جیلوں کی حالت زار پر رپورٹس مسترد، سپریم کورٹ نے وفاقی، صوبائی سیکرٹریز داخلہ، آئی جی جیل خانہ جات کو طلب کر لیا

جیلوں کی حالت زار پر رپورٹس مسترد، سپریم کورٹ نے وفاقی، صوبائی سیکرٹریز ...

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ نے ملک بھر میں جیلوں کی حالت زار پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تمام رپورٹس مسترد کر دی ہیں اور وفاقی‘ صوبائی سیکرٹریز داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات کو ذاتی طور پر طلب کر لیا ہے اور ان سے دو ہفتوں میں تمام تر تفصیلات اور اعداد و شمار طلب کئے ہیں جبکہ ہائی کورٹ کے مانیٹرنگ ججز کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بھی جیلوں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں عدالت کو آگاہ کریں۔ عدالت نے مزید کہا ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں جیلوں کی حالت زار بہتر بنائیں۔ نئی جیلوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔ جیل میؤئل کی پابندی کرائی جائے۔ خواتین اور انڈر ٹرائل قیدیوں کو قانون کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں۔ یہ حکم جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس دوسرت محمد خان پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے منگل کے روز کیس کی سماعت کے دوران دیا جبکہ جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا ہے کہ جیلوں کی مانیٹرنگ اور قیدیوں کے معاملات کی نگہبانی قانون نے سیشن ججز کو سونپی ہے وفاقی محتسب سمیت صوبائی محتسب کو اس حوالے سے کوئی اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ جیلوں کا دورہ کریں۔ جیلوں کے معاملات درست رکھنا وفاق اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے جبکہ جسٹس دوست محمد خان نے کہا ہے کہ اگر پاکستانی جیلیں اتنی ہی اچھی اور سہولیات سے آراستہ ہوتیں تو بیورو کریٹس اور سیاستدان دوران قید خود جیل کی بجائے ہسپتال جانے کی کبھی کوشش نہ کرتے۔ جیلوں میں پیسوں کے لئے قیدیوں کی مار پیٹ کی جاتی ہے اور ان کو چکی میں بند کیا جاتا ہے ۔ خواتین قیدیوں کی جیلوں میں حالت زار سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران وفاق اور صوبوں نے اپنی اپنی رپورٹس پیش کیں۔ سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن سرور خان پیش ہوئے ۔جسٹس دوست محمد نے کہا کہ ہمیں کوئی خاص پیشرفت نظر نہیں آ رہی ہے۔ سرور خان نے بتایا کہ وفاقی محتسب کی کارکردگی بارے پوچھا گیا تھا وفاقی محتسب اپنے احکامات پر اس لئے عمل نہیں کروا سکے ہیں کہ اس میں صوبائی محتسب نے خاص تعاون نہیں کیا ہے۔ عدالت میں آئی جی جیل خانہ جات کے پی کے کی رپورٹ جو انہوں نے ذاتی طور پر پیش کی تو عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ کے علم کا یہ حال ہے تو اللہ ہی حافظ ہے۔ ضلعی اور مرکزی جیل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ہوم سیکرٹری نے کہا کہ ہم سب ریکارڈ پیش کر دیں گے۔ جسٹس امیر ہانی نے کہا کہ اگلی تاریخ پر تمام ہوم سیکرٹریز اور آئی جی جیل خانہ جات پیش ہوں اور تفصیلات بھی عدالت میں پیش کریں

مزید : صفحہ آخر