رسمی پالیسیاں تعلیمی انقلاب نہیں لا سکتیں

رسمی پالیسیاں تعلیمی انقلاب نہیں لا سکتیں

  

سرکاری و نجی اداروں میں ٹھوس اقدامات کے بغیر تبدیلی کی سوچ دیوانے کا خواب ہے

زلیخا اویس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تعلیم انسان کو اپنی صلاحیت پہچاننے اور اس کی بہترین تربیت کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوتی ہے اور یقیناًً تعلیم یافتہ لوگ ہی ایک بہتر سماج اور ایک ترقی یافتہ ملک و قوم کی تعمیر کرتے ہیں۔ قوموں کے عروج و زوال کی کہانی میں تعلیمی اداروں کا کردار بڑی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ جس قوم نے اس میدان میں عروج حاصل کیا، باقی دنیا اس قوم کے سامنے سرنگوں ہوتی چلی گئی۔ جاپان اور اٹلی جیسی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جو راکھ کے ڈھیروں سے اٹھے اور دنیا بھر میں اپنا سکّہ منوا چکے ہیں۔

علم کو بجا طور پر انسان کی ’ تیسری آنکھ‘ کہا جاتا ہے۔ انسان کو سچائی کی پہچان‘ حقائق کا ادراک اور معاشرے میں مہذب زندگی گزارنے کا سلیقہ علم ہی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔مشہور فرانسیسی مفکر روسیو کہتا ہے کہ ’ ’جس طرح درختوں کا ارتقاء کاشت کاری کے ذریعے ہوتا ہے ‘ اسی طرح انسانوں کا ارتقاء تعلیم کے ذریعے ہوتا ہے‘‘۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آج علم و تعلیم کی اہمیت کو ہر سطح پرمحسوس کیا جارہا ہے۔ بلکہ مبالغہ نہ ہو گا اگر یہ کہا جائے کہ روٹی ‘ کپڑا اورمکان کی بنیادی ضروریات میں اب ’تعلیم ‘ کا بھی اضافہ ہوچکا ہے۔ لیکن یہ بھی بڑی تلخ حقیقت ہے کہ تعلیم جس قدر عام ہوئی ہے اسی قدر معیار تعلیم میں گراوٹ بھی آئی ہے۔ رسمی پالیسیاں تعلیمی انقلاب نہیں لا سکتیں۔ سرکاری و نجی اداروں میں ٹھوس اقدامات کے بغیر تبدیلی کی سوچ دیوانے کا خواب ہے ۔

یہ صورتِ حال کسی المیے سے کم نہیں کہ پاکستان میں اڑھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے، دنیا کا ہر دسواں بچہ جو سکول نہیں جاتا پاکستانی ہے۔

قیام پاکستان سے لے کر آج تک ملک میں جتنی بھی تعلیمی پالیسیاں بنیں وہ کسی نہ کسی فرد واحد کی ذاتی پسند نا پسند یا نئے نئے تجربات کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ پبلک سیکٹر میں تو شعبہ تعلیم کا جو حال تھا سو وہ ہے ہی لیکن پرائیویٹ سیکٹر نے بھی اس کی بدحالی میں اپنا پورا حصہ ڈالا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پرائیویٹ تعلیمی سیکٹر کا جو پودا لگایا گیا وہ آج تناور درخت بن چکا ہے۔ آج ہر گلی کی نکڑ پر قائم پرائیویٹ سکولز نے معیارِ تعلیم کا بیڑہ غرق کر دیا، لیکن انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، کیوں کہ پوچھنے والے تو خود اس پستی کے ذمہ دار ہیں۔

نجی کاری کے نتیجے میں ایک جانب حکومت نے تعلیم کے سلسلے میں اپنے رول کو انتہائی کم کردیا دوسری جانب رہے سہے اختیارات میں بھی اصلاحات کے نام پر تعلیم کے معیار کو خوب متاثر کیا۔ اسی طرح کئی جعلی سکول‘ کالجز اور یونیورسٹیزپر بھی حکومت کی کوئی گرفت نہیں ۔حکومتی اجلاسوں، جلسوں اور این جی اوز کی مہنگے ہوٹلوں میں ہونے والی تعلیمی کانفرنسز سب خانہ پُری ہیں ، عملی کوششوں سے ان کا دور دور کا کوئی واسطہ نہیں۔

