عالمی برادری کشمیریوں کا قتل عام بند کرائے ، پاکستان

عالمی برادری کشمیریوں کا قتل عام بند کرائے ، پاکستان

  

 اسلام آباد،نیویارک،جنیوا(صباح نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک،اے این این) پاکستانی دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ میں نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھا کر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہا ہے لہذا عالمی برادری بھارتی بریریت کو روکنے کے لئے مداخلت کرے۔ ترجمان دفترخارجہ نفیس ذکریا کے مطابق پاکستانی وفد نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھارتی نمائندے کے موقف کو مسترد کردیا کیونکہ بھارتی نمائندے کا مقف تاریخی حقائق کو جھٹلاتے ہوئے انسانی حقوق کونسل کی توہین ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستانی وفد نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کونسل کے سوالات کا جواب دے کہ کیا بھارت کشمیر پر اقوام متحدہ قرادادوں کو جھٹلا سکتا ہے اور بتائے کہ بھارت کی 7 لاکھ فورسز کشمیر میں موجود ہیں یا نہیں، جس کا مطلب ہے کہ 70 کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی مسلط ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ دراندازی کے جھوٹے الزامات لگا کر 1989 سے لے کر اب تک مقبوضہ کشمیر میں قابض فوجیوں کے ہاتھوں ایک لاکھ سے زائد بے گناہ شہری شہید ہوچکے ہیں جس کے واضح ثبوت کشمیر میں اجتماعی قبریں ہیں جب کہ جعلی مقابلوں کے دستاویزی ثبوت بھی موجود ہیں۔ترجمان دفترخارجہ کے مطابق پاکستانی وفد نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں پہلے نوجوان حریت رہنما برہان وانی کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا اور اس کے بعد احتجاج کرنے والے نہتے کشمیریوں کو ان کے بنیادی حق احتجاج سے روکنے کے لیے گزشتہ 2 ماہ سے کرفیو نافذ ہے، اس دوران 100 سے زائد بے گناہ کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیا اور 10 ہزار سے زائد کشمیری تاحال زخمی حالت میں اسپتالوں میں موجود ہیں جب کہ 700 سے زائد کشمیری بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ان سب حقائق سے بھارت انکار نہیں کرسکتا، عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مظلوم کشمیریوں کی ہرممکن مدد کرے اور بھارت پر زور دے کہ کشمیری عوام کو ان کی امنگوں کے مطابق اپنی وادی میں رہنے کا حق دیا جائے۔قبل ازیں بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر قابض فوج کے مظالم ،درندگی اور بربریت چھپانے کے لئے اقوام متحدہ میں پہلی مرتبہ بلوچستان کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے پاکستان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے کا سنگین اور بے بنیاد الزام عائد کیا ہے ،جبکہ آزاد کشمیر میں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بھی بھونڈا الزام لگایا ہے۔بھارتی نجی چینل ’’زی نیوز ‘‘ کے مطابق ا قوام متحدہ ہیومن رائٹس کے 33 ویں سیشن کے دوران بھارت نے پاکستان پرالزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ پاکستان سے سپانسر دہشت گردی ہے جو اس کے عزائم سے ظاہر ہو تی ہے اور یہ بات بار بار ہونے والے حملوں سے بھی ثابت ہوتی ہے۔اقوام متحدہ میں بھارت کے سفیر اور مستقل نمائندے اجیت کمار نے کہا کہ پاکستان کا پچھلا مایوس کن ریکارڈ دنیا پر ظاہر ہے اور کئی ممالک نے بار بار پاکستان سے کہا ہے کہ وہ سرحد پار سے ہونے والے دراندازی کو روکے، دہشت گردی کے ڈھانچے کو تباہ کرے اور دہشت گردی کے سینٹر کے طور پر کام کرنا بند کرے۔