ڈھاکہ کی گلیاں خونی دریا کا منظر پیش کرنے لگیں

ڈھاکہ کی گلیاں خونی دریا کا منظر پیش کرنے لگیں
ڈھاکہ کی گلیاں خونی دریا کا منظر پیش کرنے لگیں

  

ڈھاکہ(مانیٹرنگ ڈیسک)پوری دنیا میں مسلمان سنتِ ابراھیمی کی پیروی کرتے ہوئے عید الاضحیٰ پر جانور قربان کررہے ہیں لیکن ڈھاکا میں قربان شدہ جانوروں کا خون اور دیگر اجزا بارش کے پانی میں شامل ہوکر اسے سرخ رنگ دیدیا اور شہر کی گلیاں سرخ پانی کی ندیاں بن گئیں۔بارش سے ڈھاکا کے پسماندہ علاقے متاثر ہوئے جہاں قربانی کے بعد زور دار بارشیں ہوئیں اور ان سے دھلنے والا خون پانی کی رنگت کو سرخ کرگیا اور وسیع علاقے پر خون کی رنگت کا پانی پھیلتا گیا۔ اس کے بعد ڈھاکا کے اہم علاقوں سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیو جاری کیں جن میں سرخ پانی کو ایک دریا کی مانند بہتے دیکھا جاسکتا ہے اور بعض مقامات پر یہ پانی ٹخنوں تک پہنچ گیا تھا۔اعدادوشمار کے مطابق صرف ڈھاکا میں ہی ایک لاکھ سے زائد چھوٹے اور بڑے جانور قربان کیے گئے۔ ان جانوروں کا خون اور دیگر اشیا سڑک پر بڑی رہیں اور زوردار بارشوں نے ان کو دھودیا۔ اس کے بعد سرخ پانی ڈھاکا میں ہرجگہ پھیل گیا۔ شانتی نگر میں گھٹنوں تک سرخ پانی کھڑا ہوگیا اور اس سے تمام منظر خوفناک دکھائی دینے لگا۔منگل کے روز قربانی کے بعد بنگلا دیش کے کئی شہروں میں مون سون کی شدید بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ سرخ پانی ان علاقوں میں زیادہ دیکھا گیا جہاں نکاسی آب کا نظام ناقص تھا۔

مزید :

صفحہ آخر -