”میری گاڑی کو فوج کی گاڑی نے ٹکر ماری اور پھر۔۔۔“ موٹروے پولیس واقعے کے بعد عام شہری بھی منظرعام پر آ گیا، ایسا واقعہ سنا دیا کہ ہر پاکستانی دنگ رہ گیا

”میری گاڑی کو فوج کی گاڑی نے ٹکر ماری اور پھر۔۔۔“ موٹروے پولیس واقعے کے بعد ...
”میری گاڑی کو فوج کی گاڑی نے ٹکر ماری اور پھر۔۔۔“ موٹروے پولیس واقعے کے بعد عام شہری بھی منظرعام پر آ گیا، ایسا واقعہ سنا دیا کہ ہر پاکستانی دنگ رہ گیا

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فوج کے جوانوں کی جانب سے موٹروے پولیس اہلکار پر تشدد کے واقعے کے بعد جہاں بہت سے لوگ پاک فوج کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں وہیں ایک عام شہری بھی میدان میں آ گیا ہے جس نے ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے پاک فوج پر تنقید کرنے والے افراد کی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی ہے۔

وفاقی دارالحکومت کے رہائشی مہروز گل درانی نے اپنے فیس بک اکاﺅنٹ پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے جس میں اس نے آپ بیتی سنائی اور بتایا کہ کس طرح پاک فوج کی ایک گاڑی نے اس کی گاڑی کو ٹکر ماری اور بعد ازاں کیسے معاملات حل ہوئے؟ مہروز گل درانی کیساتھ کیا ہوا آپ کو بھی بتاتے ہیں۔ مہروز گل نے لکھا ہے کہ ”میں اسلام آباد کا رہائشی اور کاروباری شخصیت ہوں اور ایک انجینئرنگ کمپنی چلاتا ہوں۔ میں اپنے کام سے کام رکھنے والا شخص ہوں لیکن گزشتہ چند دنوں سے میں پاک فوج کے جوانوں اور موٹروے پولیس اہلکار کے درمیان جھگڑے سے متعلق بہت سی پوسٹس دیکھ رہا ہوں جس کے بعد میں نے اس معاملے میں اپنا موقف بیان کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے۔

موٹروے پولیس اہلکار پر تشدد کے معاملے کی تحقیقات جاری، انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں گے: آئی ایس پی آر

تقریباً 4 مہینے قبل میں راولپنڈی کے جناح پارک کے علاقے میں گاڑی چلا رہا تھا۔ یہ شام 4 بجے کا وقت تھا جب اچانک پاک فوج کی گاڑی 6FF سفید ٹیوٹا ہائی لکس نے میری گاڑی کے دائیں جانب ٹکر ماردی۔ میں نے بریک لگائی اور دنگ رہ گیا کہ ڈرائیور نے مجھے آتے دیکھا ہی نہیں تھا کیونکہ اس نے دیکھے بغیر ہی موڑ کاٹا تھا اور یہ سراسر اس کی ہی غلطی تھی۔ میں جلدی سے گاڑی سے باہر آیا اور ہائی لکس کی جانب بڑھا۔ اسی دوران ڈرائیور کے ساتھ والی نشست پر بیٹھا شخص باہر آیا اور میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی اس نے معذرت کرتے ہوئے ڈرائیور کی غلطی تسلیم کر لی۔ اس کے روئیے سے مجھے اطمینان ہوا کہ کم از کم وہ اپنی غلطی تو تسلیم کر رہا ہے اوراس وجہ سے میں اپنا نقصان بھی پورا کر سکتا ہوں۔

اس کے باوجود بھی مجھے ڈرائیور پر بہت غصہ تھا اور فطری طور پر اسے تھوڑا بہت جھڑک بھی دیا۔ ڈرائیور نے ایک لفظ بھی نہ بولا اور سرجھکائے کھڑا رہا۔ اسی دوران دوسرے شخص نے پاک فوج کے پیٹرولنگ یونٹ کو اطلاع کر دی کہ وہ آئیں اور معاملے کو سلجھائیں، مجھے بھی بتا دیا کہ کیپٹن کچھ دیر میں آ رہے ہیں۔ میں نے بھی اپنے والد کے ایک دوست، جو ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل ہیں، کو فون کیا اور مشورہ مانگا۔ انہوں نے مجھ سے اپنی اور پاک فوج کی گاڑی کی تصاویر لینے اور رجسٹریشن نمبر نوٹ کرنے کا کہا۔ انہوں نے انتہائی پراعتماد انداز میں کہا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ معاملہ حل ہو جائے گا۔ کچھ ہی دیر بعد آرمی کی پیٹرولنگ گاڑی پہنچ گئی اور ایک نوجوان کیپٹن باہر اتر کر میرے پاس آیا اور اپنی بات کچھ اس طرح سے شروع کی ”میں حادثے کے بارے میں معذرت خواہ ہوں۔ مجھے پتہ لگا ہے کہ ہمارے ڈرائیور کی غلطی ہے۔“ یہ لمحہ بھی میرے لئے بہت زیادہ باعث اطمینان تھا۔

موٹروے پولیس کی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کیخلاف درج کی گئی ایف آئی آر سیل کرکے کارروائی روک دی گئی

کیپٹن کو حادثے کی جگہ پر لوگوں کے اکٹھے ہو جانے سے پریشانی تھی جس پر انہوں نے مجھے اپنے ساتھ چلنے کی درخواست کی تاکہ معاملہ حل ہو سکے۔ میں نے رضامندی ظاہر کی اور ان کی سفید لکس کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ وہ اپنے علاقے میں لے جانے کے بعد مجھ پر کسی قسم کا دباﺅ ڈالیں گے اور اگر وہ نقصان بھرنے کو تیار نہ ہوئے تو میں کیا کروں گا اور اگر ایسا ہو گیا تو میں کچھ بھی نہ کر سکوں گا۔ آخر کار ہم ایک کھلی جگہ پر پہنچ گئے جہاں مزید تین کیپٹن آ گئے اور حادثے کے بارے میں جاننے کے بعد انہوں نے بھی اپنے ڈرائیور کی جانب سے معذرت کی۔ ہم سب نے بہت ہی دوستانہ ماحول میں بات چیت کا آغاز کر دیا۔ ایمانداری سے بتاتا ہوں کہ میری گاڑی کو پہنچنے والے نقصان پر ان کا دکھ اور دوستانہ رویہ ایسا اچھا تھا کہ میں کچھ دیر کیلئے تو اپنا نقصان بھول ہی گیا۔

فوجی جوانوں کے ہاتھوں موٹروے پولیس اہلکاروں کی ٹھکائی ، لڑائی میں شریک فوجیوں کا موقف بھی سامنے آگیا

بات چیت کرنے والے آفیشلز نے مجھے مشورہ دیا کہ میں یہ معاملہ اوپری سطح پر نہ لے کر جاﺅں کیونکہ اس طرح معاملہ حل ہونے میں بہت وقت ضائع ہو جائے گا۔ وہ ذاتی طور پر میرا نقصان پورا کرنے کیلئے تیار تھے۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ وہ یہ سب ایڈجسٹ کیسے کریں گے تو انہوں نے بتایا کہ یہ تمام رقم ڈرائیور کی تنخواہ سے کاٹی جائے گی۔ یہ سب کچھ سننے کے بعد میں پرسکون اور مطمئن ہو گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر ڈرائیور آسانی سے یہ سب برداشت کر سکتا ہے تو ٹھیک ورنہ میں پیسے نہیں لوں گا جس پر انہوں نے نقصان کے تخمینے کی آدھی رقم لینے پر اصرار کیا اور آخر کار میں نے بھی رضامندی ظاہر کرتے ہوئے 7 ہزار روپے وصول کر لئے۔ کپتان نے میرے ساتھ موبائل نمبرز کا بھی تبادلہ کیا تاکہ اگر گاڑی کے نقصان پر اٹھنے والے خرچ کا تخمینہ صحیح طرح سے نہ لگ سکا ہو تو میں اسے آگاہ کر سکوں۔