اس وقت پاکستان شرح خواندگی میں دنیا کے 162 اور پرائمری کی تعلیم کے معیار میں 116 ممالک سے پیچھے ہے۔ قیام پاکستان سے شرح خواندگی 16.4 سے 2009 تک 57 فیصد اور تازہ ترین رپورٹس کے مطابق اب 58.5 فیصد تک پہنچائی جا سکی ہے۔ صوبائی سطح پر سب سے زیادہ شرح خواندگی (59فیصد) پنجاب اور کم بلوچستان میں (تقریباً 45فیصد) ہے۔ شہروں میں سب سے پہلا نمبر اسلام آباد کا ہے جہاں شرح خواندگی 82 فیصد ہے، پھر کراچی اور راولپنڈی 79 اور لاہور میں شرح خواندگی 77فیصد ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک بھر میں ایک لاکھ51 ہزار پرائمری سکول، 14ہزار8 سو مڈل اور10ہزار سے زائد ہائی سکول رجسٹرڈ ہیں۔ اس کے علاوہ پرائیویٹ اداروں کی تعداد بھی ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

ہمارے لئے یہ جاننا بہت ضروری ہے کی وہ کون سے محرکات ہیں جوتعلیمی پسماندگی کی وجہ ہیں اور انہیں کیسے دور کیا جا سکتا ہے ۔محض سطحی تبدیلیوں سے ہم خود کو مطمئن نہیں کر سکتے ۔ درج ذیل مسائل پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔

یکساں نصاب و نظام تعلیم :

یکساں نصاب و نظام تعلیم ملکی سمت کو درست پگڈنڈی پر چڑھا سکتا ہے اور اس سے نہ صرف امیر و غریب کا فرق ختم ہو گا بلکہ شرح کے ساتھ معیار تعلیم میں بھی بڑھوتری آئے گی۔ نصاب سازی کے دوران یہ خیال رکھا جانا چاہیے کہ نصاب میں ایسا تعلیمی مواد شامل کیا جائے جو پاکستانی عوام کو اپنے مذہب اور اقدار سے دور نہ کرے جبکہ حالیہ نصاب میں اس کا خیال بالکل نہیں رکھا جا رہا۔ نصاب میں دینی عقائد کی پاسداری کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ تخلیقی صلاحیتوں کو بھی ابھارا جائے۔ نظام تعلیم کا مقصد صرف کلرک پیدا کرنا نہ ہو بلکہ ایسا نصاب تشکیل دیا جائے جس سے حب الوطنی میں بھی اضافہ ہو۔

پرائمری تعلیم کا کھوکھلا پن (بنیاد کی کمزوری):

تعلیمی نظام میں پرائمری تعلیم کو بجا طور پر ’ بنیاد کا پتھر‘ سمجھا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ پتھر بہت ہی کمزور ہوچکا ہے۔ پرائمری تعلیم سے نکلنے والی ایک کثیر تعداد بنیادی صلاحیتوں ’تحریر‘ اور ’خواندگی‘ تک سے نا بلد ہے۔ حتیٰ کہ دسویں کلاس تک پہنچنے والی ایک تعداد ایسی بھی ہوتی ہے جو اپنا نام تک بھی لکھنا نہیں جانتی۔ بچوں میں سے 12بچے صرف انگریزی کی وجہ سے ہی تعلیم سے بھاگ جاتے ہیں۔ لہذا شرح خواندگی اور معیارِ تعلیم میں اضافہ کے لئے پرائمری سطح پر اردو کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے۔

اس کی ذمہ دار صرف پرائمری تعلیم ہے۔ حکومتی اداروں کا تو معاملہ ہی جد ا ہے کہ وہاں کئی کئی کلاس کو صرف ایک استاد پڑھاتا ہے ‘ لیکن پرائیویٹ اداروں میں بھی بھاری فیس وصول کرنے کے بعد ساری توجہ صرف ظاہری چیزوں (عمدہ یونیفارم‘ بھاری بستہ‘ خوب صورت اور پر شکوہ عمارتوں) پرصرف کردی جاتی ہے۔ بچے کی Learning Skill اور اس کی ذاتی نشونما پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔

اساتذہ۔ سب سے کمزور کڑی:

