امریکہ اور روس کی شام میں مشترکہ فضائی حملوں کی تیاری میں مصروف

امریکہ اور روس کی شام میں مشترکہ فضائی حملوں کی تیاری میں مصروف

  

 واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) امریکہ اور روس کے درمیان شام میں قیام امن اور داعش کے خلاف قوتوں کو آپس میں لڑنے سے روکنے کیلئے جو تاریخی معاہدہ ہوا تھا اس پر کافی حد تک عملدرآمد ہو رہا ہے۔ معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ اگر سات دن تک جنگ بندی پر عمل ہوگیا تو پھر روس اور امریکہ مل کر مشترکہ مرکز سے داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کریں گے۔ امریکی فضائیہ سنٹرل کمانڈ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل جیفری ہیری گیان نے گزشتہ روز یہاں ایک پریس کانفرنس میں تصدیق کی کہ دونوں ممالک مشترکہ فضائی حملے کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ یہ مشترکہ مرکز اردن کے دارالحکومت عمان کے قریب قائم کیا جا رہا ہے۔ واشنگٹن مبصرین جنگ بندی کے معاملے میں بے یقینی کا شکار ضرور ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر زیادہ تر سکون رہا تو یہ مشترکہ مرکز کام شروع کر دے گا۔ اس دوران سکیورٹی حکامکے تحفظات یہ ہیں کہ مشترکہ کارروائیوں کے دوران امریکہ کے حربی طریقوں سے روس کو آگاہی حاصل ہو جائے گی۔ یہ معلومات شام کے صدر بشار الاسد کی انتظامیہ کو فراہم کرسکتا ہے۔ اس مرکز میں انٹیلی جنس کا تبادلہ ہوگا اور ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوکر فضائی حملے کئے جائیں گے۔ امریکی جنرل نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ اور روس والوں نے الگ الگ شام کے اعتدال پسند اپوزیشن لیڈروں سے اپیل کی ہے کہ وہ النصرۃ فرنٹ سے فاصلہ رکھیں ورنہ وہ نشانے کی زد میں آسکتے ہیں کیونکہ یہ حملے داعش کے علاوہ القاعدہ سے ہمدردی رکھنے والے دہشت گرد گروہ النصرۃ فرنٹ کے خلاف بھی ہوں گے۔

جنرل ہیری گیان کا کہنا تھا کہ شام اور عراق میں داعش کے خلاف نمایاں کامیابیاں ہو رہی ہیں لیکن ان میں تاخیر کا سبب یہ ہے کہ داعش شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے جبکہ اتحادی شہری آبادیوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب سب سے بڑا معرکہ داعش کی نام نہاد خلافت کے مرکز شام کے شہر رقہ اور عراق کے شہر موصل میں ہوگا۔ دونوں فریق اس جنگ کی تیاریاں کر رہے ہیں اور اب داعش کو یقین ہے کہ وہ ان شہروں پر قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتی جس کی وجہ سے وہ شہری آبادیوں میں گھس کر لڑائی کرے گی تاکہ شہریوں کا زیادہ نقصان ہونے پر اتحادیوں کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاسکے۔ تاہم اتحادیوں کے فضائی حملوں کے نشانے ممکن حد تک درست ہوتے ہیں۔

مزید :

علاقائی -