ایم کیو ایم کی ہڑتال ناکام، کاروبار چلتا رہا، ریلی کامیاب تھی

ایم کیو ایم کی ہڑتال ناکام، کاروبار چلتا رہا، ریلی کامیاب تھی

کراچی سے نصیر احمد سلیمی

کراچی میں ایم کیو ایم کے ’’یوم سوگ‘‘ کی کال کے حوالے سے مختلف حلقے اپنے انداز میں تبصرے اور تجزیہ کررہے ہیں۔ ایم کیو ایم نے ’’سوگ‘‘ کال میں تاجروں سے کاروبار بند رکھنے اور ٹرانسپورٹروں سے گاڑیاں سڑکوں پر نہ لانے کی اپیل کی تھی۔ اس کال پر ’’بی بی سی‘‘ کے اس تبصرے کے بعد ’’کراچی میں ایم کیو ایم کی کال بے اثر رہی۔ شہر کھلا رہا‘‘ مزید تبصرے کی ضرورت نہیں رہتی اور ایم کیو ایم کے اس الزام میں بھی کوئی وزن نہیں رہتا کہ ’’کراچی میں رینجرز‘‘ نے زبردستی بازار کھلوائے ’’رینجرز‘‘ نے بازار کھلے رکھنے کی اپیل ضرور کی تھی اور تحفظ کی یقین دہانی بھی کرائی تھی، مگر ایم کیو ایم کا یہ تاثر دینا درست نہیں کہ بازار اور دکانیں کھولنے پر لوگوں کو مجبور کیا گیا، اگر ایسا کیا گیا ہوتا تو حیدرآباد اور میرپور خاص کے بھی سارے بازار اور دکانیں کراچی کی طرح کھلی نظر آتیں۔ حیدرآباد میں جن تاجروں اور دکان داروں نے اپنے بازار اور دکانیں بند رکھیں تو ان کو ’’رینجرز‘‘ نے زبردتی تو نہیں کھلوایا تھا۔ اگر ’’رینجرز‘‘ کو زبردستی کرنا ہوتی تو وہ ایم کیو ایم کی ریلی بھی نہ نکلنے دیتی۔ اتوار کو ایم کیو ایم کی ریلی میں شرکت سے اس کے کارکنوں کو میڈیا نے روکتے نہیں دیکھا۔ تعداد سے قطع نظر ریلی میں کارکنوں کی بھرپور شرکت تھی۔ ماضی کی طرح میڈیا آج بھی اسی طرح کے دباؤ میں ہوتا تو ہزاروں کی اس ریلی کو لاکھوں کی بھی بتاتا اور دن بھر اس کی لائیو کوریج کرنے کا بھی’’ پابند‘‘ ہوتا۔ اس بنیادی زمینی حقیقت کو تسلیم کرنے میں ایم کیو ایم کا بھی فائدہ ہے اور ایم کیو ایم کے سیاسی مخالفین کا بھی ،کہ کراچی میں جاری آپریشن نے مسلح دہشت گردوں اور ان کے ’’طاقت ور‘‘ ’’سرپرستوں‘‘ پر ہاتھ ڈال دیا ہے۔ سب کی خیر اسی میں ہے کہ وہ اپنی اپنی صفوں سے مسلح اسلحہ برداروں اور جرائم میں ملوث عناصر کو باہر کرکے، سیاست کو جرم اور کرپشن سے پاک کرنے میں کردار ادا کریں۔

