علامہ اقبالؒ کا انتخاب: قائد اعظمؒ

علامہ اقبالؒ کا انتخاب: قائد اعظمؒ
علامہ اقبالؒ کا انتخاب: قائد اعظمؒ

  

قائد اعظم کی برسی کی مناسبت سے سیرت سٹڈی سنٹر سیالکوٹ میں تھنکرز فورم نے ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا، جس میں مجھے بھی اظہار خیال کی دعوت دی گئی۔ میں نے اپنے لئے یہ موضوع منتخب کیا۔۔۔ ’’علامہ اقبال کا انتخاب’’قائداعظم‘‘۔۔۔ علامہ اقبالؒ ایک عظیم فلسفی اور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ دو قومی نظریئے کے مفسر بھی تھے، جبکہ علامہ اقبالؒ کی فکر کا سرچشمہ قرآن تھا۔ علامہ اقبالؒ اس حقیقت پر کامل ایمان رکھتے تھے کہ قرآن حکیم میں ہمارے لئے مکمل ضابطۂ حیات موجود ہے اور قرآن کی آیات اپنے کمال کی خود مدعی اور گواہ ہیں۔ انسانی سیاسیات کی راہنمائی کے لئے تمام قواعد قرآن حکیم کے اندر موجود ہیں، لیکن یہ ثابت کرنا ہمارا فرض ہے کہ فلاں فلاں آیت کے ذریعے فلاں فلاں مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔ علامہ اقبالؒ کی شاعری میں یہ پیغام موجود ہے کہ اگر تم مسلمان کی زندگی گزارنے کے خواہش مند ہو تو پھر قرآن کی ہدایت سے رو گردانی کر کے ایسی زندگی گزارنا ممکن نہیں۔ علامہ اقبالؒ نے بارگاہِ رسولؐ میں ایک التجا پیش کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر میرے پیغام میں قرآن کے سوا کچھ بھی اور ہے تو مجھے قیامت کے دن اللہ کے آخری رسولؐ کے پاؤں کا بوسہ نصیب نہ ہو۔ گویا علامہ اقبالؒ نے زور دیتے ہوئے یہ کہا کہ میری فکر کا سرچشمہ صرف اللہ کی کتاب ہے۔ دو قومی نظریئے یا اسے آپ نظریۂ پاکستان کہہ سکتے ہیں، کی آگہی قائد اعظمؒ نے بھی قرآن سے حاصل کی۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد جس اسلامی حکومت اور اسلامی ریاست کا تصور قائد اعظمؒ کے پیش نظر تھا، اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا: ’’اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز پیش نظر رہنا چاہئے کہ اس میں اطاعت اور وفا کیشی کا مرجع خدا کی ذات ہے، جس کی تعمیل کا واحد ذریعہ قرآن مجید کے احکام اور اصول ہیں۔ اسلام میں اصلاً نہ کسی بادشاہ کی اطاعت ہے اور نہ کسی پارلیمان کی، نہ کسی شخص یا ادارے کی۔ قرآن کریم کے احکام ہی سیاست یا معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدود متعین کرتے ہیں۔ اسلامی حکومت دوسرے لفظوں میں قرآنی اصول اور احکام کی حکمرانی ہے اور حکمرانی کے لئے آپ کو علاقے اور مملکت کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔

اسلامی حکومت یا دوسرے لفظوں میں قرآن مجید کے اصولوں اور احکامات کی حکمرانی کے لئے ایک علاقے اور الگ مملکت کے حوالے سے قائد اعظمؒ نے مندرجہ بالا پیغام 1943ء میں قیامِ پاکستان سے چار سال پہلے دیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد جنوری 1948ء میں اسلامیہ کالج پشاور میں قائد اعظمؒ نے اپنے اسی نقطہ نظر کو دو ٹوک انداز میں بیان کیا، ’’ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا تھا، بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے، جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں‘‘۔۔۔ قائد اعظمؒ نے اکتوبر 1947ء میں کراچی میں بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار فرمایا تھا: ’’پاکستان کا قیام، جس کے لئے ہم گزشتہ دس سال سے مسلسل کوشش کر رہے تھے، اب ایک حقیقت بن کر سامنے آ چکا ہے اور یہ اللہ کے فضل سے ممکن ہوا ہے۔ ہمارے لئے اس آزاد مملکت کا حصول مقصود بالذات نہیں، بلکہ ایک عظیم مقصد کے حصول کا ذریعہ تھا۔ ہمارا مقصد یہ تھا کہ ہم ایک ایسی مملکت میں آزاد انسانوں کی طرح سانس لیں جہاں ہم اپنی روشنی اور ثقافت کے مطابق ترقی کر سکیں اور جہاں ہم اسلام کے معاشرتی انصاف کے اصولوں پر آزادی کے ساتھ عمل کر سکیں‘‘۔۔۔ قائداعظمؒ نے اسلام کے عمرانی عدل کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے اور ایک آزاد مملکت کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانے کے لئے مسلم قومیت کی بنیاد پر پاکستان کا مطالبہ کیا تھا اور اس مطالبے کی حمایت میں زور دار دلائل دیئے تھے۔ علامہ اقبالؒ نے بھی یہی فرمایا تھا کہ اگر ہم مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ اسلام کو ایک تمدنی قوت کے طور پر زندہ رکھا جائے تو پھر اس کے لئے ضروری ہے کہ اسلام ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کرے۔ علامہ اقبالؒ اگر مسلمانوں کے لئے ایک آزاد اور علیحدہ مملکت کا مطالبہ کر رہے تھے تو اس سے ان کی غرض اسلام کی تمدنی زندگی کی حفاظت تھی۔ مسلمانوں کے لئے محض آزادی اور ان کی اقتصادی بہبود علامہ اقبالؒ کا نصب العین نہیں تھا۔ علامہ اقبالؒ نے کھل کر بڑے واضح الفاظ میں یہ فرمایا تھا کہ ’’اگر آزادئ ہند کا نتیجہ یہ ہو کہ جیسا دارالکفر ہے، ویسا ہی رہے یا اس سے بھی بدتر بن جائے تو مسلمان ایسی آزادئ وطن پر ہزار مرتبہ لعنت بھیجتا ہے‘‘۔۔۔ علامہ اقبالؒ ایک ایسی آزاد اسلامی ریاست کا مطالبہ کر رہے تھے، جہاں شریعت اسلامی نافذ ہو اور اس شریعت اسلامیہ کے نفاذ سے مسلمان قوم اپنی معاشی زندگی کے حوالے سے بھی مطمئن ہوں۔علامہ اقبالؒ اس لئے بھی مسلمانوں کے لئے ایک آزاد اور خود مختار اسلامی مملکت کے قیام کے داعی تھے، کیونکہ وہ اسلام کو ایک مکمل ضابطۂ حیات سمجھتے تھے، جو فرد اور ریاست دونوں کی زندگی میں غیر معمولی کردار ادا کرتا ہے۔ اسلام میں کسی دوسرے نظامِ حیات کی ملاوٹ نہیں کی جا سکتی۔ اسلام ایک مسلمان معاشرے، یعنی اجتماعی زندگی کے لئے بھی ویسی ہی اہمیت رکھتا ہے، جتنا اہم وہ ایک مسلمان کی ذاتی زندگی کے لئے ہے اس لئے اسلام میں سیکولر ازم نہیں ہے اور جہاں سیکولر ازم ہوگا، وہاں اسلام کا ریاست اور سیاسی امور سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ ’’اسلام بحیثیت مذہب دین و سیاست کا جامع ہے۔ یہاں تک کہ ایک پہلو سے دوسرے پہلو کا جدا کرنا حقائق اسلامیہ کا خون کرنا ہے‘‘۔۔۔ علامہ اقبالؒ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ اگر اسلام کو دیگر مذاہب کی طرح انسان کا پرائیویٹ معاملہ سمجھ لیا جائے تو پھر ایک اخلاقی اور سیاسی نصب العین کی حیثیت سے اسلام کا بھی وہی منظر ہوگا جو مغرب میں عیسائیت کا ہوا ہے۔ اسلامی قومیت اور اس کی بنیاد پر ایک اسلامی مملکت کا قیام، یہ وہ نصب العین تھا، جس کے حوالے سے علامہ اقبالؒ اور قائد اعظم دونوں میں زبردست ذہنی ہم آہنگی پائی جاتی تھی۔ قائد اعظمؒ علامہ اقبالؒ کو اسلامی ریاست کے تصور کے حوالے سے اپنا پیش رو قرار دیتے تھے۔ ہندوستان میں مسلم ریاست کے قیام کے حوالے سے علامہ اقبالؒ نے جو خطوط قائد اعظمؒ کے نام لکھے تھے، جب ان خطوط کو ایک مختصر کتاب کی صورت میں شائع کیا گیا تو قائد اعظمؒ نے اس کتاب کا دیباچہ تحریر کیا تھا۔ قائد اعظمؒ لکھتے ہیں کہ ’’میرے نزدیک (علامہ اقبالؒ کے) یہ خطوط بے حد تاریخی اہمیت کے حامل ہیں، بالخصوص وہ خطوط جن میں اقبالؒ نے مسلم انڈیا کے مستقبل کے حوالے سے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے خیالات مجموعی طور پر میرے تصورات سے ہم آہنگ تھے۔ ہندوستان کو جو آئینی مسائل در پیش تھے، اُن کے گہرے مطالعہ اور غورو خوض کے بعد میں بھی آخر کار ان ہی نتائج تک پہنچاجن تک سر اقبالؒ پہلے ہی پہنچ چکے تھے اور یہ خیالات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانان ہند کے متحدہ عزم کی شکل میں ظاہر ہوئے اور مسلم لیگ کی اس قراراد کی صورت میں ڈھل گئے جو 23 مارچ کو 1940ء کو منظور ہوئی ا ور جسے اب قرارداد پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔‘‘جب قرار داد پاکستان منظور ہوئی تو علامہ اقبالؒ اس سے تقریباً دو سال پہلے وفات پا گئے تھے، لیکن علامہ اقبالؒ تحریک پاکستان کے سلسلے کو آگے بڑھانے کے لئے اپنی زندگی ہی میں قائد اعظمؒ کو ملت اسلامیہ کا قافلہ سالار منتخب کر چکے تھے۔ علامہ اقبالؒ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’ہم نے (علامہ اقبالؒ اور قائد اعظمؒ ) اکثر اوقات تقریباً تمام اہم مسائل پر خط و کتابت کے ذریعے عملاً گفتگو کی ہے۔ ہم نے ملاقاتوں میں بھی تفصیل سے باہم تبادلۂ خیالات کیا ہے۔ مجھے یہ یقین ہے کہ مسٹر جناح سے بڑھ کر کوئی دوسرا رہنما اس مشکل کام (ملت اسلامیہ کو منزل مقصود پر پہنچانا) کو سر انجام نہیں دے سکتا‘‘۔۔۔ علامہ اقبالؒ نے اپنی زندگی میں یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ ’’مسٹر جناح ایسے کردار، اخلاق، فہم و فراست اور عزم محکم کے مالک ہیں، جن کی بنا پر وہ جلد ہی ایک ایسے عوامی ہیرو بن جائیں گے کہ مسلم انڈیا میں ابھی تک کوئی ایسا لیڈر پیدا نہیں ہوا۔ مسٹر جناح برطانوی استعمار اور نوکر شاہی کی اصلیت سے بخوبی واقف ہیں اور وہ کانگریس کی ذہنیت کے بھی بھیدی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف وہی ان دونوں سے مقابلہ کر سکتے ہیں اور ان کو شکست دے سکتے ہیں‘‘۔۔۔ علامہ اقبالؒ کی یہ پیش گوئی حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔ قائد اعظمؒ نے بہت ہی کم مدت میں مسلمان قوم میں اتحاد اور نظم و ضبط پیدا کرکے ایک انقلاب برپا کر دیا۔ تمام تر ناموافق حالات میں انگریزوں اور ہندوؤں کی بھرپور مخالفت کے باوجود قائد اعظمؒ نے ایک نا ممکن کام کو ممکن بنا دیا اور قوم حصولِ پاکستان میں کامیاب ہو گئی۔

