عمران خان کا منفی طرز سیاست پی ٹی آئی کیلئے مفید نہیں،رانا محمود الحسن

عمران خان کا منفی طرز سیاست پی ٹی آئی کیلئے مفید نہیں،رانا محمود الحسن

مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما وممبرپنجاب اسمبلی رانامحمودالحسن خاں نے کہا ہے کہ'' انصاف'' بھی تحریک انصاف کے دھرنے سے متاثرہوادھرنے کے نتیجہ میں عدالتی نظام مسلسل کئی روزمفلوج رہا اورسائلین کوشدیدمشکلات کاسامناکرناپڑا عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس انورظہیرجمالی کے حالیہ خطاب کو دھرنابرانڈ سیاسی جماعت اورقیادت کیخلاف چارج شیٹ قراردیاجاسکتا ہے چیف جسٹس انورظہیرجمالی نے درست کہا کسی ادارے کوحدودسے تجاوزکی اجازت نہیں ہماری حکومت اورقیادت خوداحتسابی کی حامی ہے ،ماضی میں بھی حکومت اورجماعت کے کئی اہم عہدیداران کیخلاف سخت قانونی کاروائی کی گئی اورآئندہ بھی کی جائے گی وہ ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ رانامحمودالحسن خاں نے مزید کہا کہ عمران خان کامنفی طرزسیاست ان کی صحت اور جماعت کیلئے مفید نہیں عوام کو یوٹرن کی سیاست سے انتہائی نفرت ہے،کپتان عمران خان کی آمرانہ سیاست کے نتیجہ میں تحریک انصاف کامستقبل تاریک ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کا جوڈیشل کمشن کی رپورٹ تسلیم کرنے کے بعدپھرسے ا نتخابی نظام پرانگلی اٹھانااورالیکشن کمیشن کے ارکان سے استعفیٰ مانگنا ناقابل فہم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم میاں نوازشریف نے کبھی اقتدارکیلئے جمہوری ،اخلاقی اورقومی اقدارکوروندنے کی اجازت نہیں دی۔وزیراعظم میاں نوازشریف نے دھرنامیں عمران خان کی بازاری زبان کوفراموش اور بڑے پن کامظاہرہ کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ارکان کوڈی سیٹ ہونے سے بچایا۔انہوں نے کہا کہ عوام نے پی ٹی آئی کواسمبلیوں کے اندرقومی ایشوزاورعوامی مسائل پربات کرنے کیلئے مینڈیٹ دیا ہے لہٰذاء عمران خان ذاتی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے منتخب حکومت کوبلیک میل کرکے اپنے ووٹرزکومایوس نہ کریں پاکستان میں تبدیلی دھرنوں یادھونس سے نہیں بلکہ ووٹ سے آئے گی اوراس کیلئے عمران خان کو2018ء تک انتظارکرناہوگا ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...