اہل کراچی کی بھاری اکثریت اگر آپریشن پر خوش ہے اور اس کو ’’ہمہ اقسام‘‘ کے ’’مسلح جھتوں‘‘ کی بیخ کنی تک (جس میں مذہبی اور غیر مذہبی سارے انتہا پسند شامل ہیں) جاری رکھنے کی حمایت کرتی ہے تو وہ ایم کیو ایم یا کسی دوسری جماعت کی دشمن نہیں اور نہ ہی وہ آئین کے تحت قائم جمہوری نظام کی بساط لپیٹ کر ’’مارواء آئین اقدام کے خواہش مندوں‘‘ کی حامی ہے۔ اس کی آرزو اور تمنا تو بس اتنی ہے کہ کراچی میں مکمل امن ہو جائے اور لوگ کسی خوف اور دھونس کے بغیر آزادانہ زندگی گزار پائیں۔ لوگ کس جماعت کے امیدوار کو اپنا مینڈیٹ دیں گے۔ اس کا فیصلہ کسی اور نے نہیں صرف عوام نے ’’بیلٹ بکس‘‘ میں اپنا ووٹ ڈال کر کرنا ہے۔ بلدیاتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ سب جماعتوں کو ان انتخابات کو پُرامن اور پُرسکون ماحول میں آزادانہ ، غیر جانبدارانہ صاف شفاف طریقے سے کرانے کے لئے الیکشن کمیشن سے بھرپور تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔ الیکشن کمیشن کو بھی چاہیے وہ ماضی کے انتخابات خصوصاً 2013ء کے عام انتخابات کی کمزوریوں، بے قاعدگیوں اور انتخابی عمل کی مجرمانہ غفلت کا سدباب کرنے کے لئے فول پروف انتظامات کو یقینی بنائے۔ اس کے لئے سیاسی جماعتوں پر فرض ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کی 31اکتوبر کو ہونے والی پولنگ سے پہلے پہلے انتخابی اصلاحات کا پیکیج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے اتفاق رائے سے منظور کرائے، تاکہ الیکشن کمیشن ایک بااختیار اور خود مختار ادارے کے طور پر ڈے آف پولنگ ’’بیلٹ‘‘ کے فیصلے کو ’’بلٹ‘‘ سے بدلنے کی کوشش کرنے والوں کو موقع پر ہی عبرت کا نشان بنانے کا آئینی اور قانونی اختیار رکھتا ہو، جناب عمران خان اور پیپلزپارٹی سمیت ان تمام جماعتوں کو جو الیکشن کمیشن کے ارکان کو دباؤ کے ذریعہ بدلنے کی مہم چلا رہے ہیں جلد از جلد انتخابی اصلاحات کے پیکیج کو موثر بنانے اور پارلیمنٹ سے پاس کرانے کی سعی کرنی چاہیے۔ موثر انتخابی اصلاحات کے پیکیج سے ان کی شکایات کا ازالہ خود بخود ہو جائے گا، ایک اہم بات جس پر الیکشن کمیشن کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وہ ہے انتخابی ضابطہ اخلاق کا سارے امیدواروں کو پابند کرنا اور میڈیا کے ذریعہ ضابطہ اخلاق کی موثر تشہیر کرنا آئین کے تحت کوئی جماعت یا آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے والا کوئی ایسا نعرہ لگا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی زبان اور نسل یا علاقائیت کی عصبیت پر مبنی انتخابی مہم چلا سکتا ہے اور نہ ہی ان نعروں کی بنیاد پر ’’کوئی کارڈ‘‘ استعمال کر سکتا ہے۔ بدقسمتی سے سندھ میں بلدیاتی انتخاب میں بھی ’’سندھ کارڈ‘‘ اور ’’مہاجر کارڈ‘‘ کی باز گشت سنی جا رہی ہے۔

سندھ میں 1988ء سے اب تک ’’کارڈ‘‘ کا ہی راج ہے۔ پیپلزپارٹی جو ایک ملک گیر قومی سیاسی جماعت ہے جس کا پاور بیس 1970ء میں پنجاب تھا۔1988ء کے عام انتخاب کے بعد سے اب تک پاور بیس سندھ ہے پیپلزپارٹی سندھ میں اس پاور بیس کو برقرار رکھنے کے لئے ہر انتخاب میں ’’سندھ کارڈ‘‘ کو سب سے موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

دوسری طرف سندھ کے شہری علاقوں کا مینڈیٹ حاصل کرنے کے لئے ایم کیو ایم کا بھی سب سے موثر ہتھیار ’’مہاجر کارڈ‘‘ ہے ایم کیو ایم کے رہنما جناب وسیم احمد نے تو چند دن قبل میڈیا ٹاک شو میں بہ بانگ دہل کہہ دیا ہے کہ میں ’’مہاجر ہوں مہاجر کارڈ‘‘ استعمال کروں گا سوال مگر یہ ہے کہ کیا آئین اور پاکستان کا قانون کسی فرد اور جماعت کو ’’نسل، زبان‘‘ اور فقہی مسلک کی بنیاد پر ووٹ مانگنے کی اجازت دیتا ہے یا نہیں؟ اس کا واضح اعلان الیکشن کمیشن کو فوری کرنا ہوگا۔ ورنہ خطرہ ہے کہ اس بار ’’سندھ کارڈ‘‘ اور ’’مہاجر کارڈ‘‘ کا استعمال کوئی بڑا فساد پیدا کر دے گا، کیونکہ کارکردگی کی بنیاد پر پیپلزپارٹی سندھ کے عوام سے ووٹ مانگنے کے قابل ہے اور نہ ہی ایم کیو ایم اس قابل ہے کہ وہ ’’مہاجر کارڈ‘‘ کو استعمال کئے بغیر کوئی بہتر کارکردگی دکھا پائے، تاہم اس زمینی حقیقت کا کسی کو انکارنہیں کرنا چاہیے کہ اندرون سندھ پیپلزپارٹی کا اور سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیو ایم کا ووٹ بینک بدستور موجود ہے، اس کا فیصلہ بلدیاتی انتخاب میں ہوگا کہ کس کا کتنا ووٹ بینک کم یا زیادہ ہوا ہے۔

