’میں نے اس کا ریپ اس لئے کیا کہ وہ میری فیس بک فرینڈ تھی اور۔۔۔‘ عدالت میں ملزم نے ایسا بیان دے دیا کہ جج چکرا گیا

’میں نے اس کا ریپ اس لئے کیا کہ وہ میری فیس بک فرینڈ تھی اور۔۔۔‘ عدالت میں ...
’میں نے اس کا ریپ اس لئے کیا کہ وہ میری فیس بک فرینڈ تھی اور۔۔۔‘ عدالت میں ملزم نے ایسا بیان دے دیا کہ جج چکرا گیا

  

سڈنی (نیوز ڈیسک) آسٹریلیا میں ایک جواں سال خاتون کی عزت پر حملہ کرنے والے نیپالی نژاد باشندے کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے اپنے شرمناک فعل کی ایسی وجہ بیان کردی کہ عدالت میں موجود ہر شخص حیرت زدہ رہ گیا۔

ویب سائٹ WWWNکی رپورٹ کے مطابق انجان سرشتہ نامی ملزم پر الزام تھا کہ اس نے ایک نوجوان خاتون کا تعاقب کیا اور اسے تنہا پاکر اس کی عزت پر حملہ کیا تھا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاتون اپنی سہیلیوں کے ساتھ رات گئے ایک ریسٹورنٹ سے نکلی تو ملزم نے اس کا تعاقب شروع کردیا۔ جب دیگر خواتین ایک گھر میں داخل ہوگئیں تو ملزم نے تنہا رہ جانے والی خاتون پر حملہ کردیا۔ وہ اسے زمین پر گرانے کے بعد اپنی ہوس کا نشانہ بناتا رہا اور بعد ازاں موقع واردات سے فرار ہو گیا۔ متاثرہ خاتون نے واقعے کے فوری بعد پولیس کو اطلاع کی، جس کے بعد جلدہی ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔

’میں سمجھا وہ اس لئے رورہی ہے کہ۔۔۔‘ نوجوان لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے نے کمرئہ عدالت میں ایسی شرمناک ترین بات کہہ دی کہ جج کا منہ بھی کھلا کا کھلا رہ گیا

جب ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے ایسی عجیب و غریب کہانی سنائی کہ بیچارہ جج بھی سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ ملزم کا کہنا تھا کہ اس نے خاتون کو ریسٹورنٹ سے نکلتے دیکھا تو پہچان لیا کہ وہ اس کی فیس بک فرینڈ تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ خاتون بھی اس کی جانب بڑھی اور کہنے لگی کہ وہ اسے پہچانتی ہے، اور پھر خاتون نے اس کے گلے پر بوسہ دیا اور خود ہی اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لباس میں داخل کرلیا، جس کے بعد ان کے درمیان دیگر معاملات پیش آئے، اور پھر خاتون نے خود ہی شور مچادیا اور پولیس کو بلالیا۔

جج نے ملزم کے اس بیان پر شدید حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعی بہت عجیب بات ہے کہ ایک نوجوان لڑکی نے رات کے دو بجے ایک شخص کو اپنے فیس بک فرینڈ کے طور پر پہچانا اور پھر اس کے پاس جاکر خود کو اس اجنبی کی تفریح کے لئے بھی پیش کردیا۔ عدالت نے دستیاب شواہد اور بیانات کی روشنی میں ملزم انجان سرشتہ کو خاتون کی عزت پر حملہ کرنے کا مجرم قرار دیا اور اسے چھ سال کے لئے جیل بھیج دیا۔ عدالت کی جانب سے اسے آٹھ سال تک جنسی مجرموں کے رجسٹر میں دستخط کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -