ہم بحیثیت قوم اور ہمارے’’ ہیروز‘‘

ہم بحیثیت قوم اور ہمارے’’ ہیروز‘‘

  

پاکستان بلاشبہ دنیا کا عظیم ترین ملک ہے،لیکن اس کے باسی دنیا کی عظیم ترین قوم بننے سے ابھی کوسوں دور ہیں۔عظیم ترین کی اصطلاح تو میں نے یونہی استعمال کر دی۔شاید ایک’’قوم ‘‘بننے سے بھی بہت دور۔کسی بھی قوم کی شناخت، اس کی پہچان، اس کا چہرہ اس کے ’’ہیروز‘‘ ہوتے ہیں۔ان ’’ہیروز‘‘ کو دیکھ کر، انہیں جان کراندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مجموعی طورپر قوم کیسی ہے؟ سیگمڈ فرائیڈ نے کہا تھا۔ اگر کسی قوم کا مجموعی مزاج معلوم کرنا ہو تو ان کے کھیل(سٹیج ڈرامے) دیکھ لو، ان سے اندازہ ہو جائے گا کہ قوم کا مزاج کیا ہے، اگر اس کی اس بات کو پیمانہ مقرر کر کے ہم اپنے سٹیج ڈرامے دیکھ لیں تو ذرا غور کیجیے مجموعی تاثر کیا ابھرے گا؟جب ہماری فلم انڈسٹری عروج پر تھی، اس زمانے کی فلمیں دیکھیں۔جن لوگوں کو بطور ’’ہیرو‘‘ پیش کیا گیا کیا سچ مچ وہی لوگ ہمارے ’’ہیروز‘‘ تھے یا ہیں؟مولا جٹ، وحشی ڈوگر، طیفا گجر، ضدی راجپوت، اتھرا آرائیں وغیرہ ان فلموں کو دیکھ کر ہمارے بارے میں حتمی رائے قائم کر لینی چاہیے؟ آپ اس کی اجازت دیتے ہیں؟جو لوگ پاکستان فلم انڈسٹری کی موجودہ حالت پر ’’ماتم کناں‘‘ ہیں۔ میں ان کے ’’ غم‘‘ میں برابر کا ’’شریک‘‘ ہوں، مگر کبھی کبھی اللہ کا شکر بھی ادا کرتا ہوں کہ ہماری فلم انڈسٹری تقریباََ بند ہو گئی ہے، ورنہ شاید آج بھی ہم بدمعاشوں اور غنڈوں پر ہی فلمیں بنا رہے ہوتے۔ نوجوان جب ان بدمعاشوں اور غنڈوں کو اپنی فلموں میں بطور ہیرو دیکھتے تو ان سے متاثر ہوتے اور وہی کچھ کرتے جو انہوں نے انہیں فلموں میں کرتے دیکھا تاکہ کل کو انہیں بھی کسی فلم میں بطور ہیرو پیش کیا جائے۔ صد شکر کہ پاکستان فلم انڈسٹری آخری ہچکیاں لے رہی ہے، اگر اس کی حالتِ زار پر آپ کو میری آنکھوں میں آنسونظر آئیں تو یقین جانیں وہ خوشی کے آنسو ہوں گے۔

