ایل این جی منصوبہ،شاہد خاقان عباسی کو ”بھاری رشوت ورنہ سنگین نتائج “کی دھمکیاں

ایل این جی منصوبہ،شاہد خاقان عباسی کو ”بھاری رشوت ورنہ سنگین نتائج “کی ...
ایل این جی منصوبہ،شاہد خاقان عباسی کو ”بھاری رشوت ورنہ سنگین نتائج “کی دھمکیاں

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی کاکہناہے کہ ان کو ایل این جی منصوبے کے حوالے سے دھمکیاں مل رہی ہیں اور اس منصوبے کو ختم کرنے کے لئے آئل مافیا نے انھیں بھاری رشوت کی پیش کش بھی کی ہے،پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران وفاقی وزیر نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو قطر کےخلاف بیان دینے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔وفاقی وزیر پٹرولیم کا کہنا تھا کہ ”تیل مافیا مجھے لالچ اور دھمکیاں دے رہا ہے کہ میں ایل این جی ٹرمینل پر کام مت کروں“۔انہوں نے کہا کہ ان کو کچھ سمریز پر دستخط کرنے کے لیے بھاری فوائد کی پیشکش کی گئی ہے۔ایسے افراد کو بے نقاب کرنے کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ وقت کو ضائع کرنے کے بجائے وہ تعمیری کام کرنا چاہتے ہیں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ انہوں نے سوئی ناردرن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین سعید مہدی سے ملاقات کی تھی اور ان کو کہا تھا کہ وہ بورڈ اور کمپنی کے انتظامی معاملات کا خیال رکھے جیسا کہ کمپنی ایل این جی والے معاملے کو انجام تک نہیں پہنچا رہی۔ان کا کہنا تھا کہ ایس این جی پی ایل کے تقسیم کار سسٹم میں 20 فیصد نقصان ہورہا ہے تاہم کمپنی اسے 11 فیصد اوسط نقصان ظاہر کررہی ہے۔وفاقی وزیر پیٹرولیم خاکان عباسی نے بتایا کہ حکومت قطر کی گیس کمپنی سے 15 سالہ طویل معاہدہ کرنا چاہتی ہے تاہم اس میں دو بڑی رکاوٹیں حائل ہیں۔انھوں نے کہا کہ پہلی رکاوٹ یہ ہے کہ وزارت پیٹرولیم، خزانہ اور بجلی کو ایل این جی درآمد کرنے کے لیے رقم کی ادائیگی کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینی ہے اور ’ایسا ہم آج کے دن تک نہیں کرپائے ہیں۔دوسری وجہ کی تفصیلات کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا حکومت کو قطر کی گیس کمپنی کو واجب الادا رقم کی کریڈٹ لیٹرز جاری کرنے ہیں اور ایسے ہی لیٹرز آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کو بھی جاری کئے جانے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ کام بھی مکمل نہیں کی جاسکا ہے کیونکہ اوگراکی جانب سے ایل این جی کے قیمت کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔

مزید : قومی