اساتذہ کو ’ معمار قوم‘ سمجھا جاتاہے۔ یہ سنگین مسئلہ ہے کہ اساتذہ اپنے اس معیار اور وقار کو کھو رہے ہیں۔ شعبہ تدریس کا تقدس مجروح ہو چکا ہے۔ایسے اساتذہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں جو تدریس سے قبل خصوصی تیاری کرتے ہیں‘ اپنے مضمون پر عبورحاصل کرنے کے لئے مستقل نصابی و غیر نصابی کتابوں‘ اخبارات و رسائل کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں اور تدریس کو ’ بوجھ‘ سے زیادہ ’ شوق ‘ سمجھتے ہیں۔اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اساتذہ سب سے پہلے خود اپنے آپ کو ’ طالب علم ‘ سمجھیں‘، استاد بن جانے پر بھی ’ حصول علم‘ میں مصروف رہیں۔ ڈگری اورسرٹیفیکٹ کے حصول پر ’خواب خرگوش‘ کا شکارنہ ہوجائیں۔ اساتذہ کے حصول علم پر کبھی Full Stopنہیں لگنا چاہئے۔انہیں شعبہ تدریس کو Professionسے پرے ایکMission اورPassion سمجھنا چاہئے۔

استاد کا معاشرتی سٹیٹس:

یہاں یہ امر بھی قابلِ غور ہے اساتذہ کا معاشرتی سٹیٹس کیا ہے اور حکومت اس حوالے سے کیا اقدامات کررہی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ استاد کی معاشی آسودگی کے ساتھ ریفریشر کورسز اور سکول میں حاضری کو یقینی بنایا جائے۔

امتحانی نظام:

امتحانی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

طلباء و طالبات بغیر بجلی کے شدید موسمی حالات کا سامنا کرتے ہوئے پرچہ دینے کے مرحلے سے لے کر غلط نتائج بھگتنے تک کا سفر طے کرتے ہیں۔

امتحانات طلبہ کے آگے بڑھنے کا ’دروازہ‘ ہوتے ہیں۔حقیقت پسندانہ تجزیہ بتاتا ہے کہ ہمارا امتحانی نظام محض ’یاد داشت‘ کو ’اہلیت کی بنیاد‘ قرار دیتا ہے۔ طلبہ کی سمجھ ‘ شعور‘ عملی و تخلیقی صلاحیتوں کو جانچنے میں یہ بہت ناقص ہے۔طلبہ کو سال بھر’کتابی خول‘کے اندر محصور رکھا جاتا ہے اور ’کتابی کیڑا‘ ہونا ہی ذہانت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس عمل نے ہمارے طلبہ سے محنت وجدوجہد کا مادہ چھین لیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہائر ایجوکیشن میں ہمارے طلبہ پچھڑ جاتے ہیں۔ یہ وہ ’میٹھا زہر ‘ ہے جو ہمیں مسابقت کے میدان سے یکسر کاٹ دیتا ہے۔امتحانی نظام کے بگاڑ کی وجہ سے طلبہ صرف تعلیم ہی سے نہیں بلکہ بعض تو زندگی سے ہی مایوس ہو جاتے ہیں۔

گھوسٹ سکولوں کا خاتمہ:

گھوسٹ سکول یعنی ایسے تعلیمی ادارے جو صرف کاغذات کی حد تک موجود ہیں عملاً وہاں درس و تدریس کا نام و نشان تک نہیں اور تنخواہیں باقاعدگی سے سرکاری خزانہ سے وصول کی جا رہی ہیں۔ گھوسٹ سکولز کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے بھی نوٹس لیا اور متعلقہ اداروں کو کارروائی کے احکامات جاری کر رکھے ہیں لیکن ایک محتاط اندازے کے مطابق اب بھی ملک بھر میں تقریباً 13ہزار گھوسٹ سکول موجود ہیں۔

