پاکستان۔۔۔ روس کی مشترکہ جنگی مشقیں

پاکستان۔۔۔ روس کی مشترکہ جنگی مشقیں
 پاکستان۔۔۔ روس کی مشترکہ جنگی مشقیں

  

آئندہ تین ماہ میں کسی بھی وقت پاکستان کے کسی کوہستانی علاقے میں پاکستان اور روس کی افواج کی مشترکہ جنگی مشقیں ہو رہی ہیں۔ روس کے ساتھ دفاعی تعاون کا یہ گویا نیا دروازہ ہے جو کھلنے جا رہا ہے۔

اگرچہ ضربِ عضب اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے لیکن پاکستان اپنی چوکسی (Alertness) کمزور نہیں کر سکتا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ سی پیک(CPEC) ہے۔ یہ منصوبہ جو آہستہ آہستہ تکمیل کی طرف گامزن ہے، پاکستان کے تمام ہمسایوں کے لئے خطرے کا الارم (Threat Alarm) بنا ہوا ہے اور اِن ہمسایوں کو دُنیا کی طاقتور ترین مغربی قوتوں کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ پاکستان کو بھی معلوم ہے کہ اگر اُس نے عالمی بساطِ سیاست میں مستقبل میں کوئی بڑا رول ادا کرنا ہے تو اُسے اسلامی بھائیوں کی طرف سے کچھ نہیں ملے گا۔ اگر کچھ ملے گا تو گیا میں ایک بڑ کے درخت کے نیچے عبادت گزار مہاتما بدھ کے ماننے والے چینیوں سے ملے گا یا اُن روسیوں سے جن کو ملحد کہا جاتا ہے۔ ہم پاکستانیوں نے ہمیشہ ہی اپنے ہم مذہبوں سے غلط امیدیں لگائی ہیں۔ اول اول تو شائد کچھ فائدہ حاصل کیا ہو لیکن آخر کار ایسا نقصان اٹھایا ہے جو کسی بھی فائدے کے پلڑے کو برابر نہیں کر سکتا۔ پاکستانی نقصانات کا پلڑا ہمیشہ جھکا رہاہے۔

روس کو CPEC کی ضرورت ہو گی یا نہیں، یہ تو مستقبل ہی بتا سکے گا۔ لیکن آپ نے شائد کہیں یہ بھی پڑھا ہو گا کہ روس، بحیرۂ کیسپین کی راہ، ایران کے جنوبی ساحل تک ایک آبی شاہراہ تعمیر کر نے کا پروگرام رکھتا ہے۔ ابھی یہ پراجیکٹ ابتدائی مراحل میں ہے لیکن روس اور ایران دونوں نے اس آبی شاہراہ کی تعمیر و تشکیل پر بنیادی طور پر صاد کیا ہوا ہے۔ اگر کل کلاں روس بندر عباس کی راہ خلیج فارس میں آ جاتا ہے تو اسے (CPEC) سے استفادہ کرنے کی ضرورت ضرور پیش آئے گی۔ مستقبل میں چین اور روس اگر دونوں اُسی طرح متحد ہو جائیں جس طرح امریکہ اور مغربی یورپ کے ممالک آج متحد ہیں تو یہ بلاک ایک ایسی فوجی تنظیم میں ڈھل سکتا ہے جو ناٹو کی نہ صرف رقیب ہو گی، بلکہ ناٹو کو مغلوب کرنے کی صلاحیت کی حامل بھی ہو گی! پاکستان اور روس کی مجوزہ مشترکہ فوجی مشقوں کو فی الحال مشترکہ ڈرل کا نام دیا جا رہا ہے۔ ان کا قطعی وقت اور حتمی مقام ابھی طے نہیں ہوا۔ لیکن اتنا کہا گیا ہے کہ یہ کوہستانی علاقوں میں ہوں گی۔ اس قسم کی مشترکہ فوجی مشقوں کے مقاصد میں دونوں اطراف کے فائدے مضمر ہوتے ہیں۔ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ ان مشقوں سے پاکستان کو کیا فائدہ پہنچے گا اور روس کن معنوں میں مستفید ہو سکے گا۔۔۔۔ پہلے پاکستان کا کیس لیتے ہیں۔۔۔

