جھوٹ کا فروغ اور اس کی شرعی ممانعت

جھوٹ کا فروغ اور اس کی شرعی ممانعت

  

امیر افضل اعوان

اسلام ہمیں دنیامیں زندگی گزارنے کے لئے جو ضابطہ فراہم کرتا ہے اس میں ہر لحاظ سے خیر و برکت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہم حقیقی معنوں میں دونوں جہانوں کی کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ اسلام چند عبادات کرلینے کا ہی نام نہیں بلکہ اسلام تو انسان کو مکمل طور پر انسانیت کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اسلامی تعلیمات پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا ہونے والاشخص سراپا انسانیت اور آدمیت کا پرتونظر آتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال صحابہ کرامؓ ہیں کہ جنہوں نے اپنے باپ دادا کے عقائد ورسومات کو ترک کرکے دین حق سے تعلق استوار کیا تو دنیا نے عدل وصدق کے زندہ جاوید سراپے بچشم خود ملاحظہ کئے مگر وقت کی گرد پڑنے کے ساتھ یہود ونصاریٰ کی سازشوں کے دام میں آکر آج ہم اپنی اساس و بنیاد کو فراموش کرچکے ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں جھوٹ کو بہت برا جانتے ہوئے اس سے مکمل گریز کا حکم دیا گیا ہے۔ بلکہ ایک حدیث مبارکہ میں تو یہاں تک کہا گیا ہے کہ مومن کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ اس حوالہ سے قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے کہ

سچ کو جھوٹ کے ساتھ گڈ مڈ نہ کرو اور جان بوجھ کر حق بات کو نہ چھپاو۔

اسی طرح ایک اور مقام پرفرمایا گیا ہے کہ

بڑی خرابی ہوگی ایسے شخص کے لئے جو جھوٹا ہو نافرمان ہو۔

قرآن کریم میں ایک اور مقام پر ارشاد ربانی ہے

بیشک اللہ ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیا کرتا جو جھوٹا (اور) ناشکرا ہو۔

ان آیات مبارکہ کا شان نزول ایک الگ باب ہے مگر بنیادی طور پر جھوٹ سے گریز کاحکم دیتے ہوئے بتایا جارہا ہے کہ حق بات کو چھپانا یا جھوٹ و سچ کو ملانا درست نہیں ، مزید یہ کہ جھوٹے کے لئے بڑی خرابی کا ذکر آنے کے ساتھ ساتھ یہ بتایا جارہاہے کہ اللہ پاک بھی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا اور اس کے مسائل، مشکلات، مصائب وپریشانیاں ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہیں۔

ماحول پر نظر ڈالیں اور زمینی حقائق و صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے معاشرتی لحاظ سے دیکھا جائے تو بخوبی احساس ہوتا ہے کہ جھوٹے شخص کو کوئی بھی پسند نہیں کرتا۔ بلکہ اس کی سچی باتوں پر بھی جھوٹ کا ہی گمان کیا جاتا ہے مگر اس مسئلہ پر غور کیا جائے تو بلاشبہ ایک جھوٹ بہت سی خرابیوں کا باعث بن جاتا ہے اور اگر آپ کا یہ جھوٹ ایک سے دوسرے شخص سے ہوتا ہوا آگے سفر کرتا ہے تو اس کے بداثرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اسی لئے قرآن کریم میں اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ رب العزت ارشاد فرما ہے کہ

اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہاے پاس کوئی سی خبر لائے تو اس کی تحقیق کیا کرو کہیں کسی قوم پر بے خبری سے نہ جا پڑو پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونے لگو۔

یہاں اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ جھوٹ و سچ کی تفریق کے لئے فاسق کی خبر کا اعتماد نہ کرو جب تک پوری تحقیق و تفتیش سے اصل واقعہ صاف طور پر معلوم نہ ہو جائے کوئی حرکت نہ کرو ممکن ہے کہ کسی فاسق شخص نے کوئی جھوٹی بات کہہ د ی ہو یا خود اس سے غلطی ہوئی ہو اور تم اس کی خبر کے مطابق کوئی کام کر گزرو تو اصل اس کی پیروی ہو گی اور مفسد لوگوں کی پیروی حرام ہے۔ قرآن کریم کی طرح احادیث مبارکہ میں جھوٹ کی سخت ممانعت ہے جب کہ ایک حدیث مبارکہ میں جھوٹ کو منافق کی پہچان قرار دیا گیاہے:

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے فرمایا کہ منافق کی تین پہچانیں ہیں: جب بولے تو جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو خلاف کرے جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔ (صحیح بخاری)

توجہ فرمائیے کہ جھوٹ کتنی بڑی برائی ہے کہ جس کو ہم غلط سمجھنے کے لئے تیار نہیں اور ہماری معاشرتی زندگی میں یہ عنصر کس درجہ سرایت کرچکا ہے کہ جھوٹ و سچ کی تمیز ہی ختم ہوتی جارہی ہے اور یہ صورتحال بحیثیت مسلمان ہمارے لئے باعث تشویش و ندامت ہونی چاہئے۔

قرآن و حدیث میں جھوٹ کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے گناہ کبیرہ سے تعبیر کیا جارہا ہے تاکہ ہم اپنا قبلہ درست کرتے ہوئے حق و سچ کا راستہ اختیار کریں۔ جھوٹ کے حوالہ سے ایک حدیث مبارکہ میں سخت مذمت سامنے آتی ہے:

حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمؐ نے تین بار فرمایا کہ میں تم لوگوں کو سب سے بڑا گناہ نہ بتاوں؟ لوگوں نے جواب: دیا ہاں یا رسول اللہ! آپ ؐنے فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا والدین کی نافرمانی کرنا اور آپ ؐ تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے تھے فرمایا کہ سن لو جھوٹ بولنا اور بار بار اس کو دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا: کاش! آپؐ خاموش ہو جاتے۔ (صحیح بخاری)

اس حدیث مبارکہ میں رسول کریم ؐ نے کبائر کا ذکر کرتے ہوئے شرک اور والدین کی نافرمانی کے بعد جھوٹ کا بار بار تذکرہ کیا۔ صحیح بخاری میں آتا ہے کہ جب آپ ؐ نے کبائر کا ذکر کیا تو اس وقت جھوٹ کا تذکرہ کرنے سے قبل آپ ؐ تکیہ سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے مگر جھوٹ کا ذکر کرتے ہوئے آپ ؐسیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور فرمایا: سن لو جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا، سن لو! جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا، آپ ؐ اسی طرح (بار بار) فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کہ آپ خاموش نہ ہوں گے، یعنی آپ ؐ نے جھوٹ کا کبائر میں ذکر کرتے ہوئے اس لئے اس کی تکرار فرمائی تاکہ اس کی برائی واضح ہوسکے اور اس کو معمولی فعل جان کر نظر انداز کرنے کی بجائے اس کی خرابی اور گناہ کا ادراک کرتے ہوئے جھوٹ سے مکمل اجتناب کیا جائے۔

حضرت عبداللہؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ؐنے فرمایا کہ سچائی نیکی کی طرف اور نیکی ہدایت کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور آدمی سچ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ صدیق ہوجاتا ہے اور جھوٹ بدکاری کی طرف اور بدکاری دوزخ کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کاذبین میں لکھا جاتا ہے۔ (صحیح بخاری)

حضرت سمرہ بن جندبؓ روایت کرتے ہیں نبی کریمؐ نے فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا کہ دو شخص میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ وہ شخص جس کو تم نے معراج کی رات میں دیکھا تھا کہ اس کے جبڑے چیرے جا رہے تھے وہ بہت بڑا جھوٹا تھا اور اس طرح جھوٹ باتیں اڑاتا تھا کہ دنیا کے تمام گوشوں میں وہ پھیل جاتی تھیں قیامت تک اس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ (صحیح بخاری)

جھوٹا شخص دنیامیں تو ناقابل اعتبار ٹھہرتا ہے مگر اس حدیث پاک میں واضح کردیا گیا کہ جھوٹے شخص کے لئے آخرت کی بھی رسوائی لکھ دی گئی ہے اور وہاں اس کی ذلت و رسوائی میں اس کا کوئی درماں نہ ہوگا۔

دنیا کی یہ زندگی عارضی وفانی ہے ، اس حوالہ سے دیگر مذاہب عالم پر کاربندمردوزن اور مشرکین بھی یقین رکھتے ہیں کہ ہم نے آخر ایک دن اس دار فانی سے کوچ کرجانا ہے۔ روزہ مرہ زندگی میں ہم اپنے پیاروں سمیت بہت سے افراد کو دنیا سے رخصت ہوتے دیکھتے ہیں اور بسا اوقات ہم خود ان کو سپرد خاک کرتے ہیں مگراس کے باوجو ہم اپنے اعمال و افعال پر توجہ نہیں دیتے۔ عصر حاضر میں جھوٹ ہماری معاشرتی زندگی کا ایک لازم جزو بن کررہ گیا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ روز مرہ معمولات میں ہم جھوٹ کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل سکتے یہاں تک کہ بیشتر ایسے مواقع بھی آتے ہیں کہ جہاں سچ بولنے کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں ہوتی اور ہم عادتاً وہاں بھی جھوٹ بولنے سے گریز نہیں کرتے بلکہ آج کل دروازے پر دستک دینے والے کو نہ ملنے کی خاطر یہ کہہ کر کہ ابو! گھر پر نہیں ہیں خود اپنے گھر میں ہی اپنے بچوں کو جھوٹ بولنے کی تربیت دینے لگے ہیں اور یہ پیغام نسل نو کو اس غیر محسوس طریقہ سے منتقل کیا جاتا ہے کہ پیغام دینے اور وصول کرنے والے دونوں کو اس کا علم اس وقت ہوتا ہے کہ جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے ، اسی طرح آج کل موبائل فون پر بھی جھوٹ عام ہے خاص طور پر آپ ہوتے کہیں اور ہیں اور اکثر اوقات کال پرمخاطب کو اس سے متضاد کیفیت سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ جھوٹ تو ہرحال میں گناہ ہے مگر یہاں ہم گھر والوں اور بالخصوص بچوں کے سامنے جھوٹ بولتے ہوئے یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ اگلی نسل میں جھوٹ جیسے گناہ کبیرہ کو منتقل کرتے ہوئے اور دیگر اہل خانہ کو جھوٹ کی ترغیب دیتے ہوئے دراصل ہم گناہ کبیرہ کے ساتھ ساتھ گناہ جاریہ کے بھی مرتکب ہورہے ہیں۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی سے جھوٹ کا مرض نکال پھینکیں۔ اس حوالہ سے ابتدائی طور پر کچھ الجھنیں ضرور درپیش ہوں گی کیوں کہ پرانی یا بد عادات تنگ کرتی ہیں مگر یقین رکھئے کہ ہمارا یہ عمل ہماری مشکلات وپریشانیوں سے نجات کا نقطہ آغاز اور دونوں جہانوں میں کامیابی وکامرانی کا باعث بن جائے گا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -