بھارت،ڈینگی نے بیٹا مارا، والدین نے خود کشی کر لی

بھارت،ڈینگی نے بیٹا مارا، والدین نے خود کشی کر لی
بھارت،ڈینگی نے بیٹا مارا، والدین نے خود کشی کر لی

  


نئی دہلی ( اے این این ) بھارت میں ایک بچے کے والدین اپنے بچے کی رحلت کا صدمہ جھیل نہ پائے اور انہوں نے خودکشی کر لی۔ بچے کو ڈینگی بخار لاحق ہو گیا تھا اور ہسپتالوں نے اسے علاج کے لیے داخل نہیں کیا۔ڈینگی بخار سے فوت ہونے والے سات سالہ بچے کا نام اویناش تھا۔ اویناش کو ڈینگی مرض لاحق ہو گیا تو اس کے والدین اسے لے کر شہر کے ہسپتالوں کے چکر لگانے لگے لیکن بھارتی دارالحکومت نئی دہلی جیسے بڑے شہر کے کسی ہسپتال نے بچے کو داخل کر کے مکمل علاج فراہم کرنے کی حامی نہ بھری۔اویناش آٹھ ستمبر کو جان کی بازی ہار گیا۔ اس کی آخری رسومات کی ادائیگی کے بعد اس کے والد لکشمی چندر اور والدہ ببیتا راٹ نے جنوبی دہلی میں واقع ایک چار منزلہ عمارت سے کود کر خود کشی کر لی۔پولیس کو لکشمی چندر اور ببیتا کی خود کشی کے بعد ایک تحریر بھی ملی ہے۔ اس میں انہوں نے لکھا کہ اویناش کے مرنے کے بعد ان کی خوشیوں کا سورج گہنا گیا تھا اور وہ اس کے بغیر جینے کا کوئی تصور نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ اویناش ان کی اکلوتی اولاد تھا۔ مزید تفتیش سے معلوم ہوا کہ لکشمی چندر اور ببیتا اپنے بیٹے کو لے کر نئی دہلی کے پانچ مختلف ہسپتالوں میں گئے لیکن کسی نے بھی اسے داخل نہ کیا۔ علاج میں اتنی تاخیر ہو گئی کہ جب بیمار بچے کو ایک پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کے لیے جگہ ملی تو اس کی سانسیں جواب دے گئیں۔دوسری جانب نئی دہلی کے محکمہ ہیلتھ کے ایک اہلکار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اویناش کو داخل نہ کرنے پر ہسپتالوں سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ نئی دہلی حکومت نے رواں برس اٹھائیس اگست کو ایک نوٹس جاری کیا تھا کہ ڈینگی کے کسی بھی مریض کو کوئی بھی ہسپتال داخل نہ کرنے کے لیے کوئی عذر نہیں پیش نہیں کر سکتا خواہ ہسپتال میں کوئی بستر دستیاب ہی کیوں نہ ہو۔پانچ ہسپتالوں سے اِسی حکم کے تناظر میں محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ بھارت کے وزیر صحت جے پی نڈا نے اویناش کے فوت ہونے اور اس کے والدین کی خود کشی کی فوجداری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔بیمار بچے کی رحلت اور اس کے والدین کی خودکشی کو گزشتہ ہفتے کے دوران بھارتی میڈیا نے بے پناہ کوریج دی۔ وزیر صحت جے پی نڈا نے تفتیش کے حکم میں کہا کہ اِس افسوس ناک واقعے میں ملوث افراد کو ہر قیمت پر سزا دی جائے گی۔اِسی دوران نئی دہلی کی صوبائی حکومت نے اوویناش کے فوت ہو جانے کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں ایک ہزار اضافی بستر لگانے کا حکم جاری کیا ہے۔ نئی دہلی کی حکومت کی وزیر صحت ستیندرا جین نے بھی ڈینگی مرض کے انسداد کے لیے حکومتی کاوشوں کو تیز اور مثر بنانے کی تلقین کی ہے۔ جین نے ہسپتالوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر کمروں میں گنجائش نہ ہو تو اضافی بیڈز لابیز میں لگا دیے جائیں۔دارالحکومت نئی دہلی میں ڈینگی وبا کے شدید پھیلا کے باعث حکومت نے پیر کے روز سرکاری ہسپتالوں میں ایک ہزار اضافی بستر رکھوانے کا فیصلہ کر دیا ہے۔ یہ دہلی میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ڈینگی کا سب سے شدید پھیلا ہے۔ اس برس کم از کم آٹھ افراد اس مرض کا شکار ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس ضمن میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ چند روز قبل ایک سات برس کے بچے کے ڈینگی سے ہلاک ہونے اور دہلی کے ایک ہسپتال کا اس بچے کا علاج نہ کرنے کے فیصلے کے نتیجے میں اس کے ماں باپ کی خودکشی کے بعد سامنے آیا ہے۔

مزید : بین الاقوامی