قائداعظمؒ کو اپنے سیاسی مخالفین کے مقابلہ میں قیام پاکستان کی شکل میں جو بے پناہ کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کا سبب ان کا ذاتی کردار بھی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے قائد اعظمؒ کو بے مثال دیانت داری کی خوبی سے نواز رکھا تھا۔ دنیا کا کوئی لالچ دے کر اور اعلیٰ سے اعلیٰ عہدے کی پیش کش کر کے انہیں خریدا نہیں جا سکتا تھا۔ جس قیادت اور جس شخصیت کے مقاصد جلیل ہوں، اس کو دنیا کا کوئی لالچ دے کر راہِ راست سے ہٹانا اور ورغلانہ ممکن ہی نہیں ہوتا۔ قائد اعظمؒ نے اکتوبر 1947ء میں یونیورسٹی گراؤنڈ لاہور میں خطاب کرتے ہوئے قوم کے نام یہ پیغام دیا تھا کہ ’’اگر ہمیں اپنی زندگیوں میں کامیابی کی تمنا ہے تو ہمیں قرآن مجید سے راہنمائی لینا ہو گی اور ہم سب کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ پاکستان کو اسلام کا مضبوط قلعہ بنانے کے لئے ہم اپنا سب کچھ قربان کر دیں گے‘‘۔۔۔ جو عظیم لیڈر پاکستان کو اسلام کا مضبوط قلعہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہو، ایسا پاک دل و پاک باز لیڈر اپنے مقاصد سے بے وفائی کیسے کر سکتا ہے؟۔۔۔ جب میدان سیاست میں عملی طور پر مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان اپنی اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے جنگ جاری تھی تو اس وقت بھی قائد اعظمؒ سے سوال کیا گیا کہ اس جنگ میں فتح یاب کون ہوگا۔ تو قائداعظمؒ نے جولائی 1946ء میں حیدر آباد دکن میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’علمِ غیب تو صرف اللہ کے پاس ہے، لیکن مَیں ایک مسلمان کی حیثیت سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہم نے قرآن مجید کو اپنا آخری اور قطعی راہنما بنا کر ثابت قدمی اور استقامت کا مظاہرہ کیا اور اس ارشاد خداوندی پر عمل کیا کہ سب مسلمان بھائی بھائی ہیں تو ہمیں دنیا کی کوئی طاقت ،بلکہ کئی طاقتوں کا مجموعہ بھی مغلوب نہیں کر سکتا‘‘۔ سچی بات یہ ہے کہ جب ہمارے قائد اعظم کے پاس روشنی اور راہنمائی کے لئے قرآن کریم ایسی مشعلِ ہدایت اور قرآن کا عظیم ترین پیغام موجود تھا تو پھر اُن کے عزم اور ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کی راہ میں رکاوٹ کون کھڑی کر سکتا تھا؟ مایوسی اور ناکامی ایسے الفاظ تھے جو قائداعظمؒ کی ڈکشنری ہی میں نہیں تھے۔ قائد اعظمؒ کی زندگی کے آخری ایام میں ان کے ایک معالج ڈاکٹر سید ریاض علی شاہ بھی تھے۔ وہ روایت کرتے ہیں کہ قائداعظمؒ نے ایک دن اُن سے گفتگو کے دوران فرمایا کہ ’’مَیں مسلمانوں سے کبھی مایوس نہیں ہوا۔ میرے ہادیؐ اور آقاؐ کی تعلیمات میں مایوسی کا لفظ تک نہیں۔ زندہ قوموں کو انتہائی مصائب اور مشکلات میں بھی مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ مسلمانوں کو تو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب وہ مصیبتوں، مشکلات، طوفانوں اور آندھیوں میں گھر جائیں تو وہ غیر اللہ سے رشتہ توڑ کر خدا کی طرف رجوع کریں۔ کیونکہ خدا ہی مصیبتوں کو راحتوں میں تبدیل کرنے پر قادر ہے‘‘۔قائد اعظمؒ نے زندگی میں مایوس نہ ہونے کا سبق سیرتِ رسولؐ سے لیا۔ قائداعظمؒ نے مارچ 1944ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے قبل از ظہور اسلام کی عرب قوم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’وہ عرب قوم جس میں قومی اتحاد کے شعور کا فقدان تھا، جو خاندانوں اور قبیلوں کے تعصبات کی وجہ سے تقسیم در تقسیم تھی۔ ہمارے رسول کریمؐ نے ان اجڈ لوگوں کو ایک قوم بنا دیا۔ ہماری پشت پر ثقافت اور تہذیب کی یہ عظیم روایات موجود ہیں، اس لئے ہند کے مسلمانوں میں بھی ایک قوم بننے کی تمام تر صلاحیت موجود ہے۔ جب اپنی قوم کوہم ایک عظیم قوم بنا لیں گے تو پاکستان ہمارے قدموں میں ہوگا‘‘۔ قائد اعظمؒ نے اپنی قوم کو ایک خدا، ایک کتاب ا ور ایک رسولؐ کی بنیاد پر دعوت دی تو مسلمان اسلام کے رشتے کو مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں تھام کر آگے بڑھتے چلے گئے اور کامیابی نے ان کے قدم چوم لئے۔

آخر میں مجھے ایک گزارش کرنی ہے کہ تصور پاکستان پیش کرتے ہوئے علامہ اقبالؒ اور قائد اعظمؒ نے تحریک پاکستان کے دوران بار بار اسلام اور مسلم قومیت کا حوالہ دیا۔ اس کے باوجود بعض گمراہ عناصر نہایت منظم انداز میں یہ پراپیگنڈہ کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں کہ قائداعظمؒ پاکستان کو سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے ،جس میں اسلام کا کاروبارِ مملکت سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ قیام پاکستان کی جدوجہد کے دوران بھی اس طرح کا ڈھنڈرا پیٹنے کی کوشش کی گئی کہ قائداعظمؒ جس پاکستان کے قیام کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں، ان کے تصور میں ایک اسلامی مملکت نہیں۔ قائد اعظمؒ نے اس وقت بھی سیکولر طبقے کو یہ جواب دے کر خاموش کروا دیا تھا کہ ’’پاکستان کا آئین ساز ادارہ مسلمانوں کی غالب اکثریت پر مشتمل ہوگا، اس لئے یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان میں کوئی ایسی قانون سازی ممکن ہے جو اسلامی اصولوں سے متصادم ہو گی اور نہ حکومت پاکستان کا کوئی عمل اسلام کے اصولوں اور تصورات سے متصادم ہو سکتا ہے‘‘۔

