افغانستان کو طالبان سے زیادہ کرپشن نے نقصان پہنچایا

افغانستان کو طالبان سے زیادہ کرپشن نے نقصان پہنچایا

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) افغانستان کو اتنا نقصان طالبان یا دیگر دہشت گرد گروہوں سے نہیں پہنچا جتنا کرپشن کے ہاتھوں پہنچا ہے کیونکہ تعمیر نو اور انسداد دہشت گردی کیلئے اربوں ڈالر کی امریکی امداد کو کرپٹ حکام کھاگئے۔ یہ سنسنی خیز انکشاف ’’سگار‘‘ کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ امریکی کانگریس نے ’’افغانستان کی تعمیر نو کیلئے سپیشل انسپکٹر جنرل‘‘ یا ’’سگار‘‘ کے نام سے ایک واچ ڈاگ تشکیل دیا تھا جس کے سربراہ جان سوپکو ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرپشن کے باعث افغان عوام کا حکومت پر سے اعتماد اٹھ گیا جس کے بعد کچھ لوگوں نے طالبان کی حمایت بھی شروع کردی اور اس طرح شورش میں مزید اضافہ ہوا۔ سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے افغانستان کی تعمیر نو کیلئے جو امیدیں وابستہ کی تھیں اور اس قوم کو جنگ کے اثرات سے بچانے کیلئے امریکی ٹیکس گزاروں نے جو ڈالر خرچ کئے وہ کرپٹ حکام کے ہاتھوں لگے جن کے ذریعے وہ سرمایہ جرائم پیشہ افراد، منشیات کے سمگلروں اور حتیٰ کہ دہشت گردوں تک جاپہنچا۔ رپورٹ کے مطابق کرپشن کے خطرات کو جانچنے کیلئے نسبتاً بہتر کام کیا لیکن سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے تحت وزارت خارجہ بھی امریکی سفارت خانے کی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کو منظور کرنے میں ناکام رہی۔ سپیشل انسپکٹر جنرل سوپکو نے یہاں ایک تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے آج اس رپورٹ کی خاص خاص باتیں بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تجزیہ صرف افغانستان تک محدود نہیں ہے بلکہ جہاں جہاں بھی امریکہ نے کسی جدوجہد کرنے والے ملک کیلئے امداد فراہم کی ہے وہاں اس امداد کے ساتھ یہی حشر ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ کو افغانستان یا دوسرے ملکوں میں فوجی آپریشن کیلئے یا ہیٹی کے زلزلہ زدگان جیسے انسانی ہمدردی کے معاملات میں امداد فراہم کرنی ہے تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ یہ امدادی رقم کہیں کرپشن کی نذر تو نہیں ہو رہی۔ انسپکٹر جنرل نے اپنے خطاب میں بتایا کہ 2001ء میں امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ طالبان کو حکومت سے نکالا کیونکہ وہ نائن الیون سانحے کے ذمہ دار القاعدہ اور اس کے سربراہ اسامہ بن لادن کو تحفظ فراہم کرنے سے پیچھے نہیں ہٹ رہے تھے۔ اس وقت سے امدادی رقم میں خوردبرد کا آغاز ہوگیا تھا۔ امریکہ خود ذمہ دار ہے کہ اس نے افغانستان میں امداد فراہم کرتے وقت یہ نہیں دیکھا کہ کون لوگ یہ رقم وصول کر رہے ہیں۔ 2012ء میں امریکی وزارت دفاع نے افغانستان کو انیس ارب ڈالر دیئے جو اس کی ’’جی ڈی پی‘‘ کی مالیت یعنی ساڑھے بیس ارب ڈالر سے کچھ ہی کم تھی۔ 2009ء اور 2010ء میں جب امریکی حکام نے کرپشن کے جائزے پر زیادہ توجہ دینی شروع کی تو پتہ چلا یہ افغان حکومت کی اعلیٰ سطح پر سرایت کرچکی ہے۔ امریکہ نے طالبان کو گرانے کے بعد حامد کرزئی کو صدر بننے میں مدد دی لیکن وہی سب سے بڑی رکاوٹ کا باعث بنا۔ امریکی حکام نے ایک مقدمہ تیار کیا جس کی بناء پر افغان حکام کو ضیاء صالحی نامی شخص کو گرفتار کرنا پڑا جس پر الزام تھا کہ اس نے دو ارب 7.8 کروڑ ڈالر کی رقم 2007ء سے 2010ء کے دوران ملک سے باہر سمگل کی تھی جس میں افغان حکام، منشیات کے سمگلر اور دہشت گرد حصہ دار تھے۔ جونہی اس شخص کو گرفتار کیا گیا اس وقت کے صدر حامد کرزئی نے چند گھنٹوں بعد اس کی رہائی کا حکم دے دیا۔ انسپکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ صدر اشرف غنی کی حکومت کی پالیسی بہتر ہے جس نے ان کی ٹیم کو مکمل تعاون فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -