تقسیمِ برصغیر سے پہلے پنجاب میں مسلم۔ سکھ سیاسیات(1)

تقسیمِ برصغیر سے پہلے پنجاب میں مسلم۔ سکھ سیاسیات(1)
تقسیمِ برصغیر سے پہلے پنجاب میں مسلم۔ سکھ سیاسیات(1)

  


آج ،حال ہی میں انگریزی زبان میں شائع ہونے والی ایک کتاب پر اپنے تاثرات قارئین سے شیئر کرنا چاہوں گا:

نام کتاب: Punjab-An anatomy of

Muslim- Sikh Politics

نام مصنف: اختر حسین سندھو

سپانسر: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ریلجس سٹڈیز (لاہور)

سال اشاعت: 2014ء

پبلشرز: ڈوگر پبلشرز، اردو بازار، لاہور

ضخامت: 448 صفحات

قیمت: 1500 روپے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ کتاب جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، پنجاب میں مسلم، سکھ سیاست کی اناٹومی سے بحث کرتی ہے۔ آئن ٹالبوٹ (Ian Talbot) کے پیش لفظ اور مصنف کے تعارف کے بعد اس میں درج ذیل سترہ (17) ابواب ہیں، جن کے عنوانات یہ ہیں:

1۔ سکھ ہسٹری کے اولین دور میں مذہبی منافرت (مغل دور میں مسلم- سکھ روابط پر فوکس)

2۔برٹش انڈیا میں ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کا افسانہ (Myth)

3۔ استعماری دور کے پنجاب میں مسلم-سکھ روابط کا ایک جائزہ۔

4۔ 1930ء تک برٹش پنجاب میں مسلم۔ سکھ روابط کی متخالف صورت حال۔

5۔ یونینسٹ پالیٹکس کے چند پہلو (1923ء سے 1937ء تک کے درمیان)

6۔ پنجاب میں 1936-37ء کے الیکشن اور مسلم لیگ کی سیاسی پوزیشن۔

7۔ قرارداد لاہور 1940ء۔۔۔ برٹش پنجاب میں قومیتوں کا ردعمل۔

8۔ کرپس مشن اور برٹش پنجاب میں مسلم-سکھ روابط۔

9۔ سکندر-بلدیو سنگھ پیکٹ اور اس کے اثرات ،مسلم-سکھ سیاسیات پر۔

10۔ آزاد پنجاب سکیم اور سکھ۔

11۔ سنٹرل اکالی دل اور سکھ سیاسیات میں اس کا رول۔

12۔ 1946ء کے الیکشن اور پنجابی سیاسیات۔

13۔ کیبنٹ مشن 1946ء اور مسلم-سکھ سیاست پر اس کے اثرات۔

14۔ سیاسی شناخت کے لئے سکھوں کی جدوجہد اور تقسیمِ برصغیر کے آخری مراحل میں قائداعظم کا فوکس۔

15۔ 1947ء کی تقسیم میں سکھوں کی ناکامی۔

16۔ دیہی علاقوں کی آواز۔۔۔ برٹش پنجاب میں مسلم ۔سکھ روابط۔

17۔ پنجاب کے ساتھ برطانیہ کی ناانصافی۔

ضرور پڑھیں: ڈالر مہنگا ہو گیا

متذکرہ بالا موضوعات اگرچہ اب 70 برس گزر جانے کے بعد بظاہر بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں اور ان پر بحث کئے جانا اور کتابیں تصنیف کئے جانا، وقت اور محنت کا ضیاع لگتا ہے لیکن تاریخ نویسی (Historiography) کے بعض طالب علموں کے لئے 1940ء کے عشرے میں متحدہ پنجاب کے دو برس، برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں، نہایت اہم سنگ میل ہیں۔ اسی لئے اس موضوع پر انگریزی، ہندی اور اردو زبانوں میں بہت سا تحریری کام کیا گیا ہے اور بہت سی کتب منظر عام پر آ چکی ہیں۔ ڈاکٹر سندھو صاحب کی یہ کتاب بھی ان میں ایک قابل قدر اضافہ کہی جا سکتی ہے۔

