وزیراعظم کی جانب سے زرعی پیکیج کا اعلان

وزیراعظم کی جانب سے زرعی پیکیج کا اعلان
وزیراعظم کی جانب سے زرعی پیکیج کا اعلان

  


خوشحالی کسان کی ۔۔۔ترقی پاکستان کی

وزیراعظم نواز شریف اوروزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف کی خصوصی کاوشوں کی بدولت میں وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں ،پاکستان بھر سے کسان اور کاشتکارتنظیموں سے مشاورت کے طویل عمل کے بعد حکومت پاکستان کی جانب سے زراعت کے شعبہ میں ایک تاریخی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ بلاشبہ یہ پیکیج پاکستان کی تاریخ میں زرعی شعبے میں انقلاب اورکسانوں اور کاشتکاروں کی بہتری کے لیے ایک منفرداور تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ا س سلسلہ میں وزیراعلیٰ پنجاب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے ہر پلیٹ فارم پر کسانوں اور کاشتکاروں کے تحفظات اور انہیں درپیش مالی مسائل کو اُجاگر کیا۔وزیراعظم محمد نواز شریف کی جانب سے کسان کنونش کے موقع پرپیش کیے گئے اس تاریخی ریلیف پیکج کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جس کاپہلا حصہ براہ راست مالی تعاون کا ہے۔ دوسرا حصہ پیداواری لاگت کو کم کرنے کا ہے ،تیسرا حصہ زرعی قرضوں کی فراہمی کا ہے اور آخری حصہ قرضے کے حصول کو آسان بنانے کے لیے ہے۔

اس تاریخی پیکیج کی روشنی میں براہ راست ریلیف کے لیے چاول اور کپاس کے کاشت کاروں کو فوری Cash Supportاداکرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔عالمی منڈی میں چاول کی قیمتیں گرنے اور برآمدات میں کمی کی وجہ سے چاول کے کاشت کار غیریقینی صورتحال سے دوچار ہیں جس سے نئی فصل کی آمد پر کسانوں کو فروخت میں دشواری کا سامنا ہے۔ اس لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے چھوٹے کسانوں کو پانچ ہزار روپے فی ایکڑ Cash Support ادا کی جائے گی۔ یہ رقم ساڑھے بارہ ایکڑ تک رقبے پر چاول کاشت کرنے والے کسانوں کو دی جائے گی۔اِس پر تقریباً بیس ارب روپے خرچ ہوں گے جو صوبائی حکومتیں اور وفاقی حکومت مساوی طور پر برداشت کریں گی۔اس پیکیج میں کسانوں کے ساتھ ساتھ چاول کے تاجروں کی مشکلات کم کرنے کا بھی اعلان کیاگیاہے۔ چاول کی خریداری کے لیے جو قرضے حاصل کیے تھے ان کا چونتیس ارب روپیہ واجب الادا ہے۔اس قرضے کی با سہولت واپسی کے لیے حکومت ، اسٹیٹ بینک اور دیگر بینکوں نے مل کر خصوصی طریقہ کار وضع کیا ہے جس کے تحت قرض کی مدت میں اضافہ ہو گا اور ادائیگی30جون 2016ء تک مؤخر ہو جائے گی۔ تاجروں کے پاس نیا چاول خریدنے کے لیے رقم دستیاب ہو گی، جس کا فائدہ کاشت کاروں کو بھی پہنچے گا۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے ایران،مشرقِ وسطیٰ اور دیگر ممالک میں چاول برآمدات پر خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اسی طرح چاول کے علاوہ کپاس کے کاشت کار وں کے لیے بھی خصوصی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے۔ کپاس کے چھوٹے کاشت کاروں کو فی ایکڑ پانچ ہزار روپےCash Support جبکہ ساڑھے بارہ ایکڑ تک رقبے پر کپاس اُگانے والے کسانوں کو یہ رقم دی جائے گی۔جس پر بیس ارب روپے خرچ ہوں گے، جوصوبائی حکومتیں اور وفاقی حکومت مل کر ادا کریں گے۔

کسانوں کی بنیادی ضرورت کھاد کی قیمتیں کم کرنے کے لیے حکومت نے بیس ارب روپے کا ایک فنڈ قائم کرنے اعلان کیا ہے۔ جس میں صوبائی اور وفاقی حکومتیں برابر کی حصے دار ہوں گی۔ پوٹاشیم اور فاسفیٹ کھاد زمین کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے میں اہمیت رکھتی ہیں۔اِن دونوں کھادوں کی قیمتوں میں فی بوری کم از کم پانچ سو روپے کمی واقع ہو جائے گی۔ اِس کے علاوہ یوریا کھاد کی قیمتیں مستحکم رکھنے کے لیے حکومت ہر سال سرکاری خرچ پر یوریا درآمد کرتی ہے جو کسانوں کو سستے داموں فراہم کی جاتی ہے۔ اس سال اس کے لیے پچیس ارب روپے رکھے گئے ہیں۔اس کے علاوہ حکومت گیس کمپنیوں اور کھاد ساز کارخانوں سے بات چیت کر کے مقامی کھاد کی قیمتیں پرانی سطح پر واپس لانے کی کوشش کررہی ہے۔جس سے حالیہ دنوں میں کیا گیا 200روپے فی بوری کااضافہ واپس ہو جائے گا۔ اسی طرح کسانوں کو فصلوں کی انشورنس کی سہولت دینے کے لیے چھوٹے کاشتکاروں کو فصلوں کے لیے اٹھائے گئے قرضوں کی انشورنس کے لیے Premium حکومت نے خود ادا کرنے کا فیصلہ کیاہے جس پر اڑھائی ارب روپے خرچ ہوں گے۔جس سے تقریباً سات لاکھ چھوٹے کاشت کاروں کو فائدہ پہنچے گااور قرضوں کی ادائیگی کے لیے کسان پر بوجھ نہیں پڑے گا۔

اسی طرح ساڑھے بارہ ایکڑ یا اس سے کم زمین رکھنے والے کسانوں کو سولر ٹیوب ویل نصب کرنے یا موجودہ ٹیوب ویل کو شمسی توانائی پر تبدیل کرنے کے لیے بلا سود قرضے دیے جائیں گے۔اِن قرضوں پر سات سال کا مارک اَپ وفاقی حکومت ادا کرے گی،جس پر ساڑھے چودہ ارب روپے خرچ ہوں گے۔ جس سے روزانہ پانچ گھنٹے ڈیزل انجن چلانے والے کسان کو سولہ سو ساٹھ روپے اور بجلی سے ٹیوب ویل چلانے والے کسان کو تقریباً پانچ سو روپے یومیہ بچت ہو گی۔ بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویل کو پہلے ہی رعایتی نرخ پر بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ رواں مالی سال میں 30جون 2016ء تک زرعی ٹیوب ویل کے لیے بجلی کا رعایتی نرخ10.35روپے پیک آور کے لیے مقرر کیا گیا ہے اور 8.85روپے آف پیک آور کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔پرانے بل کی ادائیگی 31دسمبر 2015ء تک کی جا سکے گی۔ بجلی کے نرخوں میں رعایت فراہم کرنے کے لیے وفاقی حکومت سات ارب روپے ادا کرے گی۔ ان بلوں پر سیلز ٹیکس کی ادائیگی صوبائی حکومتیں کریں گی جو سات ارب روپے کے برابر ہے۔ اس طرح کسانوں کو بجلی کے ٹیوب ویل سے آبپاشی کرنے کے لیے چودہ ارب روپے کی معاونت حاصل ہو گی۔پاکستان میں زرعی مشینری کی درآمد کسٹم ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس وغیرہ کی شرح 43 فیصدبن جاتی ہے۔ موجودہ مالی سال میں زرعی مشینری کی درآمد پر تمام محصولات کو کم کر کے 9فیصد کی شرح کر دی گئی ہے۔اسی طرح رواں سال چاول کی خریدوفروخت میں کاروباری حضرات کودرپیش نقصانات مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سال 2015-16کے لیے Rice Millers کوTurn-over Tax میں مکمل چھُوٹ دی جائے گی جبکہ زرعی اجناس پھلوں،سبزیوں اورمچھلی کی تجارت میں کولڈ چین Cold Chain کی صنعت اور سہولت کی حوصلہ افزائی کے لیے انکم ٹیکس پرتین سال کی چھوٹ دی جا رہی ہے۔زمین کی تیاری ، فصل کی کاشت ،کٹائی اور ذخیرہ کرنے آب رسانی اور نکاسیِ آب میں استعمال ہونے والی مشینری کی درآمد اورمقامی خریداری پر سیلز ٹیکس کی شرح کو 17فیصد سے کم کر کے 7 فیصد کرکیا گیا ہے۔

حلال گوشت میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اس صنعت میں جدید ترین مشینری اور آلات کی حوصلہ افزائی کے لیے پیداواری یونٹ لگانے والوں کو چار سال کے لیے انکم ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے۔جس کے لیے انہیں 31دسمبر2016ء سے پہلے’’ حلال‘‘ کی باقاعدہ تصدیق حاصل کرنا ہوگی۔تازہ دُودھ اور پولٹری سپلائی میں بھی کچھ شرائط پوری کرنے پر وِد ہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ کے ساتھ ساتھ اس میں مچھلی کی سپلائی کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ان تمام سہولیات اور ٹیکس مراعات کا مقصد زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے ،کسان کی لاگت میں کمی لانا اور زرعی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔حکومت اس حوالے سے پندرہ ارب روپے کے اخراجات برداشت کرے گی۔

چھوٹے کسانوں کو قرضہ دینے والے کمرشل اور مائیکرو فنانس بینکوں کو زرعی قرضے پر 50فیصد نقصان کی گارنٹی دینے کی سکیم بنائی گئی ہے۔جس کے تحت ہر سال پانچ ایکڑ نہری اور دس ایکڑ بارانی ملکیت والے تین لاکھ کسان گھرانوں کو ایک لاکھ روپے تک بغیرCollateral قرضے کی سہولت حاصل ہو گی۔یہ رقم تیس ارب روپے بنتی ہے۔ضرورت پڑنے پر حکومت کو پانچ ارب روپے تک کی ادائیگی کرنا پڑ سکتی ہے۔مزید برآں حکومت نے بینکوں کو کسانوں کی سہولت کے لیے زرعی قرضے جاری کرنے پر زور دیا ہے تاکہ کسانوں کو بروقت سرمایہ فراہم کیا جا سکے اور انہیں آڑھتیوں اور ساہوکاروں سے ممکنہ حد تک چھٹکارا مل سکے۔اس مقصد کے لیے حکومت نے 30جون 2015ء تک اس فنڈکو بڑھا کر پانچ سو ارب کر دیا ہے اور رواں مالی سال میں مزید ایک سو ارب کے اضافہ کا فیصلہ کیا ہے۔سو ارب روپے کے اضافی قرضے ساڑھے بارہ ایکڑ رقبہ رکھنے والے کسانوں کو دیے جائیں گے۔ آئندہ دو سالوں میں یہ رقم اور بڑھا دی جائے گی۔

حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی کوششوں سے زرعی قرضوں کے مارک اَپ ریٹ میں دو فیصد کمی لائی جارہی ہے جس سے کسانوں کو سالانہ گیارہ ارب روپے فائدہ ہو گا۔قرض کی فراہمی کے لیے زمین کی قدر میں اضافے کو تسلیم کیا جائے گا۔ زرعی اراضی کی قیمت میں اضافہ کی بدولت پیداواری یونٹ کی ویلیوValue دو ہزار روپے سے بڑھا کر چار ہزار روپے کر دی گئی ہے۔اس طرح کسان اپنی موجودہ زمین پر بھی دو گُنا مالیت کا قرض حاصل کر سکے گا۔وزیراعظم کی جانب سے اعلان کیے گئے اس تاریخی پیکیج سے کسانوں کو خاص طور پر چھوٹے کسانوں کو 147۔ارب روپے کا براہ راست فائدہ ہو گا، جب کہ زرعی شعبے کو 194۔ارب روپے کے اضافی قرضے میسر آ سکیں گے۔ یعنی زرعی شعبے کو کل 341ارب روپے کے قرضے میسر آسکیں گے۔

وزیراعظم محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے زرعی ترقی کے ویژن کے بدولت ایک طویل مرحلے سے گزر کر پاکستان میں پہلی مرتبہ ایک جامع زرعی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے۔ یقیناپاکستان بھر سے کسانوں ، کاشتکاروں اور ہاریوں کے لیے خوشی کا دن ہے۔ یہ پیکیج زراعت کے شعبہ میں چھائے اندھیروں سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد گارثابت ہوگا۔اُمید کی جاتی ہے کہ ملکی تاریخ میں زراعت کے شعبہ کے لیے اس منفرد وتاریخی پیکیج کی بدولت پاکستان میں زرعی انقلاب رونما ہوگا۔اس سے نہ صرف پاکستان میں زراعت جدید ترین خطوط پر استوار ہوگی بلکہ کسانوں ،کاشتکاروں اور تاجروں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔گذشتہ کچھ عرصے سے کسانوں اور کاشتکاروں سے کی جانے والی زیادیتوں ممکنہ حد تک ازالہ ہوسکے گا۔بلکہ کسان کو ہر وقت کے خوف اور وسوسے سے چھٹکارا مل سکے گا۔جس سے وہ اپنی تمام تر توانائیاں ، تمام تر قوتیں اپنی فصل اور اپنی خوشحالی پر صرف کر سکیں گے۔یہاں اس امر کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ اس زرعی پیکیج کی تشکیل کے ہر مرحلہ پر وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف ،صوبائی وزیرزراعت ڈاکٹر فرخ جاوید اور محکمہ زراعت پنجاب وقتاً فوقتاً صوبہ بھر سے کسان اور کاشتکارتنظیموں کے وفود سے مشاورت کر کے اس تاریخی پیکیج کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

مزید : کالم