اس کے بعد میں بغیر کسی غصہ اور پریشانی کے گھر کی جانب روانہ ہو گیا۔ مجھے ڈرائیور کی کم تنخواہ کا بار بار خیال آ رہا تھا جس پر میں نے گھر پہنچتے ہی کیپٹن کو فون کیا اوراسے بتایا کہ میں وصول کئے گئے پیسے کل صبح واپس کر دوں گا۔ کیپٹن نے مجھے بتایا کہ ان کے یونٹ انچارج کو حادثے سے متعلق بتا دیا گیا تھا اور وہ اس بات سے متاثر تھے کہ آپ نے نقصان کے باوجود سڑک پر تماشا کھڑا کرنے کے بجائے مکمل تعاون کیا۔ کیپٹن نے مزید بتایا کہ یونٹ انچارج خود یہ رقم اپنی جیب سے ادا کریں گے اس لئے آپ کو ڈرائیور سے متعلق فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔ آخر میں انہوں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہ حادثہ پاک فوج کی بدنامی کا باعث نہیں بنے گا۔ میں نے کہا کہ بالکل بھی نہیں، بلکہ میں آپ کے تعاون سے بہت متاثر ہوں اور پاک فوج کیلئے میرے دل میں عزت اوربھی بڑھ گئی ہے۔

اس تمام تر معاملے میں ایک بار بھی میں نے خود کو ”Bloody Civilian“ محسوس نہیں کیا۔ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ چند لوگوں کی غلطی پر پورے ادارے کے بارے میں ہی خیالات بنا لینا ہماری عادت بن چکی ہے۔ ہم ججوں کی طرح برتاﺅ کرتے ہیں اور کرپٹ، کافر، واجب القتل جیسے تندو تیز فتویٰ بھی دیتے ہیں۔ میں لوگوں کی کمزور یادداشت اور عقل پر بہت زیادہ حیران ہوں جو ” غضب عضب“ جیسے الفاظ استعمال کر رہے ہیں اور یہ سب اس مقصد کیلئے ذلت کا باعث ہے جس کے لئے ہم سب لڑ رہے ہیں۔ ہم سب حالت جنگ میں ہیں۔ ہم پاک فوج اور موٹروے پولیس، دونوں اداروں کی قربانیوں کو ہی نہیں بھلا سکتے۔ اگر ہمارے فوجی بارڈرز پر کھڑے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں تو ہماری موٹروے پولیس نے بھی خودکش بمباروں کو روکنے کیلئے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ ادارے مختلف ہو سکتے ہیں لیکن مقصد ایک ہی ہے اور وہ ہے ”ملک کی خدمت۔“ اور وہ یہ مقصد ہم سب سے کہیں زیادہ بہتر انداز میں پورا کر رہے ہیں۔ موٹروے پولیس اور پاک فوج کے جوانوں کے درمیان کچھ بھی ہوا ہو، میں امید کرتا ہوں کہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ بغیر تحقیق کے گھمنڈی اور عجیب سی بحث دیکھنا بہت خوفناک ہے۔ دونوں ادارے برابری کی سطح پر ہی عزت کے قابل ہیں۔ ہمیں ان اداروں پر الزامات لگانا بند کرنا چاہئے اور ہمیں ان حالات کے بارے میں سوچنا چاہئے کہ جن سے ہم بحیثیت قوم دوچار ہیں۔ تو خود کو تقسیم مت کریں! اللہ ہم سب کی حفاظت کرے۔ پاکستان زندہ باد!

مزید :

ڈیلی بائیٹس -