اپنی فلم انڈسٹری سے محبت کرنے والو! اس کے زوال پر کڑھنے والو! کبھی سوچیں کہ کیا ہماری فلم انڈسٹری نے 6ستمبر1965ء یا 1971ء کی جنگوں میں شہادت کا رتبہ پانے والے اپنی حقیقی ہیروز پر فلمیں بنائی ہیں؟ان بہادروں اور جاں نثاروں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا ہے، جن کی بے مثال قربانیوں کی وجہ سے آج تک ہمارے دشمن کے دانت کھٹے ہیں، اگر ہماری فلموں کے ہیروز ’’ نشانِ حیدر‘‘ حاصل کرنے والے لوگ ہیں تو فلم انڈسٹری کی زبوں حالی کا قومی سطح پر ماتم کریں، ورنہ اس کے زوال پر سکھ کا سانس لیں اور خدا کا شکر ادا کریں۔ اگر آج بھی ہماری فلم انڈسٹری فعال ہوتی ، دھڑا دھڑ فلمیں بنا رہی ہوتی تو ہمارے ’’عظیم‘‘ اور ’’کہنہ مشق‘‘ ڈائریکٹرز نیا ’’سلطان راہی‘‘ بنانے کی تگ و دو میں اب تک ہلکان ہو رہے ہوتے۔صد حیف ہماری فلم انڈسٹری نے صرف بدمعاشی، غنڈہ گردی اور فحاشی کو فروغ دیا۔ ان لوگوں کو بطور ’’ہیرو‘‘ پیش کیا جو ہماری تہذیب اور ثقافت کے چہرے پر بد نما داغ ہیں۔۔۔میں ان لوگوں سے بڑا متاثر ہوتا ہوں اور ان کا دِل سے احترام کرتا ہوں جو کسی محب وطن، انسان دوست، توحید پرست، عاشقِ رسولﷺ، یا کسی علمی، ادبی اور سماجی شخصیت کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے کسی تقریب کا اہتمام کرتے ہیں۔ وہ ہمیں اور ہماری نوجوان نسل کو بتاتے ہیں کہ ہمارے اصل ہیروز کون ہیں اور معاشرتی تعمیر و ترقی میں ان کا کردار کیا رہا ہے؟ اس مرتبہ6ستمبر’’ یومِ دفاعِ پاکستان‘‘ کے موقع پر ’’متحدہ ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سکولز پاکستان‘‘ کے زیرِ اہتمام گوجرانوالہ کے نواحی قصبہ لدھیوالہ وڑائچ میں ایک شاندار اور پُر وقار تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ یہ تقریب ایسوسی ایشن کے بانی ممتاز ماہرِ تعلیم، معروف سکالر،محقق استاد رانا عبدالواحد خاں مرحوم کے نام سے منسوب تھی۔

ایسوسی ایشن کے عہدیداران رانا محمد عمران رضا، چودھری محمد شاہد، راؤ محمد ایوب، ڈاکٹر عمران شاہد، حافظ محمد نوازچشتی، نعیم اللہ دیو، رانا محمد لطیف، محمد ایوب جنجوعہ اور ان کے رفقاء نے اس پُر وقار تقریب کا اہتمام کر رکھا تھا۔وسیع و عریض اور عالیشان ہال نامور ماہرینِ تعلیم اور اساتذہ سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ضلع کے اعلٰیٰ افسران، ممبرانِ اسمبلی اور ممتاز سماجی شخصیات بھی جلوہ افروز تھیں۔ بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے کہ اس قدر بھاری بھرکم شخصیات ایک ہی تقریب میں بیک وقت یکجا ہوں۔ مجھے شہبازِ علم و دانش چودھری محمد شہباز جٹ نے حکم دے رکھا تھا کہ وقتِ مقررہ پر ہر صورت میں حاضر ہونا ہے۔چودھری محمد شہباز جٹ چونکہ عملی طور پر ایسی پُر مغز اور مفید تقاریب کی سرپرستی کرتے ہیں، لہٰذا میں دِل سے ان کا احترام کرتا ہوں، چنانچہ وقتِ مقررہ پر عزیزم حافظ عبدالقادر مرکزی نائب صدر و آرگنائزر عالمی امن تحریک علماء و مشائخ ونگ کی معیت میں تقریب میں پہنچا۔ تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبولﷺ کے بعد راؤ محمد ایوب صدر متحدہ ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سکولز پاکستان نے اپنے تعارفی خطاب میں 6ستمبر کے جان نثاروں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے بعد رانا عبدالواحد خاں مرحوم کی طویل جدوجہد اور تعلیمی و علمی خدمات پر روشنی ڈالی۔ ان کی تقریر نہایت جامع اور مسحور کن تھی۔انہوں نے بڑے خوبصورت انداز میں مرحوم کی پوری زندگی کا احاطہ کر ڈالا۔ مختصر سے وقت میں کوئی پہلو تشنہ نہ رہنے دیا۔ان کے بعد کے مقررین نے بھی مرحوم کی علمی، ادبی اور سماجی خدمات پر سیر حاصل روشنی ڈالی۔ مرحوم کی خدمات اور کارہائے نمایاں کے بارے میں جان کر میرا سر فخر سے بلند ہوا جا رہا تھا۔مجھے لگا مرحوم حقیقی معنوں میں ہمارے ہیروز میں سے ایک ہیرو ہیں۔ان کی چند نمایاں خصوصیات ملاحظہ کیجیے۔

