوشل ویلفئیر پنجاب محمد اقبال سے رجوع کیاتو ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں مجموعی طورپر 25سو این جی اوز رجسٹرڈ ہیں۔ اور کئی این جی اوز سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کام کررہی ہیں۔ لیکن ان کے نام نہیں بتاسکتا ۔البتہ این جی اوز کی سکروٹنی کی جارہی ہے۔ اور نان فنکشنل تنظیموں کی رجسٹریشن جلد ہی کینسل کردی جائیگی۔۔۔۔پپو بولتا جارہا تھا۔

یار تجھے پتا ہے۔پاکستان میں 80کی دھائی میں این جی اوز نے نشو ونما پانا شروع کی ۔ملک میں حکومتی سطح پر این جی اوز پر کسی قسم کا چیک اینڈبیلنس نہیں ہے۔آپ متاثرین کے لیے چندہ اکٹھا کرو ۔ڈونیشن لو اور غائب ہوجاؤ ۔تمہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔حکومت نے آج تک کسی بھی این جی او کے خلاف کاروائی نہیں کی ۔اور نہ ملک میں ایسا قانون یامیکنزم موجود ہے ۔ملک کی 70فیصد ورکنگ این جی اوز فارن فنڈڈ ہیں۔اور ڈونر ایجنسیوں کی ہدایات اور ضرورت کے مطابق ہر سال آڈٹ کے مرحلے سے گزرتی ہیں۔ لیکن اس میں بھی بہت سے گھپلے پائے جاتے ہیں۔اور خود کو چالاک سمجھنے والے گورے باآسانی بیوقوف بن جاتے ہیں۔

2010کے سیلاب کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات قمرالزمان کائرہ اور ڈی جی این ڈی ایم اے نے خود اعتراف کیا تھا کہ بہت سی این جی اوز متاثرین کی امداد کے نام پر لوٹ مار میں مصروف رہیں۔

آج پپوکے سامنے میں خود کو طفل مکتب محسوس کرہا تھا۔

خفت مٹانے کے لیے میں نے اسے کہاکہ اب ایسی بھی بات نہیں ہے۔ملک میں بہت سے غیر سرکاری تنظیمیں انسانی

حقوق ،خواتین ، بچوں و بوڑھوں کی فلاح وبہبور ،غربت کے خاتمے اور قدرتی آفات کے دوران متاثرہ افراد کی مدد کے لیے کام کرتی ہیں۔میں ایسی بہت سے تنظیموں کو ذاتی طورپر جانتا ہوں۔۔لیکن پپو میری بات سے متاثر نہ تھا۔۔

اس کا کہناتھا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرو تمہیں معلوم ہوگا کہ 50ہزار میں سے کتنی تنظیمیں دکھی لوگوں کی حقیقی معنوں می مدد کررہی ہیں۔کونسی این جی او متاثرین کو ٹینٹ ، ادویات ، خوراک ، پینے کا صاف پانی ، فرسٹ ایڈ اور دیگر ضروریات فراہم کررہی ہیں۔سب جھوٹ اور فریب ہے۔ہمارے لوگ خیرات اور رحم دلی کے حوالے سے ازلی جذبہ رکھتے ہیں۔ان کے اس جذبے کا فائدہ نہ اٹھانابیوقوفی ہوگی۔

موقع اچھا ہے۔۔ این جی او کھول کر سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی امداد کے لیے مخیر حضرات سے تعاون کی اپیل کریں۔ہمارے وارے نیارے ہوجائینگے۔ ملک میں سب چور ہیں۔ اگر کچھ ہم کما لینگے تو کیا فرق پڑ ے گا۔

پپوچلا گیا لیکن میرے لیے سوچنے کو بہت کچھ چھوڑ گیا۔میں سوچ رہا تھاکہ

جمہوریت اورآئین شکنی کے خلاف ہر شہر اور ہر چوک میں کتبے اٹھائے حکومت کے خلاف مصروف احتجاج، سول سوسائٹی سیلاب سے متاثرہ کسی بھی علاقے میں متاثرین کے لیے چیختی چلاتی نظر کیوں نہیں آرہی۔ حکومت کو غیر آئینی قرار دینے اورانتخابی دھاندلی کا واویلہ کرنے والے دھرنے دار ہوں یا پارلیمنٹ اور آئین کوبچانے کی دعویدار ً متحدہ اپوزیشنً کوئی بھی سیلاب زدگان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے متاثرہ علاقوں میں نظر نہیں آرہا۔کیا یہ سب حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ہمارے ملک میں لوٹ مارکے نت نئے طریقے کب تک اپنائے جاتے رہینگے۔

مزید :

کالم -