14 اگست 1945ء کو جنگ عظیم دوم کا خاتمہ ہوا۔ یورپ میں تو یہ جنگ یکم مئی 1945ء کو ختم ہو گئی تھی اور ہٹلر کی خودکشی کے بعد جرمنی نے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ لیکن محوری قوتوں (Axes) میں جاپان نے ایشیا اور بحرالکاہل کے خطہء جنگ (تھیٹر آف وار) میں اتحادیوں کے خلاف تنہا یہ جنگ جاری رکھی اور ہزاروں لاکھوں اتحادی ٹروپس کو ہلاک کرنے کے بعد 6اور 9 اگست 1945ء کو ہیروشیما اور ناگاساکی پر جوہری حملوں کے بعد کہیں جا کر ہتھیار ڈالے۔ اس جاپانی سرنڈر کی رسم 14 اگست 1945ء کو ایک بحری جہاز پر ادا کی گئی ۔ اس پس منظر میں دوسری عالمی جنگ کا مکمل خاتمہ یکم مئی کو نہیں بلکہ 14 اگست 1945ء کو ہوا تھا اور اس کے پورے دو سال بعد برصغیر کی تقسیم ہوئی تھی۔

یہ دو سال برصغیر کی تاریخ میں نہایت اہم تھے۔ ان پر اپنوں اور بیگانوں نے بلامبالغہ سینکڑوں کتابیں مختلف زبانوں میں لکھیں۔ زیر تبصرہ کتاب اس حوالے سے ایک تازہ تصنیف ہے اور اس میں بہت ساری گزشتہ کتب کا حوالہ دیا گیا ہے جو مصنف کے وسیع مطالعے اور ’’بے باک تجزیے‘‘ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

میں نے عمداً ’’بے لاگ تجزیہ ‘‘ کے بجائے ’’بے باک تجزیہ‘‘ کی ترکیب استعمال کی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ صاحبِ کتاب کی یہ ’’بے باکی‘‘ میری نظر میں توجہ طلب اور تشویش انگیز ہے۔۔۔آئیے کتاب کے پہلے باب کے پہلے پیرا گراف کا ترجمہ دیکھتے ہیں۔ مصنف نے لکھا ہے:

’’دنیا کا ہر مذہب نسل انسانی کی فلاح و بہبود، اخوت اور بقائے باہمی کا درس دیتا ہے۔ لیکن جب اس کا غلط استعمال کیا جائے اور غلط تشریح و تعبیر کی جائے تو یہ ناقابلِ تلافی اور ناقابلِ معافی نقصان کا باعث بھی بنتا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان قوم برصغیر کے طول و عرض میں ہندو معاشرے کی بڑے پیمانے پر تبدیلیء مذہب کی وجہ سے وجود میں آئی۔ سکھ مذہب بھی 15 ویں صدی عیسوی میں زیادہ تر ہندو مذہب کے ماننے والوں سے تشکیل پایا۔ مسلمان، انڈیا کا حکمران طبقہ تو بن گئے لیکن ان کی آبادیاں اس ریجن میں جگہ جگہ بکھری ہوئی تھیں، جبکہ سکھوں کی اکثریت پنجاب میں مرکوز تھی جو انڈیا کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے۔ اہل برطانیہ کی یہاں آمد کے ساتھ ہی ہندوستان میں تمام سطحوں پر ہندو مسلم سیاسی رسہ کشی شروع ہو گئی اور جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو وہاں یہ کشمکش اور رسہ کشی سکھوں اور مسلمانوں کے مابین اور بھی زیادہ شدومد سے نظر آنے لگی جیسا کہ یہ دو حریف قومیتیں ہوں۔‘‘

’’ان قومیتوں (Communities) کی سیاسی سرگرمیوں اور شناخت کی جڑیں دراصل مذہب کی اساس پر ہی استوار تھیں کیونکہ برصغیر کی ان تینوں قومیتوں یعنی مسلمانوں، سکھوں اور ہندوؤں نے اپنی اپنی سرگرمیاں مذہب ہی کی بنیادوں پر پروان چڑھائی تھیں۔ مغل حکمرانوں نے سکھوں کے روحانی پیشواؤں (گورو صاحبان) پر بہت ظلم و ستم ڈھائے جن سے پرامن زندگی کا تاروپود بکھر گیا۔ دوسری طرف سکھوں نے ہر اس ظلم کو کہ جوان کے مذہبی پیشواؤں پر مسلمانوں نے روا رکھا تھا، مسلمان حکمرانوں کے نام کر دیا۔ اس رویئے سے پنجابیوں میں نفرت کا احساس فروغ پایا جس کے نتیجے میں مذہب ایک ایسی مشین بن گیا جو ان دو سماجی گروپوں کے مابین نفرت کا خالق بنا۔ کسی بھی حکومت نے اس نفرت کو ختم کرنے کی کوشش نہ کی۔ ان دونوں قومیتوں میں پائی جانے والی دشمنی نے بھی کبھی ان میں باہمی بات چیت کر کے ان کو کسی تصفیے پر پہنچنے نہ دیا۔ اس مخاصمت نے نہ صرف یہ کہ ایک ہی نسل اور ثقافتی پس منظر کی حامل ان دونوں قومیتوں میں تقسیم کی دیوار کھڑی کر دی بلکہ مختلف مواقع پر مسلمانوں اور سکھوں کا بہت سا جانی نقصان بھی کیا۔ یہ پیپر جو آپ کے سامنے ہے اس میں کوشش کی گئی ہے کہ اس مذہبی منافرت کا سراغ لگایا جائے جس نے پنجاب میں مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان ایک وسیع خلیج حائل کر دی۔ یہ مطالعہ سکھوں کی تاریخ کے اولین ادوار میں سکھ-مسلم روابط کی نیچر سے بحث آتا ہے۔‘‘

میرا خیال ہے کہ اس پیرا گراف کے درج ذیل فقرات ہر پاکستانی قاری کا دامنِ توجہ تھام لیں گے:

1۔ مسلمان، انڈیا کا حکمران طبقہ تو بن گئے لیکن ان کی آبادیاں اس ریجن میں جگہ جگہ بکھری ہوئی تھیں جبکہ سکھوں کی اکثریت پنجاب میں مرکوز تھی۔

2۔ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو یہ کشمکش اور رسہ کشی سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان اور بھی زیادہ شدومد سے نظر آنے لگی اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ جیسے یہ دو حریف قومیتوں ہوں۔

3۔مغل حکمرانوں نے سکھوں کے روحانی پیشواؤں پر بہت ظلم ڈھائے جن سے پرامن زندگی کا تاروپود بکھر گیا۔

4۔ مذہب ایک ایسی مشین بن گیا جو ان دو سماجی گروپوں کے مابین نفرت کا خالق تھا۔

قطع نظر اس کتاب میں پائے جانے والے دوسرے بہت سے متنازعہ فیہ موضوعات کے، درج بالا چار نکات طبعِ سلیم پر گراں گزارتے ہیں اور اسی حوالے سے میں نے ڈاکٹر سندھو کو ایک ’’بے باک تجزیہ نگار‘‘ کہا ہے۔

سب سے پہلا اختلاف جو ہر قاری کے ذہن میں ابھرے گا وہ یہ ہو گا کہ برصغیر ہندو پاک میں اصل کشمکش تو مسلمانوں اور ہندؤوں کے درمیان تھی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ برصغیر میں کیا پنجاب شامل نہیں تھا؟ کیا پنجاب میں ہندو آبادیاں نہیں تھیں؟ کیا پنجاب میں اصل مسئلہ مسلم۔ سکھ کشیدگی یا رسہ کشی تھی یا ہندو ۔مسلم کشیدگی اور رسہ کشی تھی؟ اس سے محسوس یوں ہوتا ہے کہ مصنف کے ذہن میں (پنجاب کی حد تک ہی سہی) مسلم لیگ کے دو قومی نظریے کا اصل فوکس اسلام اور ہندوازم پر نہیں بلکہ اسلام اور سکھ ازم پر تھا۔

مصنف نے پنجاب میں مسلمانوں اور سکھوں کو دو حریف قومیتں (Rival Communities) قرار دیا ہے جو میری نظر میں محلِ نظر ہے۔ پنجاب ہو یا ہندوستان کے دوسرے حصے، لیگ کی حریف کانگریس تھی نہ کہ سکھوں کی شرومنی اکالی دل۔ یہ شرومنی اکالی دل تو سکھوں کی ایک محدود سی سیاسی جماعت تھی جس کے حجم اور جس کے اثرات کا دائرہ بمقابلہ لیگ اور کانگریس، نہایت ہی محدود تھا۔ میری نگاہ میں برصغیر کے سیاسی دنگل میں اصلی دو پہلوان گاماں اور زبسکو ہی تھے۔ یہ ’’اتم سنگھ پٹھا شرومنی اکالی دل ‘‘تو کہیں بی یا سی ٹیم کا کوئی پہلوان تھا!

مغلوں پر الزام:اس کے بعد مصنف نے مغلوں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے سکھوں کے روحانی پیشواؤں پر بہت ظلم و ستم روا رکھے۔ اس موضوع پر بھی بہت سا مواد اردو اور انگریزی پریس میں آ چکا ہے۔

ڈاکٹر سندھو نے مغلوں پر جس الزام کی بات کی ہے اس کی نوعیت اور حیثیت میری نظر میں بے بنیاد ہے۔ سکھ مت کے بانی بابا گورونانک (1539ء ۔۔۔1469ء) کی سوانح عمری پڑھیں تو معلوم ہو گا کہ ان کی تعلیمات وہی تھیں جو دنیا کے بڑے بڑے رسولوں اور پیغمبروں کی تھیں۔ وہ خدا کی توحید کے بہت بڑے موید اور مبلغ تھے۔ خدا کو ہمہ مقتدر اور ہمہ حاضر مانتے تھے۔ ان کے عقائد اور اسلام کے اساسی عقائد میں کوئی فرق نہیں تھا۔

مغلوں کا بانی ظہیر الدین بابر 1526ء میں ہندوستان آیا اور 1530ء میں کابل واپس جاتے ہوئے راستے میں انتقال کر گیا۔ بابر اور بابا نانک کی تاریخ وفات میں 9 برس کا فرق ہے۔ اگرچہ سکھوں کا دعویٰ ہے کہ بابر نے بابا نانک کو گرفتار کر لیا تھا اور پھر چھوڑ دیا تھا۔ لیکن بابر کی سیرت کا مطالعہ کریں یا توزک بابری پڑھیں تو معلوم ہو گا کہ وہ ایک سادہ طبیعت مسلمان تھا جو ان مذہبی مناقشوں سے بالکل بے خبر تھا جو بعد میں اس کے جانشینوں کے ہاں وجہِ نزاع بنتے رہے۔ ویسے بھی بابر کو کیا پڑی تھی کہ وہ بابا جی کو گرفتار کرتا۔ کیا بابا جی، بابر کے لئے کوئی سیاسی خطرہ تھے؟ کیا ان کے ماننے والوں کی تعدد اتنی کثیر اور اتنی مسلح تھی کہ جس سے بابر کو اپنا اقتدار خطرے میں جاتا محسوس ہوا، اس لئے اس نے انہیں گرفتار کر لیا اور جیسا کہ سکھ مصنفین دعویٰ کرتے ہیں، کچھ عرصے کے بعد رہا بھی کر دیا۔

بابا نانک نے اپنی وفات سے کچھ ماہ پہلے بھائی لہنا (Bhai Lehna) کو اپنا جانشین مقرر کیا اور ان کا نام گورو انگد (Angad) رکھا جس کا لغوی معنی ’’آپ کا اپنا‘‘ ہے۔ لیکن اس اعلانِ جانشینی کے 6 ماہ بعد 22 ستمبر 1539ء کو 70 برس کی عمر میں کرتارپور میں بابا جی کا انتقال ہو گیا۔(جاری ہے)

مزید : کالم


loading...