دیہی علاقوں میں بچوں کی تعلیم

دیہی علاقوں میں والدین بچوں خاص کر بچیوں کو تعلیم دلوانے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں۔ غربت اور مہنگائی کی وجہ سے وہ اپنے بچوں سے مزدوری کروانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہاں والدین کو رہنمائی کی ضرورت ہے کہ کس طرح حصول تعلیم سے ان کے بچے بہتر انداز میں گھر چلا سکتے ہیں اور غربت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جان بھی چھوٹ سکتی ہے۔ آگاہی مہمات چلانے کے ساتھ حکومت اگر حقیقتاً تعلیم کو اس ملک کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھتی ہے تو بچوں کو ماہانہ بنیادوں پر کم از کم اتنا وظیفہ تو دیا جائے جتنا کہ ایک بچہ ورکشاپ پر کام سیکھتے ہوئے گھر لا کردیتا ہے اور یہ بہت زیادہ نہیں بلکہ صرف 60 سے 100 روپے کے درمیان ہوگا۔

مناسب اور معقول انفراسٹرکچر کی کمی:

تعلیمی اداروں میں فرنیچر، چاردیواری، بجلی، پانی اور ٹائلٹ سمیت دیگر بنیادی سہولیات کا فقداناس شعبہ کی زبوں حالی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر کے 9 فیصد سکول ذاتی عمارت، 37 فیصد چاردیواری، 34 فیصد پانی، 37 فیصد بیت الخلاء اور 59 فیصد بجلی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔

معیار تعلیم کی بلندی میں گرچہ انفراسٹرکچر کو ثانوی حیثیت حاصل ہے لیکن اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اسکول کی عمارت میں خاطر خواہ کمرے‘ ان کمروں میں مناسب چھت اورپنکھوں کا انتظام‘ بیٹھنے کے لئے سہولت بخش Benches اور Deskکی فراہمی‘ بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولتوں کی فراہمی وغیرہ کے بغیر ہم اچھے تعلیمی نتائج کی توقع نہیں کرسکتے۔ المیہ یہ ہے کہ حکومت کی امداد (Aids & Grants) کم سے کم تر ہوتی جارہی ہیں۔ طلبہ تنظیموں کے بار بار مطالبہ کے باوجود حکو مت اپنے بجٹ میں% 2فیصد سے زائد رقم تعلیم کے لئے مختص کرنے کو تیار نہیں۔( ترقی یافتہ ممالک میں اوسطا 10% فیصد بجٹ تعلیم کے لئے مخصوص ہوتا ہے) جتنی امداد دی جاتی ہے اس کا بھی خطیر حصہ ’بیوروکریسی‘ کی نذر ہوجاتا ہے۔ اورخانہ پری کے لئے معمولی رقم مستحق اداروں تک پہنچتی ہے۔ ان دونوں پہلوؤں سے توجہ دینے کی ضروت ہے۔ اس سلسلے میں اسکول انتظامیہ کی دیانت داری اور مضبوط قوت ارادی ضروری ہے۔

تعلیم کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے۔

ایجوکیشن پالیسز تو بنتی ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد ہونے سے قبل ہی دوسری پالیسی آجاتی ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق ایجوکیشن پالیسی کے تحت جوسفارشات پیش کی گئیں ان میں سے صرف 25 فیصد اصلاحات پر عمل ہوا۔ تعلیمی بجٹ میں اضافہ کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی طور پر مقررہ معیار کے مطابق قومی مجموعی پیداوار کے 4 فیصد تک لایا جائے اور پھر اس بجٹ کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے شعبے کے لئے مختص کی جانے والی رقوم 1947ء سے اب تک کل قومی پیداوار کے 2.1 فیصد سے کبھی آگے ہی نہیں بڑھ سکی، حالاں کہ ہمارے وجود سے کٹ کر الگ ہونے والا حصہ بنگلہ دیش بھی تعلیم پر کل قومی پیداوار کا 2.6فیصد، برونائی 9.1فیصد، ملائیشیا 8.1فیصد اور بھارت 4.1 فیصد خرچ کرتا ہے۔

معیار تعلیم کی بہتری کے لئے ضروری ہے کہ تمام عوامل پر یکساں توجہ دی جائے۔ کسی ایک پہلو پر توجہ دے کر بقیہ کو نظر انداز کرنے سے ’پائیداراور دیرپا‘ حل نہیں نکل سکتا۔ اس کے لئے مضبوط قوت ارادی اور حد درجہ قوت عمل کی ضرورت ہے، اسی سے تعمیر ملت و تشکیل سماج کا خواب شرمند تعبیر ہوسکتا ہے۔ سچ کہا شاعر مشرق نے :

تعلیم ہے فقط امراض ملت کی دوا

***

مزید :

ایڈیشن 2 -