جیسا کہ ہمیں معلوم ہے امریکہ نے پاکستان کو آٹھ عدد ایف16-دینے کا وعدہ کیا تھا۔ان کی قیمت کا ایک غالب حصہ بھی امریکہ ہی نے(ایک پروگرام کے تحت) خود ادا کرنا تھا۔ لیکن کانگریس نے اس رقم کو ریلیز کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر اوباما نے بھی اپنی قوم کی ہاں میں ہاں ملائی اور کہا کہ پاکستان چونکہ اپنے فاٹا سے حقانی گروپ کو نہیں نکال سکا اور نہ ہی پاکستانی طالبان کو افغانستان آ کر دہشت گردانہ کارروائیوں سے روک سکا ہے اِس لئے وہ ان ایف16- کا حقدار نہیں ہو سکتا۔ ۔۔۔ بندہ پوچھے یہ امریکی خود14برس تک اپنا تمام لاؤ لشکر افغانستان میں رکھ کر کیا جھک مارتے رہے ہیں، کس حقانی گروپ اور کن پاکستانی طالبان کو روک سکے ہیں؟۔۔۔ قصہ یہ ہے کہ من حرامی ہو تو حجتیں ڈھیر ساری کی جا سکتی ہیں۔۔۔’’امریکہ اینڈ کو‘‘ کا اصل مسئلہ پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر ہے۔۔۔۔ اسی لئے پاکستان نے اگست 2015-16ء میں روس کے ساتھ چار MI-35M اٹیک ہیلی کاپٹروں کی خرید کا معاہدہ کیا تھا۔ یہMI-35 دراصل MI-24 گن شپ ہیلی کاپٹر کا ایکسپورٹ ورشن (ایڈیشن) ہے اور اس کا استعمال کوہستانی علاقوں میں بڑے مثبت نتائج کا حامل پایا گیا ہے اور مزید برآں خراب موسم میں بھی اس کو ڈیپلائے کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے پاس اس وقت امریکی اٹیک گن شپ ہیلی کاپٹروں کا جو بیڑا ہے اسے عرف عام میں کوبرا اٹیک ہیلی کاپٹر کہا جاتا ہے اس کی آپریشنل اور شیلف لائف پوری ہونے کو ہے، یعنی یہ بیڑا ’’بوڑھا‘‘ ہو چکا ہے۔ اس کی جگہ نوجوان MI-35M کو Replace کر کے 15،20 برس مزید مشکل اور کوہستانی ٹیرین میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کئے جا سکتے ہیں۔

