چین میں ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی سب سے مہنگی طلاق

چین میں ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی سب سے مہنگی طلاق
 چین میں ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی سب سے مہنگی طلاق

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک)چین کی سب سے مہنگی طلاق جلد ہونے والی ہے جس پر مطلقہ خاتون کو اپنے شوہر کی جانب سے ایک ارب 10 کروڑ امریکی ڈالر مالیت کے کمپنی حصص (شیئرز) حاصل ہوں گے۔چین کی آن لائن گیمنگ کمپنی ’’کنلن ٹیک‘‘ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے چیئرمین ڑاؤ یاہوئی اور ان کی بیوی لی کیونگ کے درمیان طلاق کا معاہدہ ہوگیا ہے جس کے تحت یاہوئی اپنے حصے کے 30 کروڑ کمپنی شیئرز کی ملکیت لی کیونگ کے نام منتقل کریں گے۔یاہوئی اور لی کیونگ کا شمار چین کے امیر ترین جوڑوں میں کیا جاتا ہے اور کنلن ٹیک ان دونوں کی مشترکہ ملکیت ہے۔ ڑاؤ یاہوئی کے نام پر اس وقت کمپنی کے 68 کروڑ 60 لاکھ شیئرز ہیں جب کہ طلاق کے بعد وہ ان میں سے 30 کروڑ شیئرز سے محروم ہوجائیں گے۔ اس کے باوجود ان کے پاس کمپنی کے 38 کروڑ 60 لاکھ شیئرز رہیں گے جو کمپنی شیئرز کا 34.5 فیصد بناتے ہیں یعنی طلاق کے بعد بھی کمپنی پر یاہوئی کا کنٹرول برقرار رہے گا۔اس سے پہلے چین کی مہنگی ترین طلاق 2012ء میں ہوئی تھی جب سانی گروپ کے سینیئر وائس پریزیڈنٹ یوان جنہوا اور اپنی بیوی کو طلاق کے ساتھ زرِ تلافی کی مد میں تقریباً 36 کروڑ امریکی ڈالر کے مساوی رقم ادا کی تھی۔بیجنگ کی کنلن ٹیک نے اپنے بیان میں اضافہ کیا ہے کہ اس طلاق کا کمپنی کے معمولاتِ کار پر اثر نہیں پڑے گا اور اس نے ’’ٹرمنیٹر ٹو‘‘ گیم سمیت کئی دوسری مصنوعات کے حقوق خریدنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔دنیا کی مہنگی ترین طلاق 2014 میں ہوئی تھی جب جنیوا، سوئٹزرلینڈ کی عدالت نے روسی ارب پتی تاجر دمیتری ریبولوفلیف کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنی سابقہ بیوی کو علیحدگی پر ساڑھے 4 ارب ڈالر کے مساوی رقم بطور زرِ تلافی ادا کرے۔اسی نوعیت کی ایک اور مہنگی طلاق 2008 میں ہوئی جب فارمولا ون کے چیف ایگزیکٹیو اور برطانوی تاجر برنی ایکلیسٹون نے عدالت کے حکم پر اپنی سابقہ بیوی سلاویکا کو ایک ارب 20 کروڑ ڈالر ادا کیے تھے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین میں طلاق کی شرح مسلسل بڑھتی جارہی ہے کیونکہ وہاں 2000 کے دوران 12 لاکھ طلاقیں ہوئیں، 2009 میں 25 لاکھ جب کہ 2015 میں یہ تعداد مزید بڑھ کر 38 لاکھ طلاقوں پر پہنچ گئی تھی۔

مزید :

صفحہ آخر -