این اے120کا انتخابی معرکہ

این اے120کا انتخابی معرکہ
 این اے120کا انتخابی معرکہ

  

پارلیمانی نظام کے حامل کسی بھی ملک میں ضمنی انتخابات کوئی غیر معمولی بات نہیں ہوتی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ بھی ضمنی انتخابات سے بھری ہوئی ہے۔ ضمنی انتخابات کی نشستوں کے نتائج سے نہ تو حکومتوں کا تختہ الٹتا ہے اور نہ ہی کسی ضمنی انتخاب سے اپوزیشن، حکومت میں آنے کے قابل ہوجاتی ہے۔NA120کے ضمنی انتخابات میں بھی مسلم لیگ(ن) یا پی ٹی آئی میں سے کسی کی بھی جیت سے کوئی جوہری تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔

اس کے باوجود پی ٹی آئی اور مسلم لیگ(ن) کی جانب سے ضمنی انتخابات کو اپنی انا کے لئے جنگی بنیادوں پر لڑا جارہا ہے۔ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کا یہ دعویٰ کہ انتخابات سے واضح ہوجائے گا کہ عوام نے نواز شریف کی نااہلی کے عدالتی فیصلے کی توثیق کر دی ہے اور اس کے برعکس مسلم لیگ(ن) کا دعویٰ رہا کہ NA120کے انتخابات میں مسلم لیگ(ن) کی کامیابی سے ثابت ہو جائے گا کہ عوام نے نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا، اگر منطق کی رو سے دیکھا جائے تو دونوں ہی سیاسی جماعتوں کا استدلال غیر منطقی ہے، کیونکہ ضمنی انتخابات خاص طور پر کسی ایک حلقے کے انتخابات مکمل طور پر پوری قومی سیاست کا پر تو نہیں ہوتے۔

ہرحلقے کی اپنی مخصوص سیاسی حرکیات ہوتی ہیں۔1998ء کی مردم شماری کے بعد ہونے والی نئی حلقہ بندیوں کے بعد یہ حلقہ سابق این اے 95اور 96 کے علاقوں کو جوڑ کر بنایا گیا۔ این اے 120کے حلقے کا زیادہ علاقہ ماضی کے این اے 95کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ 1988ء سے 1997 ء تک این اے 95 سے نواز شریف کامیاب ہوتے رہے۔ این اے96 میں1988ء میں پیپلز پارٹی کے جہانگیر بدر، جبکہ اس کے بعد اس حلقے سے شہباز شریف کامیاب ہوتے رہے ہیں، جبکہ 2002ء میں مسلم لیگ (ن) کے محمد پرویز ملک، 2008ء میں مسلم لیگ(ن) کے بلال یسین اور 2013ء کے انتخابات میں خود محمد نواز شریف این اے 120سے کامیاب ہوئے۔ اب بھی تمام غیر جانبدار سرویز یہی ثابت کررہے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کی امیدوار بیگم کلثوم نواز آسانی کے ساتھ اس نشست پر کامیاب ہوجائیں گی۔

اس حلقے میں کشمیری اور آرائیں برادری کے ساتھ ساتھ پٹھان بھی رہائش پذیر ہیں۔اہم قومی شخصیات کے منتخب ہونے کے باوجود ٹوٹی سڑکیں، سیوریج کا ناقص نظام، منشیات فروشی اور گندا پانی ابھی بھی اس حلقے کے اہم مسائل ہیں۔

این اے 120کی انتخابی مہم دیکھ کر صاف طور سے عیاں ہوتا ہے کہ عام انتخابات اور ماضی میں ہونے والے ضمنی انتخابات کی طرح حالیہ ضمنی انتخابات نے بھی سیاست کو پیچھے دھکیل کر دولت کو برتری دی۔ جہاں ایک طرف مسلم لیگ(ن) پر ریاستی وسائل کے سہارا لینے کا الزام لگتا رہا تو وہیں دوسری طرف پی ٹی آئی کے چند امیر عہدے داروں نے بھی ڈاکٹر یاسمین کی مہم میں پانی کی طرح پیسہ بہایا۔ ایک زمانہ تھا کہ ہماری قومی تاریخ میں بہت سے سفید پوش افراد ایسے تھے جو نہ صرف الیکشن لڑتے تھے، بلکہ امرا کو ہرا کر کامیاب بھی ہوجاتے تھے اور ایسے سفید پوش افراد پاکستان کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں میں موجود تھے۔ یہ وہ زمانے تھے کہ جب دائیں اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتیں دولت اور سرمایے کے ساتھ ساتھ نظریات اور سیاسی کمٹمنٹ کو بھی ایک حد تک فروغ دیتی تھیں، مگر اب سیاسی جماعتوں اور قائدین کے معیار بھی یکسر بدل چکے ہیں، ٹکٹ کے حصول کے لئے بھاری پارٹی فنڈز،کئی مدوں میں عطیات، پارٹی لیڈروں کی خاطر مدارت پر اخراجات اور اس کے بعد انتخابی مہم میں کروڑوں روپے لگانے والا فرد ہی سیاسی جماعتوں کا ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو پاتا ہے اور اگر خوش قسمتی سے کسی غریب کا رکن یا متوسط طبقے کے کسی فرد کو کسی بڑی سیاسی جماعت کا ٹکٹ مل بھی جائے تو اس کو انتخابی مہم کے لئے سرمایہ داروں کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اب نظریاتی، سچے اور مخلص سیاسی کارکنوں کا رومان بھی اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ختم ہوتا جارہا ہے۔

سیاست میں پیسے کا عامل کوئی نیا نہیں، تاہم جس طرح محض دولت کو ہی بنیاد بناکر سیاسی جماعتیں سیاست کو پروان چڑھا رہی ہیں، اس سے جلد ہی عام آدمی سیاست سے مزید مایوس ہوجائے گا۔ ہمارے ہاں پڑھے لکھے طبقے کے اندر پہلے ہی یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ جمہوریت، سیاست اور انتخابات امیروں، سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کے کھیل ہیں۔ وہ اس کھیل میں کروڑوں لگا کر بعد میں اربوں بناتے ہیں۔ کسی امیدوار کی اخلاقی حیثیت اب اس کی دولت کے مقابلے میں تقریباً ختم ہوتی جارہی ہے یہ امر جمہوریت کے لئے نقصان کا باعث بنے گا۔ حتیٰ کہ ایسی سیاسی جماعتیں بھی جو تبدیلی اور عام آدمی کو سیاست میں مقام دلانے کی بات کرتی رہی ہیں، ان کے نزدیک بھی انتخابات جیتنے کے لئے دولت کی اہمیت تسلیم کی جانے لگی ہے۔

انہی بنیادوں پر ہم یہ سوال کرسکتے ہیں کہ کیا ان ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والی بڑی سیاسی جماعتوں کے بارے میں کوئی غیر جانبدار شخص یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ ان میں سے کوئی سیاسی جماعت حقیقی معنوں میں اسٹیٹس کو کی مخالف ہے؟ یا ان ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والی بڑی سیاسی جماعتیں کسی نظریے کے دم پر یہ الیکشن لڑرہی ہیں؟ یقیناً اس سوال کا جواب نفی میں ہی ہے۔

پاکستان میں اگر کوئی بڑی سیاسی جماعت حقیقی معنوں میں اسٹیٹس کو کا خاتمہ چاہتی تو اس کی بنیادی ترجیح یہ ہونی چاہیے تھی کہ وہ عوام کے سماجی شعور کو بہترکرنے کی جانب بھرپور توجہ دے۔ سماجی شعور کو نظر انداز کرنے ہی کے باعث ایسی سیاسی جماعتیں بھی عملیت پسندی کے نام پر ایسے ایسے سمجھوتے کر لیتی ہیں کہ جو اسٹیٹس کو کی علمبردار جماعتوں کا ہی خاصا ہوتا ہے۔

آج بھی ہماری بھاری اکثریت یہ شعور نہیں رکھتی کہ تھانہ، کچہری، نلکوں، نالیوں کی تعمیر اور نوکریوں کی سیاست کا تعلق پارلیمانی نظام کے تحت منتخب ہونے والے نمائندوں سے ہوتا ہی نہیں، بلکہ ان مسائل کے حل کے لئے عوام کو اپنے آپ کو بلدیاتی سطح پر حقوق حاصل کرنا ہوتے ہیں۔ تھانے کچہری کی سیاست، سفارش کے ذریعے اپنے حامیوں کو نوازنا، اقربا پروری، جاگیرداری نظام، برادریوں کی سیاست، فرقہ پرستانہ سیاست، پیر پرستی اور انتہاوں کو چھوتی ہوئی زرپرستی حقیقی جمہوریت کے لئے ایسے زہر ہیں جو اسے کھوکھلا کر رہے ہیں ۔اس وقت اگر ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی سیاسی اور انتخابی سیاست کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ سیاسی جماعتوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں چند مخصوص طفیلی طبقات کے دم پر اپنے اپنے سیاسی حصار بنا رکھے ہیں۔ دیہات ہوں یا شہری علاقے(متوسط طبقے کے کئی علاقوں کو چھوڑ کر) انتخابات میں کامیابی کے لئے انہی مخصوص طفیلی طبقات پر انحصار کیا جاتا ہے اور اس سیاسی حمایت کے بدلے یہ طفیلی طبقات ہر طرح کی جائز و ناجائز مراعات حاصل کرتے ہیں۔ اس لئے عام انتخابات اور اس سے پہلے ہونے والے ضمنی انتخابات کی طرح این اے120کے انتخابات بھی کسی ’’نظریے‘‘ یا ’’سوچ‘‘ کے تحت نہیں ہو رہے۔ ان نتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتیں ان انتخابات کو ’’نظریات کی جنگ‘‘ قرار دے کرعوام کو ایک طرح کا دھوکہ دے رہی ہیں۔

مزید :

کالم -