مقدمات کے فیصلے مقررہ مدت میں

مقدمات کے فیصلے مقررہ مدت میں

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے سوموار کو سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال 2015۔16ء کے آغاز کے سلسلے میں ہونے والی تقریب سے بھرپورخطاب کیا، ان کا کہنا تھا کہ آئین میں ریاست کے اختیارات کی تقسیم کا اصول وضع کر دیا گیا ہے، انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کو مخصوص اختیارات حاصل ہیں اور کوئی بھی ادارہ اپنی مقررہ حد سے تجاوز نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ اختیارات کی تقسیم ہی جمہوریت کی بنیاد ہے اور یہ اداروں کے درمیان چیک اینڈ بیلنس کو یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدلیہ نے ہمیشہ اپنے اختیارات کے استعمال میں آئینی اور قانونی حدود کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایسا حکم جاری کرنے کی کوشش کی ہے جس سے غیر قانونی اقدامات کی تصحیح ہو،اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ ملے اور ریاست کی بنیاد مضبوط ہو۔انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ مقدمات کے فیصلوں میں ہونے والی تاخیر حصول انصاف کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے، جوکہ کافی تکلیف دہ بات ہے ۔اس سے غریب اور نادار طبقے پر انتہائی برا اثر پڑتا ہے۔انہوں نے اس سلسلے میں وکلا کو بھی کہا کہ ایک طرف اپنے موکل کے حقوق کی حفاظت کرنا ان کا فرض ہے تو دوسری طرف بطور افسر عدالت جلد اور فوری انصاف کی فراہمی میں بھی انہیں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ مقدمات غیر ضروری التواء کا شکار نہ ہوں۔

جناب چیف جسٹس نے مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کے کئی اسباب بیان کئے، انہوں نے التوا کے سلسلے میں وکلاء کو تنبیہ کی تو ساتھ ہی اسلام آباد میں گزشتہ برس اگست میں دھرنا دینے والوں کو بھی نہیں بخشا،انہوں نے دھرنا نشینوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بیشتروکلاء اورسائلین دھرنے کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہو سکے جس کی وجہ سے بہت سے مقدموں کی سماعت نہیں ہو سکی اور فیصلوں میں تاخیر ہوئی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اٹھارہویں اور اکیسویں ترامیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت اورفیصلے میں دو ماہ صرف ہوئے، اس کے علاوہ پورا بنچ کئی ماہ تک 2013 ء میں ہونے والے عام انتخابات میں منظم دھاندلی کے الزامات سے متعلق درخواستوں کی سماعت میں مصروف رہا جس کی وجہ سے دوسرے مقدمات التوا کا شکا ر ہوئے۔انہوں نے زیر سماعت مقدمات کے حوالے سے تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ سپریم کورٹ کے ججوں نے گرمیوں کی چھٹیاں ہونے کے باوجود مقدمے سنے اور پندرہ ہزار کیس نمٹائے، جبکہ 26,000 ابھی باقی ہیں۔اگست2014 سے اگست 2015 تک 17,000 نئے کیس درج ہوئے،600 کیس دوبارہ کھولے گئے اور24000گزشتہ برس کے مقدمات تھے جن کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔سپریم کورٹ میں قائم ہیومن رائٹس سیل میں 12,305 کیس التوا کا شکار تھے، 26,731 نئے کیس رجسٹر ہوئے،جن میں سے 28,034 کیس نمٹائے جا چکے ہیں اوراب 11,002 مقدمے زیر سماعت ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت زیر التوا درخواستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے خود احتسابی کے اصول پر عمل پیرا ہونے کے لئے سپریم جوڈیشل کونسل کو مزید متحرک بھی کیا جا رہا ہے تاکہ جلد از جلد انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے ۔