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ 31اکتوبر کو لاڑکانہ اور سکھر ڈویژن میں ہوگی۔ سکھر ڈویژن میں تین اضلاع سکھر، خیرپور اور ضلع گھوٹکی ہیں جبکہ لاڑکانہ ڈویژن میں پانچ اضلاع ہیں۔ لاڑکانہ قنبر،شہداد کوٹ، شکار پور، جیک آباد اور کشمور کندھ کوٹ۔ ان 8اضلاع میں کتنے امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوتے ہیں اس کا صحیح صحیح اندازہ تو کاغذات نامزدگی واپس لینے کی تاریخ گزرنے کے بعد ہی ہو سکے گا، کاغذات نامزدگی واپسی لینے کی تاریخ 17ستمبر ہے۔ پیپلزپارٹی کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے اپنے چیئرمین بلاول بُھٹو زرداری کے اس فیصلے کو ہوامیں اڑا دیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں کسی رکن اسمبلی اور وزیر کے رشتے داروں کو بلدیات کا ٹکٹ نہیں دیا جائے گا۔بلاول کے اس فیصلے کی پابندی پہلے مرحلے میں تو کسی نے نہیں کی ہے۔ سکھر سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے اپنے بیٹے کو اور سندھ کے صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے اپنے بیٹے کو پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر بلا مقابلہ کامیاب بھی کرا لیا ہے۔ شکاپور میں ابراہیم جتوئی نے پانچ ضلع کونسل کے غوث بخش مہر نے ایک ضلع کونسل میں ایک اور پیپلزپارٹی نے اپنے ضلع کونسل کے تین امیدواروں کو بلا مقابلہ کامیاب کرا لیا ہے۔ لاڑکانہ ڈویژن میں شکار پور واحد ضلع ہے جس میں ضلع کونسل کے نوامیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہو چکے ہیں۔ ضلع لاڑکانہ میں سندھ کے سینئر وزیر نثار کھوڑو کی بیٹی اپنے آبائی گاؤں ’’عاقل‘‘ کی نشست سے ضلع کونسل کی امیدوار ہیں ان کو بلامقابلہ کامیابی کی امید تھی مگر لاڑکانہ کی سطح پر بلدیاتی انتخاب کے لئے عوامی اتحاد نے یہ امید پوری نہیں ہونے دی ہے۔ کوشش ابھی جاری ہے۔ دیکھئے 17ستمبر تک یہ کوشش کامیاب ہوتی ہے یا نہیں؟ اہم بات یہ ہے کہ لاڑکانہ میں پیپلزپارٹی نے اپنے چیئرمین بلاول کے فیصلے کی پاسداری کی ہے اور نہ ہی اس بار پیپلزپارٹی اپنا کوئی امیدوار بلا مقابلہ کامیاب کرانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ حاجی منور عباسی کی کنونیرشپ اور ممتاز بھٹو کی سرپرستی میں قائم عوامی اتحاد کیا نتائج دے پائے گا۔ اس کا صحیح صحیح اندازہ تو اس وقت لگانا مشکل ہے، مگر اس اتحاد نے پیپلزپارٹی کو دباؤ کا شکار ضرور کر دیا ہے۔سکھر، شکار پور کی طرح ضلع گھوٹکی کے بااثر سرداروں نے بھی سردار علی محمد مہر ، سردار علی گوہر اور ان کے مخالف دھڑے کے سردار خالد لونڈ نے اپنے اپنے بیٹے بلامقابلہ کامیاب کرا لئے ہیں۔ البتہ لاڑکانہ ڈویژن میں ابھی تک کوئی ایسی کوشش میں کامیاب نہیں ہوئی۔

مزید : ایڈیشن 1