اجیت کمار نے کہا کہ ایک پرامن اور جمہوری معاشرے کے طور پر ہندوستان کی ساکھ سب اچھی طرح سے جانتے ہیں جو لوگوں کے بھلے کے لئے مسلسل کام کر رہی ہے، جبکہ پاکستان کی شناخت آمریت، غیر جمہوری اور بلوچستان کے ساتھ اپنے ہی ملک میں وسیع انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ملک کی ہے۔بھارتی سفیر نے پاکستان پر سنگین ،بے بنیاد الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس نے بلوچستان اور پاکستان کے کشمیر میں اپنے شہریوں کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں گڑبڑ کی بنیادی وجہ پاکستان سپانسر ڈ دہشت گردی ہے جس نے 1989 سے علیحدگی پسند گروپوں اور دہشت گرد عناصر کی بھر پور حمایت کی ہے، ان دہشت گردوں میں وہ بھی شامل ہیں جو پاکستان کے کنٹرول والے علاقے سے آپریٹ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے ایک بار پھر اپنے عزائم کو ڈھکنے اور انسانی حقوق کے لئے تشویش کے نام پر دہشت گردی کا استعمال قومی پالیسی کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔اجیت کمار نے ایک مرتبہ پھر ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی فورم پر کہاکہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا، اور ہم پاکستان کی طرف سے ہندوستان کو نیچا دکھانے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہیں۔اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندے اجیت کمار کا مسلسل دروغ گوئی سے کام لیتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان اوروں کو تحمل برتنے کی صلاح دیتا ہے لیکن اپنے ہی لوگوں کے خلاف ایئر فورس کا استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا،اقوام متحدہ نے جنہیں دہشت گرد قرار دیا ہے پاکستان ان کو بھی مسلسل پناہ دیتا آیا اور اب بھی دے رہا ہے، اس لئے اس میں کوئی تعجب نہیں کہ پاکستان گزشتہ سال ہیومن رائٹس کمیشن کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے بین الاقوامی برادری کو قائل کرنے میں ناکام رہا، پاکستان، بھارتی ریاست جموں کشمیر سے جڑے اندرونی معاملات کے بارے میں دوہری باتیں کرنے کے لئے کمیشن کا مسلسل غلط استعمال کرتا ہے اسے بھارت مسترد کرتا ہے دریں اثناء سلامتی کونسل میں افغان مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹرملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کسی فوجی آپریشن سے ممکن نہیں،مذاکرات سے بہتر کوئی راستہ نہیں ، پاکستان افغان جنگ کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیگا، افغانستان میں امن کا راستہ مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ طاقتورعالمی افواج نے 15 سال تک افغانستان پر جنگ مسلط کئے رکھی۔افغانستان میں قیام امن کسی فوجی آپریشن سے ممکن نہیں ہے۔افغان امن کیلئے مذاکرات سے زیادہ کوئی متبادل آپشن موجود نہیں۔ عالمی برادری متفق ہے کہ افغان امن عمل مذاکرات سے ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کابل میں بعض حلقوں کی الزام تراشیوں پر پاکستان تحمل کا مظاہرہ کررہا ہے اسے کمزوری نہ سمجھا جائے ۔ افغان حکومت سے کہاہے کہ الزام تراشیاں خطے کے مفاد میں نہیں ہیں۔افغانستان میں سکیورٹی کی بگڑی ہوئی صورت حال باعث تشویش ہے۔افغانستان میں امن کا راستہ مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں۔ اب یہ افغانیوں پر منحصر ہے کہ وہ کون سا راستہ اختیارکرتے ہیں۔

