اتر پردیش میں باپ اور بیٹے کے درمیان سیاسی جنگ عروج پر

اتر پردیش میں باپ اور بیٹے کے درمیان سیاسی جنگ عروج پر

  

نئی دہلی (مانیٹرنگ دیسک )بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات سے چند ماہ قبل سابق وزیر اعلی ملائم سنگھ یادو اور ان کے بیٹے اور موجودہ وزیر اعلی اکھیلیش یادو کے درمیان گھمسان کی جنگ چھڑ گئی ہے۔جھگڑا ملائم سنگھ کے چھوٹے بھائی اور اکھیلیش کے چچا شیو پال سنگھ یادو کے سیاسی قد پر ہے۔ وہ ریاستی حکومت کے طاقتور وزیر بھی ہیں۔شوپال سنگھ یادو اور اکھلیش یادو کے درمیان لمبے عرصے سے کبھی درپردہ تو کبھی کھلے عام سرد جنگ چل رہی ہے اوراس لڑائی میں ملائم سنگھ یادو نے کھل کر اپنے بھائی کا ساتھ دیا ہے۔لیکن منگل کی صبح تمام پردہ داری ختم ہوگئی۔ پہلے اکھیلیش یادو نے ریاست کے چیف سیکریٹری کو ان کے عہدے سے ہٹایا کیونکہ وہ شیوپال اور ملائم سنگھ کے قریب مانے جاتے ہیں۔یہ خبر عام ہوتے ہی ملائم سنگھ یادو نے اپنے بیٹے کو پارٹی کی ریاستی یونٹ کی سربراہی سے ہٹا دیا اور یہ ذمہ داری شیوپال سنگھ کو سونپ دی گئی۔ جواب میں اکھیلیش نے بحیثیت وزیر اعلی اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے شیوپال یادو سے تمام اہم وزارتی قلمدان واپس لے لیے ہیں۔اب شیوپال یادو کا کہنا ہے کہ وہ ملائم سنگھ یادو کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ہی حکومت میں قائم رہنے یا استعفا دینے کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں گے۔سنہ 2012 کے انتخابات سے پہلے ملائم سنگھ نے اکھیلیش کو وزیر اعلی کے عہدے کے لیے سماجوادی پارٹی کے امیدوار کے طور پر پیش کیا تھا اور تمام انتحابی جائزوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے پارٹی کو اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل ہوئی تھی۔اکھیلیش یادو کا شمار ملک کے سب سے کم عمر وزراء اعلی میں کیا جاتا ہے لیکن حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد سے ہی انھیں پارٹی کے کچھ سینیئر رہنماؤں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔ اور یہ کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی قیادت شیوپال سنگھ یادو کرتے ہیں۔یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ ملائم سنگھ یادو اپنے بیٹے کے بجائے بھائی کا ساتھ کیوں دے رہے ہیں لیکن چند روز قبل انھوں نے ایک جلسے میں کہا تھا کہ شیوپال یادو کے جانے سے پارٹی تقسیم ہو جائے گی۔تجزیہ نگاروں کے مطابق اکھیلیش نئے اور شفاف انداز کی سیاست کرنا چاہتے ہیں اور اسی لیے انھوں نے ایک ایسی علاقائی جماعت کے سماجوادی پارٹی میں انضمام کی مخالفت کی تھی جس کے لیڈر مختار انصاری کو سنگین مقدمات کا سامنا ہے اور وہ بہت دنوں سے جیل میں ہیں۔سماجوادی پارٹی کے لیے یہ لمح? فکریہ ہے کیونکہ ریاست میں جلدی ہی اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں اور اسے سابق وزیر اعلی مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی اور بی جے پی سے سخت چیلنج کا سامنا ہے۔سماجوادی پارٹی میں جاری اس اندرونی چپقلش سے ریاست کا سیاسی منظر نامہ مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔ سماجوادی پارٹی کو روایتاً مسلمانوں اور یادو جیسی پسماندہ ذاتوں کی حمایت حاصل ہوتی ہے لیکن اگر یہ لڑائی جاری رہتی ہے یا پارٹی تقسیم ہو جاتی ہے تو یہ ووٹ بھی تقسیم ہو سکتے ہیں جس سے بی ایس پی اور بی جے پی دونوں کو فائدہ پہنچیگا۔ملائم سنگھ یادو کی بظاہر کوشش یہ ہوگی کہ فی الحال فریقین میں سمجھوتہ ہو جائے لیکن یہ ٹکٹوں کی تقسیم کا وقت ہے اور دونوں رہنماؤں کی کوشش یہ رہے گی کہ ان کے وفادار ساتھیوں کو زیادہ سے زیادہ ٹکٹ ملیں۔شیوپال سنگھ کا اگلا قدم کیا ہوگا، یہ تو ایک دو دن میں واضح ہوجائے گا لیکن وہ کچھ بھی فیصلہ کریں یہ خاندانی جنگ سماجوادی پارٹی کے لیے بہت مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -