متبادل

متبادل
متبادل

  


شاعر نے کہا:

خلق ہم سے کہتی ہے

سارا ماجرا لکھیں

کس نے کس طرح پاپا

اپنا خوں بہا لکھیں

چشمِ نم سے شرمندہ

ہم قلم سے شرمندہ

سوچتے ہیں کیا لکھیں

کیا لکھیں؟ گردوپیش کے حالات میں جب خود سے بھی اتفاق نہ کرنے کا مسئلہ درپیش ہو تو ’’رزق‘‘ کو ’’عشق‘‘ سمجھنے والے لکھاری کیا لکھیں؟جب آدمی لکھے ہوئے ہر لفظ سے اوب گیا ہو، تو وہ کیا لکھے؟جب اُس کا گردوپیش دھند کی مصنوعی لپیٹ میں ہو، اور اُس کی ’’تشریح‘‘ طاقت کی تحویل میں چلی جائے تو پھر کسی کے پاس لکھنے کے لئے کتنا کم اندوختہ رہ جاتا ہے؟تذبذب، تردّداور اندیشوں کی آگ چاروں طرف پھیل رہی ہے اور اس سے دامن بچانے کا مسئلہ درپیش ہے، مگر یہ مملکت خداداد پاکستان ان سب چیزوں سے بڑھ کر ہے۔ اس کے تقاضے ہر طرح کے خطرات مول لینے کا جوش بھرتے ہیں۔ پاکستان زندہ باد!

جی نہیں! ہم حالات کے کسی خوش کن موڑ کی طرف نہیں بڑھ رہے ،بلکہ زیادہ بڑی ناکامیوں کی طرف بگٹٹ دوڑ رہے ہیں۔ معاشرتی زندگی جدلیاتی حرکت میں نمو پاتی ہے۔ یہ حرکت متبادل فراہم کرتی ہے۔ ایک دعویٰ (THESIS)معاشرے میں جڑ پکڑتا ہے۔ پھر اُس پر ماندگی کا ایک دور آتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک جوابی دعویٰ(ANTITHESIS)فطری طور پر اُبھر آتا ہے۔ یہ متبادل کی جدلیاتی حرکت ہے۔ اسی آویزش میں قابلِ عمل امتزاجی حل (SYNTHESIS) برآمد ہوتے ہیں۔ یہ ناگزیر ہے۔جو معاشرہ اس نظامِ حرکت سے محروم ہو وہ جمود کا شکار ہوتا ہے۔ یہ کہتے ہوئے اچھا نہیں لگتا کہ وہ اپنی اجتماعی موت کی طرف دھیرے دھیرے قدم بڑھاتا ہے۔ہم اسی بدقسمت گرداب کی لپیٹ میں ہیں، اگرچہ عرصۂ مہلت میں کچھ اقدامات سے اُمید بندھتی ہے، مگر ادھوری ادھوری ، ناتمام ناتمام!!

معاشرے میں خرابیاں اس لئے جنم لیتی ہیں کہ وہ اپنی جدلیاتی حرکت میں متبادل فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ پاکستان کے ہر شعبۂ حیات میں یہی مسئلہ بآنداز دگر درپیش ہے۔کراچی بھی اسی کا شکار ہے۔ ضربِ عضب کی جراحت اور بلوچستان کا معاملہ بھی اسی مسئلے سے دوچار ہے۔ ہماری ا فواج بڑے بڑے محاذوں پر سرگرم ہیں، مگر اُن کی جراحت مسئلے کو مکمل حل نہیں کر سکتی۔معاشرتی تقاضے کچھ اور بھی ہیں۔ اور فوج ہی نہیں حکومت بھی اس کا درست ادراک نہیں کر پارہی۔ کراچی کو لیجیے! کراچی کا مسئلہ کیا ہے؟یہ آبادی کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ اس کے کچھ مسائل اس کی مخصوص بناوٹ کی وجہ سے ہیں، مگر اس کے بیشتر مسائل اس پر مسلط کیے گیے ہیں۔ بدترین سیاست کے ہنگام یہ عسکری اور تمدنی تنازعات کی بھینٹ چڑھتا رہا ہے۔ کراچی آج جو کچھ بھی ہے اس کی ذمہ داری بھٹو کی پھانسی کے بعد پیپلز پارٹی سے نمٹنے کی فوجی حکمتِ عملی پر عائد ہوتی ہے۔ اس سے ذرا قبل یہ ایوب خان کا دور تھا جس نے یہاں بدترین عصبیت کے زہریلے بیج بوئے۔ ضیاء دور میں یہ جھاڑیوں کی شکل میں اُگ آئے۔ ان کے علاوہ معلوم نہیں،جنرل جہاں داد خان اور غوث علی شاہ کے متعلق تاریخ کن الفاظ میں فیصلہ صادر کرے گی؟مگر یہی وہ سب لوگ تھے جنہوں نے آج کا کراچی تخلیق کیا۔ کیا اس فضا میں بننے والے کراچی کے لئے کوئی’’ متبادل‘‘ گزشتہ چار دہائیوں میں فطری طور پر اُبھرنے دیا گیا؟ جواب سب کو معلوم ہے۔

کراچی سے اُبھرنے کے لئے کوشاں ہر فطری متبادل کا گلا طاقت سے گھونٹ دیا گیا۔ یہ ایک نہایت بہکی اور آوارہ حکمتِ عملی کا حصہ ہے کہ کراچی جیسے شہر کو ’’ایک ہاتھ‘‘ سے گرفت میں رکھنا چاہیے۔ اس معلوم حکمتِ عملی کو کراچی میں اس طرح برتاگیا ہے کہ ایم کیوایم کے حوالے سے بیرونِ شہر سے آنے والی ہر آواز کچھ اِسی نوع کی ہوتی ہے کہ ایم کیو ایم ایک حقیقت ہے ، بس الطاف حسین مطلوب نہیں۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ یہ کراچی کی نمائندگی تسلیم کرنے کا استدلال نہیں ، بلکہ نہایت خطرناک طور پر یہ نقطۂ نظر اُسی ذہن کی پیداوار ہے جو کراچی کو ایک آزمودہ ہاتھ سے گرفت میں رکھنے کا خواہشمند رہتا ہے۔ اِسی ذہن نے کراچی کی نمائندگی کے ذریعے نوّ ے کی دہائی کی پوری سیاست کو نائن زیرو سے اپنی نگرانی میں رکھا۔ اور مشرف دور میںیہی انتداب(مینڈیٹ) آمریت کے فروغ میں استعمال ہوتا رہا۔ کراچی کی اس سیاسی قوت سے غلطی بس یہ ہوئی کہ یہ ایک ہاتھ سے کھیلتے ہوئے متعدد ہاتھوں اور گودوں میں کھیلنے لگی۔ اس کا خود پر انحصار اس قدر بڑھ گیا کہ وہ بیرونی ہاتھوں میں خود کو ملک کی ایک ناقابلِ شکست قوت سمجھنے لگی۔ الزامات کی اس لمبی فہرست کو گنوانے کے باوجود بھی ہمارے اصل اور مقتدر منصوبہ ساز کراچی میں فطری متبادل کی نمو میں رکاوٹ کیوں بنے ہوئے ہیں اور وہ اپنے استدلال کو یہاں سے کیوں شروع کرتے ہیں کہ ایم کیوایم ایک حقیقت ہے ، مسئلہ اُس کی قیادت سے ہے۔

یہ مسئلہ ماہرین عمرانیات کی خدمت میں رکھنا چاہیے کہ جس شہر میں گزشتہ چار دہائیوں سے کوئی بڑا مسئلہ حل نہ ہو سکا ہو ، جو خدمات کی فراہمی کے نظام میں آگے جانے کے بجائے پیچھے چلا گیا ہو، جہاں بنیادی انسانی ضروریات کے مسائل ہر گزرتے دن بڑھتے ہی جارہے ہوں۔ پینے کا صاف پانی بھی اُس سے چھین لیا گیا ہو، ہر روز جوشہر دس لوگوں کی لاشیں اُٹھا تا ہو، جہاں دریافت شدہ علاج والی بیماریوں سے مریض محض سہولتوں کی عدم فراہمی سے مر جاتے ہوں، جہاں کے شہری نظام کی نگرانی بھی مقامی لوگوں کے ہاتھوں میں نہ رہی ہوں،جہاں کے مقامی لوگ تھانوں میں اپنی ماؤں ،بہنوں اور بیٹیوں کے لئے روز مادر زاد اور برہنہ گالیاں سننے کی رسوائی سہتے ہوں، جہاں کے شریف زادوں کو سڑکوں پر رینجرز اور پولیس کے ہاتھوں روز تلاشی دینے کی خفّت اُٹھانی پڑتی ہو، جہاں عام گھروں میں کسی بھی وقت کوئی بھی گھس کر تلاشی لے سکتا ہو، جس کے شہریوں کو سڑکوں پر کتوں بلیوں کی طرح مار کر پھینکنے پر سوال تک نہ اُٹھایا جاسکتا ہو، اُن کے جرائم کے شواہد تک طلب نہ کیے جاسکتے ہوں، جس کی وقائع نگاری تک یک رخی کردی گئی ہو اور جس کے متعلق گفتگو تک دوسرے شہروں کے اجنبی لوگوں سے کرائی جاتی ہو، وہاں کوئی نظام کام کیسے کر سکتا ہے؟ وہاں پر نمائندگی کا کوئی متبادل کیوں فراہم نہیں ہوپاتا؟ وہاں کی مایوسی کسی فیصلہ کن متبادل کی طرف متوجہ کیوں نہیں ہوتی؟ وہاں کے شہری اپنی آزادیوں کو ایک ہی جماعت کے پاس رہن کیوں رکھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں؟ وہاں کیا شرمناک سقم اور کربناک خلل واقع ہو چکا ہے؟ماہرینِ عمرانیات و سیاسیات معلوم نہیں اس کا کیا جواب دیں گے، مگر ایک آواز مشاہدے کی بھی ہے۔

مشاہدے کی آواز یہ ہے کہ 1992ء کی جراحت نے ایک ورثہ پیدا کیا تھا۔ جو 1999ء کی جراحت کا ہدف بنا۔ پھر 1999ء کی جراحت نے ایک ورثہ پیدا کیا، جس نے اس شہر کے درودیوار کو خون سے نہلا دیا۔ اب نئی جراحت کا بھی ایک ورثہ پیدا ہورہا ہے۔ خدا خیر کرے! اگر اسے موقع ملا تو یہ کیا کیاقیامتیں برپا کرے گا۔ معاشرے کی جدلیاتی نمو کا سبق یہ ہے کہ جو معاشرہ بہتر متبادل کی تخلیق نہیں کر سکتا وہ اپنا حال نہیں، بس اپنا ماضی بدلتا رہتا ہے۔ باقی ! جو قلم رہن رکھے گئے ، اُن سے انقلابی داستانیں تراشنے والوں کواُن کے حال پر چھوڑتے ہیں۔

مزید : کالم