کئی ماہرین کا خیال یہ بھی ہے کہ اگر ایف16- کے دروازے بالکل ہی بند ہو چکے ہیں تو پاکستان کو دیکھنا چاہئے کہ وہ دوسرے کون کون سے دروازے کھٹکھٹا سکتا ہے۔ دوسری طرف روس بھی پاکستان کو امریکی ہتھیاروں پر انحصار کرنے کی بجائے اپنے بھاری ہتھیاروں کے استعمال و انحصار کی راہ پر ڈالنا چاہتا ہو گا۔ 1991ء میں جب سوویت یونین کا سقوط ہوا تھا تو بھارت، روسی بھاری اسلحے کا سب سے بڑا خریدار تھا۔اس نے بھی تقریباً دس سال کا ایک عبوری وقفہ اسی طرح گزارا تھا اور پھر آہستہ آہستہ امریکی اور یورپی ہتھیاروں کی طرف رجوع کیا ۔ اب پاکستان بھی اگر اُسی ایکسر سائز کو دہرانے والا ہے تو یہ مساوات معکوس ہو کر بھی اغراض و مقاصد کے تناظر میں مفید رہے گی! اس موضوع پر دونوں ملکوں کی افواج کے ماہرین کے درمیان پہلے ہی خاصے سیر حاصل مذاکرات ہو چکے ہیں۔ یہ خیال بھی پایا جاتا ہے کہ اگر پاکستان اپنے موجودہ فضائی بیڑے کے ’’بوڑھے‘‘ لڑاکا طیاروں کو Replace کرنا چاہے گا تو وہ امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی طرف نہیں دیکھے گا بلکہ سوخوئی ایس یو35S- (SU-35S) کی طرف دیکھے گا۔ اور روس بھی ان کو پاکستان کو بیچ کر نہ صرف پاکستان کی امداد کرے گا بلکہ چین کی تائید بھی حاصل کرے گا اور اس کی اپنی تجوری بھی بھاری ہو جائے گی۔ آیئے اب ذرا اِس بات پر غور کرتے ہیں کہ روس یہ جنگی مشقیں، کوہستانی علاقوں ہی میں کیوں کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔ میرے خیال میں اس کی وجہ تلاش کرنے کے لئے ہمیں سوویت افواج کی اُس کارکردگی کا ایک مختصر جائزہ لینا ہو گا جو دسمبر 1979ء سے لے کر دسمبر1889ء تک کے تقریباً دس برسوں پر محیط تھی۔اس عشرے میں جو روسی فوج، افغانستان کے دشت و جبل میں لڑتی رہی تھی اس کا آخری جرنیل بھی اب ریٹائر ہو چکا ہے اور اس کا کوئی جونیئر ترین آفیسر یا سپاہی بھی رشین آرمی میں موجود نہیں کہ اب اس افغان جہاد کو گزرے 28برس سے زیادہ ہو چکے ہیں۔

روس کو آج کریملن کے اردگرد تاک میں بیٹھی دشمن ناٹو افواج کا بھی سامنا ہے۔ کریملن کی ٹیرین بھی نیم کوہستانی ہے۔ رشین ملٹری نے 1980ء کے عشرے میں افغانستان میں مجاہدین سے شکست کھا کر اپنا پروفیشنل قد کاٹھ کافی گھٹا لیا تھا اور اگر وہ پچھلے دِنوں شام میں فضائی حملے نہ کرتیں تو ان کا رہا سہا اعتبار بھی ختم ہو جاتا۔ تاہم روس نے طرطوس اور انطاکیہ میں اپنی ، فضائی فوج سے حملے کر کے داعش کو دمشق اور حلب سے اکھاڑنے میں کامیابی حاصل کی۔ لیکن اگر روس آئندہ اپنی گراؤنڈ فورسز کو بھی کہیں کمٹ کرنا چاہے گا تو اس کی پشت پر کوئی تازہ تجربہ نہیں ہو گا۔ اگر کل کلاں روسی اور ناٹو افواج آمنے سامنے ہوئیں اور یہ جنگ(جیسا کہ خیال کیا جاتا ہے) جوہری ہتھیاروں کی بجائے غیر جوہری اور روایتی ہتھیاروں سے لڑی گئی تو روسی گراؤنڈ فورسز، ناٹوگراؤنڈ فورسز کے مقابلے میں، کمزور اور کم تجربہ کار ہوں گی۔ یہی وجہ ہے کہ روس اپنے ٹروپس کو اُن علاقوں میں جنگی مشقیں کروانا چاہتا ہے جو پہاڑی ہوں۔ روسی افواج برفانی اور میدانی جنگ و جدل میں ہر سال روٹین کی مشقیں تو کرتی رہتی ہیں لیکن کوہستانی علاقوں میں وہ جس قسم کی مشقیں اب تک کرتی رہی ہیں، وہ مشکل ٹیرین اور زندہ ایمونیشن کے ساتھ نہیں کی گئیں۔

اور جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو دُنیا میں آج پاک فوج کے علاوہ دوسری اور کوئی فوج ایسی نہیں جس کو کوہستانی جنگ وجدل (Mountain Warfare) کا اتنا طویل تجربہ حاصل ہو۔ پاکستان آرمی نے اس جنگ میں اپنے ہزاروں افسروں اور جوانوں کی قربانی دی ہے۔ ضربِ عضب کے دوران بروئے کار لائے گئے آپریشنوں میں کئی ایک معیاری طریقہ ہائے کار (SOPs) وضع کئے گئے ہوں گے۔ یہSOPs ہر آپریشن کے بعد اَپ گریڈ اور اَپ ڈیٹ ہوتی رہی ہوں گی اور اب ماشا اللہ پاک فوج کے جنگی تجربے کا کوئی اور مقابل اس خاص طریقۂ جنگ و جدل میں نظر نہیں آتا۔