رانا عبدالواحد خاں مرحوم وعدے اور وقت کے پابند تھے۔ نہ خود وعدہ خلافی اور وقت کی تاخیر کا شکار ہوتے،نہ دوسرے سے اس کی توقع رکھتے۔ ان سے دائمی تعلق کی شرطِ اول وعدے کی پاسداری اور وقت کی پابندی تھی۔بلا کے راست گو تھے۔ مہمان نوازی ان کو وراثت میں ملی تھی۔ کبھی کوئی مہمان ان کے گھر سے بغیر تواضع اور تحائف کے نہیں گیا۔ وہ ہر صورت میں کوئی نہ کوئی تحفہ دے کر مہمان کو رخصت کرتے۔ ان کے تحائف بڑے سادہ اور کم قیمت، مگر نہایت مفید ہوتے۔جن میں عموماََ روزمرہ استعمال کی اشیاء ہوتیں۔ مثلاََ نیل کٹر، کنگھی، رومال، گھریلو استعمال کے برتن وغیرہ۔ اپنے طلباء کے مسائل کا بہت خیال رکھتے۔ تیس سالہ سرکاری ملازمتِ تدریس کے دوران اپنے طلباء کو قلم دوات، سیاہی اور تختی کی فراہمی انہوں نے اپنے ذمہ لئے رکھی۔جو طالبِ علم کتابیں اور کاپیاں خریدنے کی سکت نہ رکھتا اس کے لئے ان کی، فراہمی بھی یقینی بناتے۔اپنے شاگردوں کی تعلیمی ہی نہیں اخلاقی تربیت بھی اعلیٰ خطوط پر کرتے۔ اعلیٰ مناصب پر فائز ان کے شاگردوں کا رویہ ان کی اعلیٰ تربیت کا عملی نمونہ ہے۔ان کے شاگردوں میں جج، وکلاء، صحافی، اساتذہ، انجینئر اور ڈاکٹر وغیرہ شامل ہیں۔ اس تقریب میں ان سے فیضیاب ہونے والوں کی کثیر تعداد موجود تھی جن میں ممبران اسمبلی سے لے کر اعلیٰ سرکاری و غیر سرکاری شخصیات بھی شامل ہیں۔تقریب کے اختتام پر ان کے نام سے منسوب ایوارڈز بھی دیئے گئے۔مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے یہ ایوارڈزوصول کئے۔’’متحدہ ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سکولز پاکستان‘‘ نے ایک حقیقی ’’ ہیرو‘‘ کو خراجِ تحسین پیش کر دیا ہے۔اگر کبھی ہماری فلم انڈسٹری بحال ہو گئی تو وہ بھی کسی ایسی شخصیت کو بطور ہیرو فلم میں پیش کرے، جس نے ملک و قوم کی خدمت کی ہو، اپنے ارد گرد کے لوگوں کی زندگی تبدیل کر کے رکھ دی ہو اور اس پر گہرے نقوش چھوڑے ہوں۔اس قوم اور نوجوان نسل کو رانا عبدالواحد خاں جیسی شخصیات سے متعارف کروائیے۔ طیفے گجر،مولے جٹ، وحشی ڈوگر، ضدی راجپوت یا کھڑاک کرنے والے کسی آرائیں سے نہیں۔ہمارے ہیروزمعاشرے میں آسانیاں، خوشیاں اور روشنیاں بانٹنے والے ہیں۔گھروں کے چولہے اور آنکھوں کی روشنیاں بجھانے والے نہیں۔

مزید :

کالم -