اور ڈاکٹر طاہر القادری بیرون ملک چلے گئے۔ ۔۔۔۔۔؟

اور ڈاکٹر طاہر القادری بیرون ملک چلے گئے۔ ۔۔۔۔۔؟
 اور ڈاکٹر طاہر القادری بیرون ملک چلے گئے۔ ۔۔۔۔۔؟

  

اور ڈاکٹر طاہر القادری ملک سے چلے گئے۔ لیکن ان کا جانا کوئی حیران کن بات نہیں۔ وہ تو راولپنڈی کے جلسہ میں ہی اعلان کر رہے تھے کہ ان کے آنے جانے پر ان کے مخالفین کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔ جب ان کے کارکنوں کو ان کے آنے جانے پر کوئی اعتراض نہیں تو مخالفین اعتراض کرنے والے کون ہوتے ہیں؟

میرے خیال میں ڈاکٹر طاہر القادری شاید اپنے مخالفین یعنی حکمرانوں کا موقف نہیں سمجھ سکے۔ حکمرانوں کو ان کے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ۔ بلکہ حکمران ان کے جانے پر خوش ہوتے ہیں۔ سکھ کا سانس لیتے ہیں۔ صرف ان کے آنے پر اعتراض ہے۔ کہ وہ آتے کیوں ہیں۔ اس پر بھی حکمران اپنا اعتراض ختم کرنے کو تیار ہیں اگر وہ یقین دلوا دیں کہ وہ آنے کے بعد حکمرانوں کے لئے مسائل پیدا نہیں کریں گے تو شاید ان کے آنے پر اعتراض بھی ختم ہو جائے۔

لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے جانے کی ٹائمنگ بہت دلچسپ ہے۔ وہ جاتے جاتے عمران خان اور ان کی تحریک کو پنکچر کر گئے ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے انہوں نے پہلے دھرنا ختم کر کے عمران خان کے دھرنے کو پنکچر کر دیا تھا۔ اسی طرح اب انہوں نے عمران خان کی تحریک کو ایک مرتبہ پھر پنکچر کر دیاہے۔ویسے تو جانے سے چند دن قبل ہی ڈاکٹر طاہر القاری نے اپنے سیاسی تیور بد ل لئے تھے۔ بلکہ یو ٹرن لے لیا تھا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے رائے ونڈ جانے سے انکار سے ہی سب کو اندازہ ہو گیا تھا کہ ڈاکٹر کا موڈ بدل گیا ہے۔ حالانکہ ڈاکٹر صاحب چند دن قبل راولپنڈی کے جلسہ میں اپنے کارکنوں سے رائے ونڈ جانے کا وعدہ لے رہے تھے لیکن چند دن بعد انہوں نے کارکنوں کے وعدہ کو بھی لات ماری اور یک دم رائے ونڈ نہ جانے کا اعلان کر دیا۔

جو لوگ حکومت کے جانے کا دعویٰ کر رہے تھے ان کے لئے ڈاکٹر طاہر القادری کا جانا کسی بڑے صدمہ سے کم نہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے جانے نے اس تھیوری کو بھی تقویت دی ہے کہ حکومت کو گھر بھیجنے کی ڈیڈ لائن عید قربان تھی۔ اور جب ڈیڈ لائن گزر رگئی تو ڈاکٹر صاحب چلے گئے۔ انہوں نے ڈسپلن کا مظاہرہ کیا۔ اور چلے گئے۔

اب سوال یہ ہے کہ عمران خان ڈاکٹر طاہر القادری کے جانے کے بعد کیا کریں گے۔ سادہ جواب وہی ہے کہ عمران خان وہی کریں گے؟ جو انہوں نے ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنا ختم کرنے کے بعد کیا۔ تب بھی انہوں نے اپنا دھرنا جاری رکھا تھا۔ اور انتظار کیا تھا کہ کوئی مناسب موقع آئے تو اپنا دھرنا ختم کریں۔ یہ درست ہے کہ سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے میں عمران خان کا دھرنا اسی دن ختم ہو گیا تھا جب طاہر القادری نے اپنا دھرنا ختم کیا تھا۔ لیکن عمران خان نے اپنے نیم مردہ دھرنے کو بھی جاری رکھا۔ اسی طرح اب بھی طاہر القادری کے جانے کے بعد عمران خان اپنی نیم مردہ تحریک کو جاری رکھیں گے۔ اور کسی مناسب موقع پر اس کو ختم کرنے کا اعلان کریں گے۔

سوال یہ ہے کہ جب ڈاکٹر صاحب کو یہ سمجھ آجاتی ہے کہ اب آگے کچھ نہیں۔ گیم ہاتھ سے نکل گئی ہے۔ اس لئے واپس چلے جانا چاہئے تو عمران خان کو یہ سمجھ کیوں نہیں آتی۔ وہ کیوں نہیں یہ سمجھتے کہ گیم ہاتھ سے نکل گئی ہے۔ اور اب گھر چلے جانے میں ہی عافیت ہے۔ دراصل ڈاکٹر طاہر القادی کا پاکستان کے موجودہ سیاسی نظام میں کچھ داؤ پر نہیں۔ بلکہ وہ تو اس سیاسی نظام کا کسی بھی طرح حصہ نہیں ہیں۔ اس لئے ان کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں ۔اگر آج عوام کہہ بھی رہے ہیں کہ ڈاکٹر بھاگ گیا تو ڈاکٹر صاحب کو اس کا کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جب ان کا کچھ داؤ پر ہی نہیں ہے تو انہیں اپنی سیاسی سا کھ کی بھی کوئی پرواہ نہیں۔ لوگ لاکھ ان کے آنے اور جانے پر سوال اٹھاتے رہیں۔ ان کی تحریکوں کی ٹائمنگ اور سکرپٹ پر سوال اٹھاتے رہیں۔ انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔

جبکہ دوسری طرف عمران خان موجودہ سیاسی نظام کا باقاعدہ حصہ ہیں۔ ایک صوبے میں ان کی حکومت ہے۔ قومی اسمبلی میں وہ ایک بڑی جماعت ہے۔ پنجاب میں ان کی جماعت کا قائد حزب اختلاف ہے۔ ان کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا۔ وہ یہ سب کچھ راتوں رات چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔ انہیں اپنی سیاسی ساکھ کا بھی خیال رکھناہے۔ جمہوری تاثر کو بھی قائم رکھنا ہے۔ عمران خان سیاست میں کوئی بھی فیصلہ یک دم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ وہ چاہتے ہوئے بھی ملک سے باہر نہیں جا سکتے۔ سامنے ہار نظر آتے ہوئے بھی انہیں اس کو جیت کا تاثر دینا ہے تا کہ ان کے کارکن اور پارٹی کے لوگ ان کے ساتھ کھڑے رہیں۔لیکن قدرت کی ستم ظریفی دیکھیں عمران خان کو ساتھ بھی ملا تو ڈاکٹر طاہر القادری جیسا۔ عمران خان چاہتے ہوئے بھی اپنی سیاسی ساکھ کے خوف سے طاہر القادری کو گلے نہیں لگا سکتے۔ حالانکہ عمران خان کو چاہئے تھا کہ وہ ڈاکٹر صاحب کو اپنے ساتھ جوڑ لیتے۔ بلکہ اپنے ساتھ باندھ لیتے تا کہ وہ بھاگ نہ سکتے۔ لیکن عمران خان نے دوسر ی بار یہ غلطی کی ہے کہ انہوں نے اپنی گیم ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ پلان تو کی لیکن سیاسی فاصلہ برقرار رکھا۔ اور دوسری دفعہ داکٹر صاحب نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ فاصلہ ان کے حق میں اور عمران خان کے خلاف تھا۔ اور اسکا دوسری دفعہ نقصان بھی عمران خان کو ہی ہوا ہے۔ حکمران جماعت کے کیمپ میں خوشی کا ماحول ہے۔ ایک دفعہ پھر جیت کا جشن ہے۔ سکھ کا سانس ہے۔ اور ڈاکٹر صاحب جاتے جاتے خوشیاں دے گئے ہیں۔

مزید :

کالم -