پاکستان

نیویارک (کے پی آئی )اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر زید رعد الحسین نے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی حالیہ ہلاکتوں کی بین الاقوامی تحقیقات کو ضروری قراردے دیا ہے۔انھوں نے مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی رسائی کی درخواست پر بھارتی کی خاموشی پر تاسف کا بھی اظہارکرتے ہوئے کشمیر کی روز بروز بگڑتی صورتحال کے پیش نظر وہاں آزاد، منصفانہ اور بین الاقوامی مشن قائم کرنے پر زور دیا۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 33 ویں اجلاس کے افتتاحی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے انھیں نو ستمبر کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں آنے کی دعوت دی گئی جو کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دورے سے مشروط تھی۔ انھوں نے کہا کہ بھارت سے ابھی تک انھیں کوئی باضابطہ خط موصول نہیں ہوا ہے۔زید رعد الحسین نے کہا کہ ہمیں کشمیر سے پہلے اطلاعات ملی تھیں اور اب بھی موصول ہو رہی ہیں کہ انڈین حکام کی جانب سے اپنے زیر انتظام شہریوں کے خلاف قوت کا شدید استعمال کیا گیا ہے۔انھوں نے تقریر کرتے ہوئے مزید کہا کہ تصادم کے بارے میں ہمیں دونوں جانب سے باہم متضاد بیانات موصول ہوئے ہیں جس میں کثیر تعداد میں لوگوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا میرے خیال میں ایک آزاد، غیرجانبدار اور بین الاقوامی مشن کی وہاں سخت ضرورت ہے اور اسے دونوں جانب سے کیے جانے والے دعوؤں کی سچائی جاننے کے لیے آزاد اور مکمل رسائی دی جائے۔واضح رہے بھارت ایک عرصے سے کشمیر کے مسئلے پر کسی تیسری پارٹی کی ثالثی سے انکار کرتا رہا ہے۔

اقوام متحدہ

جنیوا(اے این این) پاکستان نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی جانب سے بھارتی زیر انتظام کشمیر میں، شہری آبادی کے خلاف مبینہ شدید طاقت کے استعمال سے متعلق بیان کا خیر مقدم کیا ہے، جس میں ایک آزادانہ اور غیر جانبدار بین الاقوامی مشن روانہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔یہ بیان اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان کی مستقل مندوب تہمینہ جنجوعہ نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی جانب سے دیے گئے بیان کے جواب میں جاری کیا گیا ہے۔تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے موقف کی حمایت کرتا ہے جس میں صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ایک آزادانہ، غیرجانبدار بین الاقوامی مشن بھیجنے کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا ہے، تاکہ، بقول ان کے گذشتہ دو ماہ سے بھارتی مقبوضہ افواج کی جانب سے سرزد ہونے والی سنگین خلاف ورزیوں کی خیرجاندارانہ تفتیش کی جا سکے۔بقول سفیر تہمینہ جنجوعہ، مشن کے دورے سے استثنی برتے جانے والے طور طریقے سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔تہمینہ نے کہا کہ انھوں نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں میں کشمیر کو ایک بین الاقوامی تنازع قرار دیا گیا ہے اور پاکستان اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا ہے۔انھوں نے کہا کہ تازہ ترین کشیدگی کی داخلی نوعیت کے باوجود، جس کا آغاز 22 برس کے برہان مظفر وانی کی ماورائے عدالت ہلاکت سے ہوا، جن کی میت کے جلوس میں 200000 افراد سڑکوں پر نکل آئے، بھارت اس کے مقامی ہونے کے بارے میں شکوک کا اظہار کر رہا ہے۔ پاکستان کی مستقل مندوب نے مزید کہا کہ تحمل کے بھارتی دعوے بالکل بے معنی ہیں۔بقول ان کے، یہ بات گذشتہ دو ماہ کے حقائق کی بنیاد پر مبنی ہے، جس دوران بھارتی افواج نے 100 سے زائد بے گناہ کشمیریوں کو ہلاک کیا، جب کہ 700 سے زائد زخمی ہیں، اور بیسیوں کی بینائی بالکل جاتی رہی یا انھیں بمشکل کچھ سجھائی دیتا ہے، جس کا باعث چھروں والی بندوق کا استعمال ہے، جن سے تقریبا 10000افراد کے زخم آئے۔

مزید :

صفحہ اول -