’یہ میرے پاس ایک ہی کاپی ہے۔۔۔‘ نوجوان لڑکی نے گن پوائنٹ پر بھی اپنا بیگ دینے سے انکار کردیا، ڈاکوﺅں سے لڑ پڑی، اس میں آخر ایسی کیا چیز تھی؟ جان کر آپ بھی جذبے کی داد دیں گے

’یہ میرے پاس ایک ہی کاپی ہے۔۔۔‘ نوجوان لڑکی نے گن پوائنٹ پر بھی اپنا بیگ ...
’یہ میرے پاس ایک ہی کاپی ہے۔۔۔‘ نوجوان لڑکی نے گن پوائنٹ پر بھی اپنا بیگ دینے سے انکار کردیا، ڈاکوﺅں سے لڑ پڑی، اس میں آخر ایسی کیا چیز تھی؟ جان کر آپ بھی جذبے کی داد دیں گے

  

جوہانسبرگ(نیوز ڈیسک) جب کوئی مسلح ڈاکو کسی کی کنپٹی پر پستول رکھ کر سب کچھ حوالے کرنے کو کہہ رہا ہو تو کون ہمت کرے گا کہ مزاحمت کرے، لیکن جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی اس نوجوان لڑکی نے کمال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ خطرناک کام کر کے ہر کسی کو حیران کر دیا ہے ۔

دی مرر کی رپورٹ کے مطابق 26 سالہ طالبہ نوکسولی نٹوسی پر سڑک کنارے دو غنڈوں نے حملہ کر دیا اور ان سے ہینڈ بیگ چھیننے کی کوشش کرنے لگے۔حملہ آوروں میں سے ایک نے ان کے سر پر پستول رکھا ہوا تھا اور انہیں گولی مارنے کی دھمکی دے رہا تھا جبکہ دوسرا ہینڈ بیگ چھیننے کی کوشش کر رہا تھا، مگر باہمت طالبہ نے اپنا بیگ چھورنے سے انکار کر دیا۔ حملہ آور انہیں سڑک پر گھسیٹتے رہے اور حتٰی کہ ایک ان کے اوپر چڑھ کر کھڑا ہو گیا، لیکن طالبہ نے پھر بھی اپنا بیگ نہ چھوڑا۔

ایک نمائش کے دوران اس روبوٹ نے اچانک روسی صدر پیوٹن کا راستہ روک کر کیا بات کہہ دی؟ سن کر صدر پیوٹن کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ گیا، اب وہ وقت آگیا کہ روبوٹ بھی۔۔۔

آخر اس بیگ میں ایسی کیا قیمتی چیز تھی کہ نوکسولی نے اپنی جان کی پرواہ بھی نہ کی اور بیگ غنڈوں کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا، ”اس بیگ میں ایک ہارڈ ڈرائیو تھی جس پر میرا ماسٹرز کا تھیسس تھا۔ میں اپنا کام تقریباً مکمل کر چکی ہوں اور میری ڈگری بس ختم ہونے کو ہے۔ میں ہر قیمت پر اسے مکمل کرنا چاہتی ہوں اور کسی بھی قیمت پر اپنا تھیسس ڈاکوﺅں کے حوالے نہیں کر سکتی تھی کیونکہ میرے پاس اس کی ایک ہی کاپی تھی۔“

نوکسولی جنوبی افریقہ کے ممتاز تحقیقاتی ادارے نیشنل ہیلتھ لیبارٹری سروس کے شعبہ مالیکیولر زوالوجی کی طالبہ ہیں۔ ان کا تحقیقاتی کام تقریباً مکمل ہو چکاہے جس کے بعد انہیں ڈگری سے نواز دیا جائے گا۔ انہوں نے جان خطرے میں ڈال کر اپنے تھیسس کی حفاظت تو کر لی البتہ ان کا یہ ضرور کہنا تھا کہ ”یہ ایک خطرناک کام تھا۔ میرا تھیسس میرے دماغ پر چھایا ہوا تھا، ورنہ شاید میں جان کو خطرے میں ڈالنے والا یہ کام کبھی نہ کرتی۔“

ویڈیو دیکھیں:

مزید :

ڈیلی بائیٹس -