ویسے بھی جس ملک میں 90 فیصد سے بھی زیادہ مسلمانوں کی آبادی موجود ہو اور جو ریاست قائم ہی اسلام کی بنیاد پر کی گئی ہو، اس ریاست میں اللہ اور اس کے رسولؐ کو سیاست سے الگ رکھنے کا نعرہ گاندھی، نہرو اور ان کی جماعت کانگریس کا تھا۔ ’’مذہب ہر شخص کا پرائیویٹ معاملہ ہے۔‘‘ جب یہ آواز گاندھی کی طرف سے بلند ہوئی تو قائد اعظمؒ نے جواباً فرمایا کہ ’’ہم معاشرتی، معاشی، سیاسی ا ور مذہبی امور کو الگ الگ شعبوں میں تقسیم نہیں کر سکتے۔ جس مذہب کا انسانی معاملات سے واسطہ نہ ہو مَیں اسے مذہب ہی تسلیم نہیں کرتا۔ مذہب انسان کے ہر معاملے کے لئے اخلاقی بنیاد فراہم کرتا ہے اور جب زندگی مذہبی بنیاد سے محروم ہو جائے تو وہ زندگی انسانی نہیں محض غوغا آرائی اور ہنگامہ پروری بن جاتی ہے‘‘۔ قائداعظمؒ نے قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں بھی مجموعی طور پر 115 مرتبہ یہ اعلان کیا کہ پاکستان کے دستور اور نظام حکومت کی بنیاد اسلامی اصولوں پر استوار کی جائے گی۔ قرآن کو اپنا راہنما قرار دینا، قرآن سے راہنمائی اور روشنی کی بات کرنا، مسلم لیگ کے جھنڈے کو اسلام کا جھنڈا قرار دینا، اسلام کو اپنے لئے قابلِ فخر قرار دینا، تعلیماتِ قرآنی کو اپنے لئے باعث نجات سمجھنا، قرآن مجید کو مسلمانوں کی سیاسی، معاشرتی اور معاشی زندگی کے لئے ضابطۂ حیات قرار دینا، قائد اعظمؒ کا یہ کہنا کہ مسلمانوں کو پروگرام تلاش کرنے کی ضرورت نہیں، ان کے لئے قرآنِ پاک کی صورت میں مکمل پروگرام موجود ہے، قائد اعظمؒ کا اپنی تقاریر میں بار بار جمہوریت، مساوات اور سماجی انصاف کے اسلامی تصورات کا حوالہ دینا، قائد اعظمؒ کا خود کو خادمِ اسلام قرار دینا یہ سب کچھ قائد اعظمؒ کی اسلام سے والہانہ محبت اور رسول کریمؐ سے حقیقی عشق کا مظہر ہے، پھر بھی اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ قائد اعظمؒ اسلام کو سیاست ا ور ریاست سے الگ رکھنا چاہتے تھے تو مَیں اس دعوے کو نرم سے نرم الفاظ میں جھوٹا اور بے بنیاد ہی کہہ سکتا ہوں۔

مزید :

کالم -