یورپی ملک میں سعودی نوجوان لڑکی کے ساتھ سرعام انتہائی شرمناک سلوک، وجہ بھی بے حد افسوسناک

یورپی ملک میں سعودی نوجوان لڑکی کے ساتھ سرعام انتہائی شرمناک سلوک، وجہ بھی ...
یورپی ملک میں سعودی نوجوان لڑکی کے ساتھ سرعام انتہائی شرمناک سلوک، وجہ بھی بے حد افسوسناک

  


ڈبلن(مانیٹرنگ ڈیسک) یورپی ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ تعصبانہ سلوک عام پایا جاتا ہے۔ گزشتہ روز آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں ایک مقامی باشندے نے عربی خاتون کو محض اس لیے تشدد کا نشانہ بنا ڈالاکہ وہ مسلمان تھی اوراس نے حجاب پہن رکھا تھا۔ مشعیل خیاث نامی 31سالہ سعودی خاتون جدہ کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی میں پروفیسر تھی اور سعودی حکومت کی طرف سے سکالر شپ پر پی ایچ ڈی کی 4سالہ ڈگری مکمل کرنے کے لیے اپنے شوہر اور 2بیٹیوں کے ہمراہ آئرلینڈ گئی تھی۔

ایک موبائل ایپ جو آپ کو بڑے دھوکے سے بچا سکتی ہے

واقعے کے روز وہ اپنی بیٹیوں کو سکول سے لینے کے لیے بس میں جا رہی تھی کہ ایک شخص بس میں سوار ہوا اور پہلے طنزاً ”اللہ اکبر“ کہا اور پھر مشعیل کو مسلمان ہونے کا طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان بے گناہ لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔ مشعیل نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ نہیں مسلمان ایسا نہیں کرتے۔ اس پر اس شخص نے مشعیل کو کندھے پر تھپڑ دے مارا۔

مشعیل خوفزدہ ہو کر بس کے اگلے حصے میں گئی اور بس کے ڈرائیور کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ ڈرائیور نے پولیس کو اطلاع کر دی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر فریقین سے بات کی اور اس مرد کو بس سے اتار کر لے گئی۔ برطانوی اخبار ”دی انڈی پینڈنٹ“ کے مطابق تاحال معاملے کی تفتیش جاری ہے۔دوسری طرف بس کمپنی نے وقوعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ فوٹیج پولیس کے حوالے کی جائے گی اور معاملے کی انکوائری میں پولیس سے ہرممکن مدد کریں گے۔

مشعیل خیاث نے اپنے فیس بک پیج پر واقعے کے حوالے سے لکھا ہے کہ ”میں نے ایسا کچھ غلط نہیں کیا کہ مجھ سے ایسا برتاﺅ کیا جائے۔ میں اپنے حجاب سے لوگوں کو تکلیف نہیں دے رہی ہوں۔ واقعے کے بعد میں انتہائی خوفزدہ حالت میں اپنی بیٹیوں کے پاس گئی، میں نے بلاوجہ اس شخص کی آنکھوں میں اپنے لیے شدید غصہ اور نفرت دیکھی۔ اب میں خود کو یہاں غیرمحفوظ سمجھتی ہوں۔“

نوجوان مذاق میں ویاگرا کی 35 گولیاں کھا بیٹھا اور پھر۔۔۔

مشعیل نے فیس بک پوسٹ میں آئرش عوام سے درخواست کی کہ وہ ہر طرح کی نفرت انگیزی اور اسلام فوبیا کے خلاف آواز بلند کریں۔ انہوں نے لکھا کہ ”اگر آئرش عوام اس معاملے میں آگے نہیں آئے تو گزشتہ سال جس طرح ایک سعودی طالبہ ناہید المانیا کو قتل کر دیا گیا تھا اسی طرح اور بھی مسلمانوں کو قتل کرنے کے واقعات رونما ہوں گے اور آئرلینڈ کا امن برباد ہو جائے گا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس