مودی حکومت: بھارتی مسلمانوں کے لئے ڈراؤنا خواب

مودی حکومت: بھارتی مسلمانوں کے لئے ڈراؤنا خواب
 مودی حکومت: بھارتی مسلمانوں کے لئے ڈراؤنا خواب

  

ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اپنے کھلے خط میں بھارتی حکومت کو اسلام دشمن قر ار دیتے ہوئے کہا کہ 150 ممالک میں ان کا احترام کیا جاتا ہے اور ان کی گفتگو کا خیر مقدم ہوتا ہے ،لیکن اپنے ہی ملک میں دہشت گردی کے لئے ابھارنے والا کہا جاتا ہے۔ان کی درجنوں کتابوں ، ہزاروں مضامین اور لاکھوں ویڈیوز میں ایک بھی سطر ایسی نہیں پائی گئی جس میں غیر مسلموں سے نفرت پھیلانے کا کوئی ثبوت ملتا ہو ،لیکن مودی حکومت کا اصل ہدف چونکہ بھارت میں اسلام کی تبلیغ روکنا ہے اس لئے ان پر، ان کے اداروں اور تبلیغی چینل پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آر ایس ایس کے آدمی اور اسی کے ایجنڈے کے تحت حکومت چلارہے ہیں۔وہ نہیں چاہتے کہ مسلمان امن کی زندگی گزار سکیں۔ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی بھی معاملہ ہو، وہ مذاکرات کے ذریعے حل ہو ،لیکن مودی اور ان کی حکومت ایسا نہیں چاہتے ۔ اس حکومت کا ایجنڈا اسلام دشمن ہے۔ہندوستان میں اسلام کی تبلیغ کرنے والوں کو سخت مقابلہ کرنا پڑتا ہے ، یہاں پر کوئی قانون نہیں ، جس کو چاہتے ہیں، اس پر ظلم ڈھانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ مودی خود بھی بی جے پی کے ترشول بردار عسکریت پسند ونگ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی پیداوار ہیں۔2002ء میں جب گجرات میں ہندوؤں کے ہجوم نے ایک ہزار سے زیادہ مسلمانوں کو شہید کردیا تھا، تو اس وقت مودی اس ہندوستانی ریاست کے وزیراعلیٰ تھے اور ان پر تشدد کو روکنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ہندوستان پر ہندو مذہب کے غلبے کا خواب دیکھنے والے آر ایس ایس کے انتہا پسند کارکن مودی کو اپنا چیمپیئن تسلیم کرتے ہیں۔یہی وہ وجہ ہے جس سے ہندوستانی مسلمانوں کا خوف واضح ہوتا ہے۔

یہ الزام بھی تواتر کے ساتھ عائد کئے جارہے ہیں کہ مرکز میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اقلیتوں پر پْرتشدد حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔بین الاقوامی مذہبی آزادی کے لئے امریکی کمیشن نے بھی اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے دور میں اقلیتوں پر پْرتشدد حملے بڑھ گئے ہیں۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’2014 کے انتخابات کے بعد، مذہبی اقلیتی فرقوں کو حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ رہنماؤں کی جانب سے اشتعال انگیز بیان سننے میں آرہے ہیں، جبکہ آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشد جیسی ہندو قوم پرست تنظیموں کی جانب سے کئی پْر تشدد حملے اور مذہب کی زبردستی تبدیلی کے واقعات رپورٹ کئے گئے ہیں‘‘۔۔۔جینوسائڈ (نسل کشی) واچ کی ایک تحقیقی رپورٹ کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان امریکا کے سیاہ فاموں کی مانند ہیں۔ وہ ہندوستانی ثقافت کے ایک پسماندہ رکن ہیں اور انہیں اس حالت تک پہنچانے کے لئے بہت کچھ کیا گیا ہے۔

ہندوستان کے مسلمانوں کی حالتِ زار کا مطالعہ کرنے کے لئے سچر کمیٹی تشکیل دی گئی تھی،اس نے 2006ء میں اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ’’مسلمانوں کو شکایت ہے کہ ناصرف معاشرے کے بعض حصوں، بلکہ سرکاری اداروں اور حکومت کی جانب سے انہیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے‘‘۔۔۔ سچر کمیٹی کی اسٹڈی کے مطابق مسلمانوں نے بتایا کہ وہ اپنی مرضی سے نہ تو جائیداد خرید سکتے ہیں اور نہ ہی کرائے پر دے سکتے ہیں، اور نہ ہی اپنے بچوں کو اچھے اسکولوں میں تعلیم دلوا سکتے ہیں۔ سیکیولر ازم کے تحت قانون و انصاف کے معاملات میں ہر ایک کے ساتھ مساویانہ سلوک کیا جانا چاہیے، لیکن ایسا نہیں ہوتا اور نہ تو مساویانہ مواقع میسر آتے ہیں اور نہ مساوی نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ ہندو اکثریت کے حامل ہندوستان میں مسلمان ایک پسماندہ اقلیت ہیں۔اس کی ایک مثال بی بی سی ہندی کی ایک رپورٹ میں پیش کی گئی ہے۔ جس کے مطابق دہلی سے شاملی جانے والے ٹرین حملے میں زخمی ہونے والے 18 برس عمر کے محمد دین اب شاید اپنے پیروں سے کبھی چل نہ سکیں۔ وہ دہلی سے 200 کلومیٹر کے فاصلے پر ریاست اتر پردیش کے شہر کیرانہ کے رہنے والے ہیں۔اس حملے میں گولی لگنے کی وجہ سے دین محمد کا نچلا دھڑ مفلوج ہوگیا۔ اب وہ بات کرتے ہیں تو ان کی آواز کپکپاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اس کی وجہ شاید ان کے ذہن پر نقش ہوجانے والا خوف ہے۔

انہوں نے بتایا: ’’مسلمانوں پر دہلی سے شاملی والی ٹرینوں پر حملے ہو رہے تھے، اور پولیس کسی کو گرفتار نہیں کر رہی تھی، اس رویے کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے ہمارے گاؤں سے بھی کچھ لوگ گئے تھے، میں رک کر یہ معاملہ دیکھنے لگا کہ اچانک مجھے پولیس کی گاڑی سے چلائی گئی گولی لگ گئی، میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔دین محمد کا خاندان خوفزدہ ہے۔ دین محمد کے بہنوئی محمد جمشید کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے دل میں خوف پیدا کرنے کی ان کوششوں کو روکنے کے لئے کچھ نہیں کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ’’دو سال پہلے مظفرنگر میں جس طرح فساد ہوا تھا، اب پھر اسی طرح کے واقعات ہورہے ہیں، کچھ ہندو اس قدر دہشت پھیلا رہے ہیں کہ مسلمان خاندانوں کو اپنے گاؤں سے نقل مکانی کرنی پڑگئی ہے۔ حکومت نے کچھ نہیں کیا، نہ ہی پولیس نے، ہمارے لئے تو اب صرف خدا کا ہی آسرا باقی رہ گیا ہے‘‘۔۔۔

مارچ کے دوران وسطی ہندوستان کے صنعتی شہر اورنگ آباد میں مسلم کمیونٹی کے ایک گروپ نے ایک مظاہرے کا انعقاد کیا۔ یہ لوگ وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی ریاستی حکومت کے مسلسل مسلم مخالف اقدامات کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔مظاہرین کے رہنماؤں نے اپنے مطالبات ضلعی کمشنر کے سامنے باضابطہ طور پر پیش کرنے کیلئے طویل مارچ بھی کیا۔ جنہوں نے وعدہ کیا کہ وہ ان مطالبات کو مہاراشٹر کے ریاستی حکام تک پہنچادیں گے۔ بھارتی مسلمان کہتے ہیں۔۔۔’’مودی حکومت کے دور میں مسلمانوں کے ساتھ سب سے برا سلوک ہوا ہے۔ ماحول اتنا برا کبھی نہیں تھا۔ ہم اس پارٹی کو کبھی ووٹ نہیں دیں گے۔ جب مرکزی حکومت کے وزیر ہی مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیان دیں گے تو لامحالہ ہم مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ ہمارے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔

مزید :

کالم -