جسٹس انور ظہیر جمالی نے حال ہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ کے سبکدوش ہونے کے بعد چیف جسٹس کی کرسی سنبھالی ہے ،جسٹس جواد تو صرف تئیس دنوں تک اس عہدے پر فائز رہے لیکن جاتے جاتے یہی کہہ کر گئے کہ پاکستان میں سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کا شدید فقدان ہے۔اب چیف جسٹس انور ظہیر جمالی غیر ضروری التوا کا شکار مقدموں کو نمٹانے کے لئے کافی پر عزم دکھائی دے رہے ہیں اور اس کو اپنی اولین ترجیح قرار دے رہے ہیں، اﷲ کرے کہ ایسا ہی ہو اور پاکستان میں قانون کی بالادستی قائم ہو۔فی الوقت تو پاکستان میں عدالتی نظام بہت زیادہ موثر معلوم نہیں ہوتا۔ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کی طرف سے جاری کردہ رول آف لاء انڈیکس2015 میں پاکستان کا نمبر 98 ہے، پاکستان کے بعد فہرست میں صرف تین ممالک اور ہیں جن میں زمبابوے، افغانستان اور وینزویلا شامل ہیں۔رول آف لاء انڈیکس میں پہلا نمبر ڈنمارک، دوسرا ناروے اور تیسرا سویڈن کا ہے، برطانیہ بارہویں جبکہ امریکہ کا نمبر انیس ہے۔بہت بڑا المیہ ہے کہ پاکستان میں کریمنل جسٹس سسٹم بہت سی مشکلات کا شکار ہے،یہاں تو لگتا ہے کہ کوئی سننے والا ہی نہیں ہے،کوئی والی وارث ہی نہیں ہے۔ہمارے وکلاء حضرات مقدمے لٹکائے چلے جاتے ہیں، تاریخ پر تاریخ لیتے رہتے ہیں، مدعی اپنی مرضی کے جج کی کورٹ میں کیس لگوانے کے لئے تگ و دو کرتے ہیں،مختلف طریقوں سے ججوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے بعض اوقات جج صاحبان بھی بحث برائے بحث میں الجھ جاتے ہیں۔

قومی ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام پر مختلف حلقوں میں شور تو بہت مچا، مخالفین نے اسے غیر آئینی قرار دیا لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ اگر ہمارا عدالتی نظام مضبوط ہوتا ، مجرموں کو سزائیں مل رہی ہوتیں تو فوجی عدالتوں کے قیام پر غور کرنے کی نوبت ہی نہ آتی ۔یہ کریمنل جسٹس سسٹم کی ہی کمزوری ہے کہ ملک میں لاقانونیت اس حد تک بڑھ گئی ہے۔اگر مجرموں کو سزا کا ڈر ہوتا تودہشت گردی اور شدت پسندی کی جڑیں اتنی مضبوط نہ ہوتیں۔یہاں تو جرم کرنے والے دندناتے پھرتے ہیں ،ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نوے فیصد مجرم ناکافی ثبوت ہونے کی بنیاد پربری ہو جاتے ہیں۔ مظلوم در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں، انصاف کی امید میں بچے جوان اور جوان بوڑھے ہو جاتے ہیں اور کئی تو جہان فانی سے ہی کوچ کر جاتے ہیں۔ایسی صورت حال میں آئین، عدالت اور پولیس کی افادیت سے عام آدمی کیسے آگاہ ہو سکے گا، اس تک اس کے ثمرات کیسے پہنچیں گے۔معاشرے میں امن و سکون یقینی بنانے کے لئے مقدموں کے فیصلے بلا تاخیر ہونے چاہئیں، مجرم کو ہر حال میں کیفر کردار تک پہنچنا چاہئے اور جھوٹے مقدمے دائر کرنے والوں کوبھی سزا ملنی چاہئے۔چند ماہ قبل سپریم کورٹ نے تمام ماتحت عدالتوں کے لئے مقدموں کے فیصلے سنانے کے لئے مدت مقررکی تھی اور ججوں کو اسی مدت میں فیصلہ سنانے کا حکم دیا تھا، اس کے نفاذ کے لئے قدامات کئے جانے چاہئیں۔

نظام کو مضبوط بنانے کے لئے ضروری ہے کہ انصاف کی فراہمی کے لئے بغیر کسی دباؤ کے غیر جانبدارانہ تحقیقات اور فیصلے کئے جائیں، لوگوں کے ساتھ کی گئی زیادتیوں کا مداواہو اور ظالموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے،ساتھ ہی ساتھ ملزم، چشم دید گواہ اور متاثرین کے حقوق کا تحفظ بھی انتہائی اہم ہے۔ہمارے ہاں تقاریرتو بہت ہوتی ہیں، جوش و جذبے کی بھی کمی نہیں ہے لیکن جب عمل در آمدکی بات آتی ہے تو حوصلے پست ہونے لگتے ہیں۔اب صرف زبانی جمع خرچ سے کام نہیں چلے گا بلکہ عملی نمونہ نظر آنا چاہئے۔یہ بات سمجھنی سب پر لازم ہے کہ انصاف میں تاخیر، انصاف نہ ہونے کے ہی مترادف ہے۔

مزید : اداریہ