بھارتی وزیر اعظم اور افغان صدر کی ملاقات ،مختلف شعبوں میں تعاون پر اتفاق

بھارتی وزیر اعظم اور افغان صدر کی ملاقات ،مختلف شعبوں میں تعاون پر اتفاق

  

نئی دہلی (اے این این) بھارت اورافغانستان نے پاکستان کانام لئے بغیرالزام عائدکیاہے کہ خطے کے امن و استحکام کو سب سے بڑا خطرہ ان سے ہے جو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے دہشت گردی کی پشت پناہی کرتے ہیں جبکہ دونوں ممالک نے سلامتی اور دفاع کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پراتفاق کیاہے۔بھارتی وزیراعظم نریندمودی سے افغان صدراشرف غنی نے نئی دہلی میں ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات اوردہشت گردی سمیت دیگرمعاملات پرتبادلہ خیال کیاگیاجبکہ دونو ں رہنماؤں نے پاکستان پرالزام تراشی کاموقع بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ملاقات کے بعدجاری کئے گئے 12نکاتی مشترکہ اعلامیے میں کہاگیاکہ آج دنیا کے سامنے سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی اور انتہاء پسندی کا خطرہ ہے جس کا مل کر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے دہشت گردی خطے میں پائیدار امن کے قیام اور ترقی و پیشرفت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی جارہی ہے لہذا اس لعنت کو جڑے سے اکھاڑ پھینکنا ضروری ہے ۔ اعلامیے میں پاکستان کانام لئے بغیرالزام عائدکیاگیاکہ خطے میں امن و استحکام کو سب سے بڑا خطرہ ان سے ہے جو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے دہشت گردی کی پشت پناہی کرتے ہیں دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جانی چاہیے کیونکہ دہشت گردی سے خطے میں امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔ انھوں نے کہا کہ تمام تشویش رکھنے والے بشمول بھارت اور افغانستان کو نشانہ بنانے والے دہشت گردی کی سپانسر شپ، تعاون، محفوظ مقامات اور پناہ گاہیں فراہم کرنا بند کریں۔اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک باہمی سیکورٹی اور دفاع کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیں گے ۔ اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان ہر سطح پر مسلسل قریبی مشاورت پر مسرت کا اظہار کیا جس کے سبب دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹیجک شراکت اور مختلف جہتی تعاون کو فروغ ملا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے متحد، خود مختار، جمہوری، پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کیلئے اپنے تعاون کا اعادہ کیا اور مختلف قسم کے پروگرامز کیلئے ایک ارب ڈالر مختص کرنے کی بات کہی۔ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت اور افغانستان کے وزیر خارجہ کی سربراہی میں جلد سٹرٹیجک پارٹنرشپ کونسل کا اجلاس ہوگا جس میں چار جوائنٹ ورکنگ گروپ کی تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ گروپس دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے سلسلے میں کام کر رہے ہیں۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ملزمان کی حوالگی کے معاہدے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی کے دورہ بھارت کے دوران دونوں ملکوں نے مختلف شعبوں میں تعاون کے کئی معاہدے پر ستخط کئے ۔افغان صدر نے بھارتی صدر پرنب مکھرجی سے بھی ملاقات کی ۔بھارت کی جانب سے افغانستان میں صحت عامہ ، تعلیم اور دیگر رفاہی شعبوں کے لئے ایک ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اس سے قبل صدر اشرف غنی دو روزہ دورے پر جب نئی د ہلی پہنچے تو وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کا استقبال کیا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے افغان صدرکے دورے کو بھارت اور افغانستان کے درمیان گہری ہوتی ہوئی دوستی سے تعبیر کیا اور دونوں کی تصاویر بھی پوسٹ کیں۔

بھارتی وزیراعظم

مزید :

کراچی صفحہ اول -