کسانوں کیلئے 341ارب کے مراعاتی پیکیج کا اعلان ،100ارب روپے کے اضافی قرضے بھی ملیں گے

کسانوں کیلئے 341ارب کے مراعاتی پیکیج کا اعلان ،100ارب روپے کے اضافی قرضے بھی ...

اسلام آباد(آن لائن،آئی این پی ،اے این این) وزیر اعظم نواز شریف نے کسانوں کے لئے341ارب روپے کے مراعاتی پیکج اور100ارب روپے کے اضافی قرضوں کا اعلان کیا ہے اور قرض فراہم کرنے کیلئے ون ونڈو آپریشن کے آغاز کی نوید بھی سنا دی ،جبکہ ساڑھے12ایکٹر اراضی تک کے چھوٹے کسانوں کو5ہزار روپے فی ایکڑ نقد رقم فراہم کی جائے گی،کھاد کی فی بوری قیمت میں500روپے کمی کی جائے گی،کسانوں کو بلا سود قرضے اور ٹیوب ویل کے بجلی بلوں میں رعایت کے لئے7ارب روپے سبسڈی دی جائے گی،ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لئے147ارب روپے دئیے جائیں گے،حکومت فصلوں کا انشورنس پریمیئم خود ادا کریگی،وفاق اور صوبے مل کر کسانوں کو امدادی پیکیج دینگے،گندم ،چاول ،دیگر اجناس کی امدادی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا،زرعی اجناس اورپھلوں کی درآمدپر3سال کے لئے انکم ٹیکس میں چھوٹ دی جائے گی۔کسانوں کے لئے نئے مراعاتی پیہکج کا اعلان وزیر اعظم نے کنونشن سینٹر اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس سے قبل مراعاتی پیکیج کی منظوری وفاقی کابینہ کے اجلاس میں لی گئی۔اپنے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ مراعاتی پیکج سے کسانوں اور کاشتکاروں کی تکالیف میں کمی آئے گی۔ پیکیج کسانوں پر احسان نہیں بلکہ حکومت کا فرض ہے اور آپ کا حق ہے ۔انھوں نے ملک میں امن و امان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم معاملات کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں آج سے دو یا چار سال پہلے دہشتگردی کے واقعات روزانہ ہوتے تھے۔ بجلی کا بڑا برا حال تھا امن نہیں تھا، کراچی میں حالات ٹھیک نہیں تھے جس دن ہم اقتدار میں آئے تو پاکستان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ پاکستان زیاد ہ سے زیادہ 2014تک ڈیفالٹ کر جائے گا واقعی پاکستان کی اقتصادی صورتحال کمزور تھی اور ہمیں بھی چیلنج لگتا تھا اور سوچ رہے تھے کہ اس چیلنج سے کیسے نمٹیں گے۔انھوں نے کہا کہ ہم سے پہلے پاکستان میں آئے دن سیکنڈلز ہوتے تھے ،روز ٹیلی ویثرن پر مختلف قسم کے سیکنڈلز کی خبریں سنتے اور اخباروں میں پڑھتے تھے، روز نیا سیکنڈل اربوں روپے کا آتا تھا ۔ نوازشریف نے کہا کہ یہ تصویر اپنی آنکھوں کے سامنے لائیں اور اس کا آج کی تصویر سے موازنہ کریں ۔ اللہ کے فضل سے تبدیلی نظر آئیگی ۔ پاکستان کے معاشی اعشاریے پہلے سے بہتر ہو رہے ہیں ۔ یہ دنیا کی ایجنسیز کہہ رہی ہیں وہ پاکستان کا اعتبار کر رہے ہیں ۔پاکستان اور چین نے مل کر اقتصادری راہداری کی بنیاد رکھی ہے ۔ یہ ترقی کا پیغام ہے ۔راہداری پر کام شروع ہو چکا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں 15سال کے بعد حکومت کرنے کاموقع ملا ہے ۔ماضی میں پاکستان میں بڑے منصوبوں کی بنیاد مسلم لیگ(ن )نے رکھی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ موٹروے، غازی بروتھا ڈیم ہم نے بنایا ۔ دفاعی لحاظ سے ایسی خدمت کر گئے جو تاریخ میں لکھی جا چکی ہے ورنہ کس کی مجال تھی کہ وہ پاکستان کو ایٹمی قوت بناتا یہ عزت بھی ہمارے حصے میں آئی ہم نے دلیری و جرات کے ساتھ فیصلہ کیا ہم نے بزدلی کے ساتھ فیصلہ نہیں کیا ۔ وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان کے اقتصادی میدان میں ترقی ہوئی تو دفاعی میدان میں بھی ترقی ہوئی ۔ آج دشمن پاکستان کے ساتھ لڑائی یا فساد نہیں کرسکتا، اسے پتا ہے کہ پاکستان ایٹمی قوت ہے ہندوستان دھماکے کر چکا تھا ہم کرنے کی تیار کر رہے تھے تو دنیا کے لیڈروں نے مجھے فون کیے آپ ایسا نہ کریں ہم ہندوستان سے جواب طلبی کریں گے ہم پوچھیں گے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا میں نے کہا آپ پہلے ان سے پوچھیں کہ انہوں نے ایسا کیوں کیاہمیں جواب طلبی نظر آئے گی تو ہم سوچیں گے کہ ہمیں دھماکے کرنے چاہئیں یا نہیں لیکن آپ جب تک جواب طلبی نہیں کریں گے ہم کیسے آپ کو کہہ سکتے ہیں کہ ہم دھماکے نہیں کریں گے ۔ امریکی صدر کا ایک فون پھر دوسرا ،تیسرا، پانچواں فون آیا ۔ انہوں نے دیکھا کہ نوازشریف ٹس سے مس نہیں ہو رہا تو انہوں نے کہا کہ ہم پانچ ارب ڈالرز کا پیکج دیتے ہیں اگر کوئی اور ہوتا تو وہ سمجھتا کہ پانچ ارب ڈالر کا پیکچ لے لو کچھ جیب میں ڈالیں گے کچھ ملک پر خرچ کرلیں گے ۔ انہوں نے مجھے آفر کی لیکن میں نے انکار کر دیا کہ ہمیں کوئی امدادی پیکچ نہیں چاہیے ۔ ہمیں اپنی عزت و وقار امدادی پیکچ سے زیادہ عزیز ہے ۔ ہم ایسی قوم ہیں کہ ایسی کئی پیکچ کما لیتی ہے ۔ قوم کے پاس ہر جذبہ ہے لیکن پاکسان کو ایٹمی قوت بننے کا موقع پھر نہیں ملے گا۔ ہم نے ایٹمی دھماکے کر دیئے اورپاکستان کو مضبوط دفاع فراہم کیا۔ نواز شریف نے کہا کہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو امدادی پیکچ پر خوش نہیں وہ نہیں چاہتے کہ کسانوں کی خدمت کی جائے کسی پیکچ کا اعلان کیا جائے ۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طریقے سے نوازشریف کو باہر نکالاجائے اور اپنے آپ کو اندر بیٹھایا جائے کوئی ایسا سلسلہ بنے کی نواز جائیں اور ہم آئیں ۔ پاکستان کے 20کروڑ عوام کی فکر کرو پاکستانی قوم مشکلوں کی شکار ہے اس کو آڑے سے نکالنا بڑا ضروری ہے ۔ اب خد خدا کرکے اچھے کام ہونا شروع ہو ئے ہیں میں ان لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ دہشتگردی کیخلاف لڑائی ہمیں ہی لڑنا تھی یہ پہلے کسی نے کیونکہ نہیں لڑی کوئی مجھے اس کا جواب بتائے کراچی کا آپریشن ہم نے ہی شروع کرنا تھا پہلے کیوں نہیں کسی نے شروع کیا ۔ اس ملک کو لوڈشیڈنگ سے نجات ہم نے دینی تھی پہلے کسی کو خیال کیوں نہیں آیا۔ گیس کی کمی کو پورا کرنے کی ذمہ داری کو ہم نے پورا کرنا تھا پہلے کسی نے کویں نہیں کیا۔ موٹروے ہمیں بنانا تھی پہلے کسی نے کیوں نہیں بنائی ۔ کسانوں کے حوالے سے سوچنا ہم نے تھا پہلے کسی نے کیوں نہیں سوچا ۔ ہم نے یہ ذمہ دار محسوس کی ہمیں قوم کا درد ہے ۔ ہم پیسہ بنانے کیلئے نہیں آئے بلکہ اپنی جیب سے پیسہ خرچ کرکے معاملات کو چلاتے ہیں ۔ ذاتی معاملات کیلئے سرکاری فنڈز استعمال نہیں کرتے پاکستان کی ایک ایک پائی قوم کی امانت سمجھتے ہیں ۔ امانت میں خیانت ہمارے نزدیگ بڑا گناہ ہے ۔ قوم کی خاطر دن رات محنت کر رہے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ قوم مشکلات اور مصبیتوں سے نکلے اور خوشحالی کی طرف آئے ۔ بھاشا ڈیم ہماری حکومت نے بنانا تھا جو پاکستان کے اندر سب سے بڑا ڈیم ہوگا اس کیلئے ہم نے اربوں روپے کی زمین خریدی ہے 101 ارب روپے سے زمین خریدی ہے زمین پر بھاشا ڈیم بنے گا اور پانی کا بہت بڑا ذخیرہ جمع ہوگا ہمارے ملک میں کاشتکاروں کیلئے بہت بڑا تحفہ ہوگا پاکستان کے اندر پانی زیادہ میسر ہوگا جس پر ایک ہزار روپے سے زائد خرچ ہونگے ۔ بھاشا ڈیم پر کام جلد شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ کسانوں کے مراعاتی پیکج کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی گئی ہے،وزیر زراعت سکندر بوسن کی سربراہی میں کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو مستقل بنیادوں پر دیکھے کہ ہر ایکڑ پیداوار کو کس طرح بڑھایا جائے کسان کیلئے پیکیج کیلئے کافی میٹنگز ہوئی ہیں میں بھی ان میں شریک ہوا ۔ اپنی سوچ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے کسان بھائیوں کیلئے ریلیف پیکیج تیار کیا گیا ہے اس طرح ریلیف پیکیج کے چار حصے ہیں پہلا حصہ براہ راست مالی تعاون کا ہے دوسرا حصہ پیداواری لاگت کو کم کرنے کا ہے تیسرا حصہ قرضوں کی فراہمی کا ہے اور چوتھا حصہ قرضے کے حصول کو آسان بنانا ہے، براہ راست ریلیف کیلئے چاول اور کپاس کے کاشتکاروں کو فوری کیش سپورٹ ادا کی جائے گی چاول کے کاشتکار بہترین فصل کے باوجود غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں کیونکہ عالمی منڈی میں چاول کی قیمت گرنے سے برآمدات شدید متاثر ہوئیں اور چاول کا ذخیرہ کم ہوگیا نئی فصل کی آمد پر کسانوں کو فروخت میں دشواری کا سامنا ہے اس لئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے چھوٹے کسانوں کو پانچ ہزار روپے فی ایکڑ کیش سپورٹ ادا کی جائے گی یہ رقم ساڑھے بارہ ایکڑ رقبے والے چاول کاشت کرنے والے کسان کو دی جائے گی اس پر تقریباً بیس ارب روپے خرچ ہونگے جو وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں مساوی طور پر برداشت کریں گی کسانوں کے ساتھ چاول کے تاجروں کی مشکلات کم کرنے کا بھی اہم اعلان کیا جائیگا۔میں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ ایران ٗ مشرق وسطی اور دیگر ممالک کو چاول برآمد کرنے کیلئے خصوصی توجہ دیں چاول کے علاوہ کپاس کے کاشتکار بھی توجہ کے مستحق ہیں کیونکہ عالمی منڈی میں کپاس کی قیمتیں بھی کافی کم ہوئی ہیں سیلاب اور بارشوں سے کپاس کی فصل کو نقصان اٹھانا پڑا ان وجوہات کی بناء پر کسان کو بیج ٗ کھاد ٗ ادویات اور محنت کا معاوضہ ملتا نظر نہیں آتا اس لئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ کپاس کے چھوٹے کاشتکاروں کو بھی فی ایکڑ پانچ ہزار روپے کیش سپورٹ دی جائے گی ساڑھے 12 ایکڑ تک رقبے پر کپاس اگانے والے کسانوں کو یہ رقم دی جائے گی اس پر 20 ارب روپے خرچ ہونگے اس میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں برابر کا حصہ ڈالیں گی ۔ کسانوں کی بنیادی ضرورت کھاد کی قیمتیں کم کرنے کیلئے حکومت 20 ارب روپے کا فنڈ قائم کررہی ہے جس میں صوبائی اور وفاقی حکومتیں برابر کی حصہ دار ہونگی۔ وزیراعظم نے کہاکہ کاشتکار اپنی سرمایہ کاری کھلے کھیتوں میں کررہا ہے اور فصل کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے ایسے میں کسانوں کو فصلوں کی انشورنس کی سہولت حاصل ہونی چاہیے ۔ چھوٹے کاشتکار خرچہ برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتے فصلوں کی انشورنس کا پریمیم حکومت ادا کرے گی اس پر اڑھائی ارب روپے خرچ ہونگے، اس سے چھوٹے کاشتکاروں کو فائدہ پہنچے گا ۔ انہوں نے کہاکہ فصلوں کو تباہی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے تو قرضوں کی ادائیگی کیلئے کسان پر بوجھ نہیں پڑے گا کھیتوں کی آبیاری کھیتوں کی جان ہے ٹیوب ویل اس کا اہم ذریعہ ہے ڈیزل اور بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویل لاگت میں اضافہ کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں زرعی مشینری پر کسٹم ٹیکس نہیں لے گی زرعی اجناس ٗ پھلوں اور مچھلی کی تجارت پر انکم ٹیکس پر تین سال کی چھوٹ دی جارہی ہے زمین کی تیاری ٗ فصل کی کاشت ٗ کٹائی اور ذخیرہ کرنے آب رسانی میں استعمال ہونے والی مشینری پر سیلز ٹیکس کی شرح کو کم کرکے 7فیصد کردیاگیا ہے ۔ گوشت ملکی سطح پر نہیں بلکہ برآمدات کیلئے بہترین سرمایہ کاری کا شعبہ ہے گوشت کا پیداواری یونٹ لگانے والوں کو چار سال کیلئے انکم ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے اس کیلئے 31 دسمبر 2016ء سے پہلے پہلے تصدیق کرانا ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ دس ایکڑ نہری اور پانچ ایکڑ بارانی ہوگی چاول کے کاشتکاروں کو تاجروں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے انہوں نے قرضے حاصل کئے ان کے 34 ارب روپے واجب الادا ہیں اس قرضے کی واپسی کیلئے حکومت اور سٹیٹ بینک نے طریقہ کار وضع کیا ہے کہ قرض کی مدت میں اضافہ کیا جارہا ہے ادائیگی 30 جون 2016ء تک موخر کی جارہی ہے ۔ ،حکومت نے زرعی قرضے جاری کرنے پر زور دیا ہے تا کہ کسانوں کو بر وقت سرمایہ فراہم کیا جا سکے ، انہیں آڑھتیوں سے مہنگا قرض نہ اٹھانا پڑے ، 2013ء کی میں ہماری حکومت آئی تو بینکوں کے ذریعے زرعی شعبے کو 300ارب روپے رض کی سہولت دی جاری تھی ہم نے 30جون 2015تک اسے بڑھا کر 500ارب روپے کے اضافی قرضے ساڑھے بارہ ایکڑ رقبے والے کسانوں کو دیئے جائیں گے۔نواز شریف نے کہا کہ کچھ مفاد پرست لوگ ہمیں ہٹا کر خود اقتدار میں آنا چاہتے ہیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہونگے،ہم یہاں پیسہ بنانے نہیں آئے برائیوں کو ختم کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے،جیب سے خرچ کر کے معاملات چلا رہے ہیں۔

مزید : صفحہ اول