حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد کا خواب وقت سے پہلے ہی پریشان ہو گیا

حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد کا خواب وقت سے پہلے ہی پریشان ہو گیا

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری:

تحریک انصاف نے یہ تو طے کرلیا ہے کہ رائیونڈ میں جلسہ ضرور ہوگا اور محرم سے پہلے ہوگا تاہم ابھی تک تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ یکم محرم الحرام 3 یا 4 اکتوبر کو ہوسکتی ہے اس لئے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جلسہ یا تو ستمبر کے آخر میں ہوگا یا پھر اکتوبر کے پہلے ایک دو دنوں میں، اس سے آگے جانا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ محرم الحرام کی آمد کے پیش نظر حفاظتی انتظامات بھی شروع ہو جاتے ہیں۔ پولیس اور دوسرے ادارے انتظامات کے حوالے سے میٹنگیں شروع کردیتے ہیں۔ اگرچہ جلسے کی تاریخ تو حتمی نہیں تاہم یہ بات پوری طرح سامنے آچکی ہے کہ اس جلسے کو جلسہ کہا جائے یا مارچ کا نام دیا جائے، یہ تنہا تحریک انصاف کا اپنا شو ہوگا۔ یہ کامیاب ہوتا ہے یا ناکام کہلاتا ہے، اسکا عیب و ثواب تحریک انصاف کے کھاتے ہی میں لکھا جائے گا کیونکہ اس سفر میں کوئی دوسری جماعت تحریک انصاف کے ساتھ شامل نہیں۔ خیبر پختونخوا کی حکومت میں شریک دو حلیف جماعتیں جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی بھی تحریک انصاف کے اس شو سے علیحدہ رہنے کا اعلان کرچکی ہیں۔ تحریک انصاف کے ایک ہمدرد سے اس تجزیہ نگار نے پوچھا تو ان کا جواب تھا کہ یہ کئی لحاظ سے اچھا ہی ہوا ہے کہ کوئی جماعت اس شو میں شریک نہیں ہوگی کیونکہ کامیابی کی صورت میں یہ کریڈٹ کلیم کرلیتیں اور ناکامی کی صورت میں سارا ملبہ تحریک انصاف کو اٹھانا پڑتا۔ اب کریڈٹ یا ڈس کریڈٹ جو بھی ہوگا تحریک انصاف کا اپنا ہوگا۔ اس ہمدرد کا یہ بھی خیال تھا کہ تحریک انصاف کسی کے تعاون کی محتاج بھی نہیں اور اپنے بل بوتے پر ایک کامیاب شو کسی بھی وقت کسی بھی شہر میں کرکے دکھا سکتی ہے جیسا کہ حال ہی میں لاہور اور کراچی میں دکھایا۔ جن جماعتوں نے خاص طور پر اعلان کیا ہے کہ رائیونڈ کے جلسے یا مارچ میں شریک نہیں ہوں گی ان میں تازہ ترین اعلان جماعت اسلامی کا ہے۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ وہ نہ تو جلسے میں شریک ہوگی اور نہ ہی ٹوکن نمائندگی کیلئے اپنا وفد بھیجے گی۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ یہ تحریک انصاف کا اپنا فیصلہ ہے، اس بارے میں ہم سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ اس سے پہلے تحریک انصاف کی حلیف جماعت قومی وطن پارٹی بھی یہ اعلان کرچکی ہے کہ وہ رائیونڈ مارچ میں شریک نہیں ہوگی۔ جہاں تک پاکستان عوامی تحریک کا تعلق ہے وہ کسی بھی مروجہ مفہوم میں تحریک انصاف کی حلیف نہیں، دونوں کے درمیان 2014ء میں ایک وقتی اتحاد ضرور سامنے آیا تھا اور ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنے ایک خطاب میں پاکستان عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے کارکنوں کو ’’سیاسی کزن‘‘ بھی قرار دیا تھا لیکن انہوں نے عمران خان سے مشورے کے بغیر اپنا دھرنا بہت پہلے اٹھا دیا۔ اس کے بعد سے دونوں کے درمیان رابطہ نہیں ہوا البتہ ایک بات دیکھنے میں آئی کہ دونوں نے بھارت کا دورہ ضرور کیا۔ عمران خان کرکٹ دیکھنے بھارت گئے تو ڈاکٹر طاہرالقادری صوفی کانفرنس میں شرکت کیلئے، معلوم نہیں یہ محض اتفاق تھا یا کوئی طے شدہ پروگرام تھا۔ لاہور کی ریلی کے انتظامات کے وقت خیال تھا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری لاہور کی ریلی میں شریک ہوں گے لیکن وہ راولپنڈی چلے گئے اور وہاں انہوں نے اپنی الگ ریلی نکالی حالانکہ اگر اتحاد کا مظاہرہ مقصود ہوتا تو یہ بھی ہوسکتا تھا کہ دونوں ریلیوں کے ایام الگ الگ رکھ لئے جاتے اور ڈاکٹر طاہرالقادری لاہور کی ریلی میں شریک ہو جاتے اور جواب میں عمران خان راولپنڈی کی ریلی میں چلے جاتے لیکن دونوں ایک دوسرے سے فاصلے پر رہے۔ اب طاہر القادری کے اس اعلان نے کہ وہ رائیونڈ جلسے میں شریک نہیں ہوں گے بہت سے ان لوگوں کو مایوس تو کیا ہوگا جن کا خیال تھا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری تحریک انصاف کے جلسے میں شرکت کیلئے رائیونڈ کا رخ کریں گے۔ وہ اس مفہوم کے اعلانات بھی کرتے رہے اب موقع آیا تو پیچھے ہٹ گئے یہ ناداں گرگئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا۔ اب تو ڈاکٹر طاہرالقادری یورپی یونین میں اپنا مقدمہ دائر کرنے کیلئے چلے گئے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے تک چودھری اعتزاز احسن بڑے پرامید تھے کہ بلاول بھٹو زرداری اور عمران خان ایک ہی کنٹینر پر نظر آئیں گے، لیکن وہ دو الگ الگ کنٹینروں پر بھی نظر نہیں آئے بلکہ بلاول بھٹو زرداری تو اس دوران لاہور ہی نہیں آئے۔ اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی جو کوششیں تھوڑا عرصہ پہلے نظر آ رہی تھیں اب تو وہ بھی دم توڑتی دکھائی دیتی ہیں۔ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ سے حال ہی میں شیخ رشید احمد نے بعض گلے شکوے کئے تو خورشید شاہ نے بھی لطیف پیرائے میں ان ایام کا ذکر چھیڑ دیا جب قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے انتخاب کا مرحلہ درپیش تھا، ان دنوں شیخ رشید احمد کی خواہش تھی کہ عمران خان کو قائد حزب اختلاف بنایا جائے لیکن نمبر گیم ان کے حق میں نہیں تھی ایک تو اپوزیشن جماعتوں میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت تھی اور دوسرے ایم کیو ایم بھی عمران خان کو سپورٹ نہیں کر رہی تھی۔ قائد حزب اختلاف تو وہی بن سکتا تھا جسے اپوزیشن جماعتوں کے زیادہ ارکان کی حمایت حاصل ہوتی جو خورشید شاہ کو حاصل تھی، اس لئے شیخ رشید کی کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں۔ اب بھی شیخ صاحب حزب اختلاف کی جماعتوں کو متحد کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے نتیجے کے طور پر رائیونڈ کے جلسے میں تحریک انصاف ہوگی یا شیخ رشید احمد، باقی حزب اختلاف ساحل سے تماشا دیکھ رہی ہوگی۔ تحریک انصاف کی اس تنہا پرواز کا نقصان یہ ہوا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے متحد ہونے کی جو امید پیدا ہوئی تھی وہ بھی دم توڑ گئی ہے لیکن اتنا تو ضرور ہوا ہے کہ عمران خان اٹل ارادے کے ساتھ سامنے آئے ہیں اور عملاً ثابت کر رہے ہیں کہ کوئی ان کے ساتھ چلے نہ چلے، وہ جس راستے کا انتخاب کرلیتے ہیں اس پر چلتے رہتے ہیں، جہاں تک نتیجے کا تعلق ہے اس کی چنداں اہمیت نہیں۔ اس ملک میں ایسے لوگ بھی تو ہیں جو کھل کر نعرہ لگاتے ہیں کہ منزل نہیں رہنما چاہئے؟ اگر تحریک انصاف کے کارکن عملاً اس راستے پر چل نکلیں تو کیا برائی ہے؟

مزید :

ملتان صفحہ اول -