ایمن الظواہری کا بیان تہذیبوں کے تصادم کو ہو ا دیگا،عبدالقدیر خاموش

ایمن الظواہری کا بیان تہذیبوں کے تصادم کو ہو ا دیگا،عبدالقدیر خاموش

لاہور(نمائندہ خصوصی) القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کا حالیہ بیان تہذیبوں کے تصادم کا نیا محاذ کھول سکتا ہے، نائن الیون کے بعد دنیا کو غیر محفوظ ہوگئی ہے۔ ہرسال اربوں ڈالرز سکیورٹی پر خرچ کئے جارہے ہیں۔ تنازعات کے حل کے لئے تمام مذاہب پر مشتمل اعلیٰ اختیاراتی کونسل قائم کی جائے وہ دہشت گردی کے عالمی اثرات کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کررہے تھے۔ سیمینار سے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما عبدالقادر شاہین، جوزف فرانسس، رومانہ بشیر، حافظ انس ظہیر اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ قاضی عبدالقدیر خاموش نے کہا کہ دہشت گردی پھیلانے والے قلعوں میں بیٹھ کر خود کو محفوظ سمجھتے تھے کہ وہ طاقت اور تشدد کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرسکتے ہیں لیکن بعد کے بدترین حالات سے ان کو بھی یقین ہوگیا ہے کہ دوسروں کو بدامنی اور دہشت گردی کا شکار کرکے وہ خود بھی محفوظ نہیں رہ سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کی وجہ سے دنیا بھر کی سکیورٹی پر اربوں ڈالرز خرچ ہورہے ہیں۔ جو پہلے انسانیت کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لئے صرف کئے جاتے تھے قاضی عبدالقدیر خاموش نے القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کے حالیہ بیان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تہذیبوں کے تصادم کا نیا محاذ کھول لیا ہے جو عالمی امن کے لئے انتہائی خطرنا ک ہوگا اور دنیا کو غیر محفوظ بنا نے کا باعث بنے گا اس کے سدباب کے لئے او آئی سی، نیٹو اور افریقی یونین کا مشترکہ اجلاس فی الفور طلب کیا جائے ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ امن قائم کرنے میں ناکام رہنے کی وجہ سے اپنی افادیت کھو بیٹھی ہے اس لئے اس کا حشر بھی ماضی کی لیگ آف نیشنز جیسا ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1