کون سی قربانی ،کیسا ایثار ؟

کون سی قربانی ،کیسا ایثار ؟
کون سی قربانی ،کیسا ایثار ؟

  

عید قربان کے پہلے دو دن کے کچھ مناظر ملاحظہ فرمائیے جو بخدا حرف بحرف درست ہیں اور ہمارے فہم اسلام کی عکاسی کررہے ہیں۔

منظر نمبر 1۔ ایک چھوٹے سے بوسیدہ کمرے میں ایک غریب جوڑا اپنے تین عدد ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج بچوں کے ساتھ بیٹھاعید کی’’ خوشیاں‘‘منا رہا ہے، آخر کار شام تک انتظار کرنے کے بعد بھی جب کہیں سے بھی سنت ابراہیمی ؑ کی پیروی میں شہر بھرمیں لاکھوں جانور ذبح ہونے کے باوجود قربانی کا پاؤ بھر گوشت بھی ان کے ہاں نہ پہنچا تو دونوں میاں بیوی کے ذہن میں ایک صاحب حیثیت اور خدا ترس عورت کا خیال آیا، جس کا اپنا بھی ایک بچہ ابنارمل ہے، لہٰذا انہوں نے اپنے تینوں بچے ساتھ لئے اور جیسے تیسے اس عورت کے گھر پہنچ گئے۔ نیک دل میزبان نے مہمانوں کو بڑی عزت واحترام کے ساتھ اپنے ڈرائنگ روم میں بٹھا کر خاطر تواضع کی تو دونوں میاں بیوی زارو قطار رو پڑے۔ میزبان نے حیرانی سے رونے کا سبب پوچھاتو مہمان ہچکیاں لیتے ہوئے گویاہوئے : ’’ہمیں آج پہلی بار کسی نے اس قدر عزت سے نوازا ہے۔ ہمارے تو اپنے سگے بہن بھائیوں نے ہمارے ابنارمل بچوں اور ہماری غربت کی وجہ سے ہمارے ساتھ تعلقات ختم کر رکھے ہیں یہاں تک کہ قربانی کر نے کے باوجود کسی رشتہ دار نے ہمیں دو بوٹی گوشت بھیجنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔معلوم نہیں یہ کیسی عید قربان ہے کہ آج دوپہر کے کھانے میں بھی ہم نے آلو کی بھجیا کھائی۔ آپ نے جس پیار محبت سے ہمیں خوش آمدید کہا اور ہماری مدد کی، اس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ بس یہ سوچ کر ہماری آنکھیں بھر آئیں‘‘۔

منظر نمبر2۔ ایک شخص کسی ہوسٹل میں رہائش پذیر ہے، ظاہر ہے عید کی وجہ سے ہوسٹل کا میس بھی تین روز کے لئے بند ہے اور قریب کے تمام ہوٹل بھی عید کی وجہ سے بند ہیں۔ وہ اگرچہ ایک صاحب حیثیت انسان ہے جو وسیع حلقہ احباب کا بھی مالک ہے ،لیکن اس کے باوجود وہ عید کے دنوں میں روائتی کھانے کی بجائے بیکری کی اشیاء سے پیٹ کی آگ بجھاتا رہااور اس کے کسی دوست کے ذہن میں یہ خیال ہی نہ آسکا کہ ان کا یہ دوست عید کے موقع پر بھی روائتی کھانوں کی لذت سے محروم رہا۔

منظر نمبر 3۔ ایک خدا ترس انسان قربانی کا گوشت لے کر ایک غریب مالی کو دینے اس کے گھر گیا تو پتا چلا کہ وہ مالی گھر پر موجود نہیں، گھر پر تالا لگا ہوا تھا،اس شخص نے مالی کے ساتھ والے ہمسائے سے درخواست کی کہ یہ گوشت اپنے فریج میں رکھ لیں، آپ کا ہمسایہ اس وقت گھر پر موجود نہیں، جب وہ واپس آئے تو اسے یہ گوشت دے دیجیے گا، یہ سن کر ہمسائے نے نہایت ناگواری سے جواب دیا، سوری جناب ہمارے فریج میں جگہ نہیں۔ اس شخص نے رشید مالی کے ایک اور پڑوسی کے دروازے پر دستک دی اور درخواست کی کہ مَیں کافی دور سے آپ کے پڑوسی کے لئے قربانی کا گوشت لے کر آیا ہوں، لیکن بدقسمتی سے اس کے گھر پر تالا لگا ہوا ہے، لہٰذا برائے مہربانی آپ یہ گوشت اپنے فریج میں رکھ لیں، جب وہ گھر واپس آئے تو اسے اس کی یہ امانت دے دیجئے گا۔ یہ سن کر مالی کے اس دوسرے پڑوسی نے بدتمیزی کے ساتھ دروازہ بند کرتے ہوئے کہا کہ ہم رشید کے نوکر نہیں ہیں کہ ہم اس کا گوشت اپنے فریزر میں رکھیں۔ آپ کسی اور کے ہاں یہ گوشت رکھوادیں۔ تیسرے ہمسائے کے دروازے پر دستک دینے پر جو عورت باہر آئی، اس نے بات سنتے ہی کہا کہ معاف کیجئے ہمارا فریج خراب ہے، مَیں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتی، ہاں البتہ میں آپ کو مشورہ دے سکتی ہوں کہ گلی کی نکڑ پر موجود دکان والا رشید کا دوست ہے اس کی دکان میں بوتلوں والی فریج بھی ہے، جس میں آپ یہ گوشت رکھوا سکتے ہیں۔ اب وہ شخص دکان والے کے پاس پہنچا اور وہی درخواست دہرائی جو وہ رشید کے تین عدد پڑوسیوں سے کر چکا تھا دکان دار نے غصے سے جواب دیا بھائی مَیں تمہیں نہیں جانتا کہ تم کون ہو اور حالات ایسے نہیں ہیں کہ میں کسی اجنبی سے کچھ لے کر اپنے فریج میں رکھوں۔اس نیک دل انسان نے دکان والے کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا دیکھو بھائی تم جانتے ہو کہ تمہارا دوست رشید کتنا غریب ہے اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ ہمارے مذہب میں پڑوسیوں کے حقوق پر کس قدر زور دیا گیا ہے۔کیا تم اپنے پڑوسی کے لئے اتنا بھی نہیں کرسکتے کہ تم اس کی امانت کچھ دیر کے لئے اپنے پاس رکھ لو۔ یہ سن کر دکان دار بولا اوئے باؤ جی تم مجھے لیکچر دینے کی کوشش نہ کرو۔ مَیں اپنی بوتلیں فریج میں رکھوں یا تمہارا یہ گوشت۔

منظر نمبر4۔ ایک بیمار شخص ایک کمرے میں تنہا رہتا ہے، ڈاکٹر نے اسے دوران علاج صرف گھر کی بنی سادہ روٹی ، شوربہ اور دلیہ وغیرہ کھانے میں تجویز کیا ہے، کام والی عید کی وجہ سے چھٹی پر گاؤں گئی ہوئی ہے، اس لئے نہ تو دلیہ بن سکا اور نہ سادہ روٹی اور رہی بات باہر کے کھانے ، بیکری کی اشیاء اور نان وغیرہ کی تو وہ اس مریض کو سختی سے منع ہے۔ یہ بات اس مریض کے تمام رشتہ داروں کو بھی معلوم ہے جو اسی شہر میں رہتے ہیں، لیکن عید کی ان تینوں چھٹیوں میں گھر کی بنی سادہ روٹی کھانے کی بجائے، وہ مریض بد پرہیزی کرنے پر مجبور رہا۔ہزاروں روپوں کے خوبصورت جانور اللہ کی راہ میں قربان کرنے والے اس کے رشتہ داروں میں سے کسی کے ذہن میں بھی وہ شخص نہ آسکا۔ ظاہر ہے کہ وہ لوگ تو رضائے الٰہی کے حصول کے لئے ’’نہایت خشوع و خضوع‘‘ کے ساتھ قربانی میں مصروف تھے، وہ بھلا کسی بیمار شخص کی حاجت کے بارے میں کیونکر سوچتے؟۔۔۔ قارئین کیسا رہا یہ منظر نامہ اپنے اسلامی جمہوریہ پاکستا ن کا جہاں اس سال بھی سنت ابراہیمی ؑ کی پیروی میں تقریباً ایک کڑور سے زیادہ جانورذبح کئے گئے اور اب فخر سے میڈیا میں اعدادوشمار کے ذریعے یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ اس سال بھی اللہ کی خوشنودی کی خاطر دنیا بھر میں سب سے زیادہ جانور پاکستان میں قربان کئے گئے۔ آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ رات دن اسلام کی مالا جپنے کے باوجود اسلام ہماری عملی زندگیوں سے کیوں کوسوں دور ہے۔

مزید :

کالم -