علاوہ ازیں پاکستان نے فاٹا(شمالی وزیرستان) میں اپنی ائر فورس کو بھی استعمال کیا ہے۔ ایف16-، میراج اور کوبرا ہیلی کاپٹروں کو ایک محدود علاقے میں آپریٹ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ پاک افغان سرحد(انگور اڈہ) کے سامنے جو افغان علاقہ ہے اس میں امریکیوں نے جا بجا ریڈار نصب کئے ہوئے ہیں۔اگر پاکستان کا کوئی طیارہ یا کوئی ہیلی کاپٹر پاک افغان سرحد کی خلاف ورزی کرتا تو امریکی شور مچا دیتے اور اِنہیں جوابی وار کرنے کا بہانہ مل جاتا۔ ایسی نازک صورتِ حال میں پاک افغان بارڈر پر فضائیہ کو کامیابی سے استعمال کرنا پاک فضائیہ کا اپنے جوانوں،افسروں اور اپنی مشینوں (طیاروں) پر کامل اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔۔۔۔ روس اس پاکستانی تجربے سے بھی فائدہ اٹھانا چاہتا ہو گا۔ اس کو معلوم ہے کہ شام کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اگرچہ اگلے روز ایک لولے لنگڑے معاہدے (روس اور امریکہ کے درمیان) پر اتفاق رائے ہو چکا ہے لیکن مشرق وسطیٰ کے اس خطے میں صورتِ حال اتنی گھمبیر ہے کہ کوئی بھی معاہدہ کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے۔ تاریخِ جنگ ویسے بھی معاہدوں کی شکستوں کا نام ہے۔ روس یہ چاہے گا کہ اگر پاکستان کی SOPs سے استفادہ کر کے اپنی برتر فضائی اور زمینی فورسز کی ٹیکنالوجی کو کام میں لایا جا سکتا ہے تو وہ اس ایکسر سائز سے استفادہ ضرور کرنا چاہے گا۔۔۔ روس میں پاکستانی سفیر قاضی خلیل اللہ نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اور روس دونوں عمومی دفاعی تعاون بڑھانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اِسی سال جنوری میں رشین آرمی کے کمانڈرانچیف (Oleg Saluokove) نے بھی اعلان کیا تھا کہ روس، ویت نام اور پاکستان کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ اس مجوزہ جنگی ایکسر سائز میں یہ بھی متوقع ہے کہ چونکہ پاکستان اور روس پہلی بار اِس قسم کی حربی ڈرل میں شریک ہو رہے ہیں، اِس لئے روس کی خواہش ہو گی کہ وہ اپنا تازہ ترین عسکری سازو سامان (Equipment) پاکستانی افواج (فضائیہ اور آرمی) کو دکھائے تاکہ پاکستانیوں کو معلوم ہو کہ امریکی اسلحہ اور سازو سامان میں اور روسی اسلحہ اور سازو سامان میں کتنا فرق ہے اور ہے بھی یا نہیں۔ اس ایکسر سائز میں حصہ لینے والی نفری کی تعداد کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ دونوں اطراف سے 200 سپاہی اور آفیسر حصہ لیں گے یعنی روس سے بھی ایک سو اور پاکستان سے بھی ایک سو۔ باقی تفصیلات ابھی منظر عام پر نہیں آئیں کہ کون کون سے بھاری یا ہلکے ہتھیار استعمال کئے جائیں گے، علاقہ کون سا ہو گا، کس کس ’’آپریشن آف وار‘‘ کی مشق کی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔۔۔ تاہم دونوں افواج کو پہلی بار ایک دوسرے کی زبان اور لب و لہجہ سننے کا موقع ملے گا!

مزید :

کالم -