پرنٹ میڈیا کے لئے مجوزہ ریگولیٹری اتھارٹی ؟

پرنٹ میڈیا کے لئے مجوزہ ریگولیٹری اتھارٹی ؟
 پرنٹ میڈیا کے لئے مجوزہ ریگولیٹری اتھارٹی ؟

  

اس سے قبل پنجاب کے پہلے وزیراعلیٰ نواب افتخار حسین ممدوٹ نے پی پی ایل کو ختم کرنے کے لیے عدالت میں درخواستیں دائر کیں۔ پھر وزیراعلیٰ پنجاب ممتاز دولتانہ نے بھی نکیل ڈالنے کی کوشش کی۔ کمانڈر ان چیف جنرل ایوب خان کے حکم پر فوج میں ’’پاکستان ٹائمز ‘‘کا داخلہ بند کیا گیا۔ 1950ء میں جب میاں افتخار الدین کو مسلم لیگ سے نکالا گیا تو وزیراعظم لیاقت علی خان کی صدارت میں جو قرارداد منظور کی گئی، اس میں کہا گیا تھا کہ میاں افتخار الدین کے دونوں اخبارات حکومت پر ناروانکتہ چینی کرتے ہیں۔ 1962ء کے آئین کے تحت اخبارات اور چھاپے خانوں کے بارے میں قانون سازی کا اختیار صوبائی حکومتوں کو دے دیا گیا۔ اخبارات میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی کارروائی شائع ہونے لگی اور بعض ایسی تقریریں بھی جن میں حکومت پر نکتہ چینی ہوتی تھی۔ حکومت نے اس سے گھبرا کر اکتوبر 1963ء میں مغربی پاکستان پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس جاری کیا ، جس کے تحت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو اخبار یا جریدے کا ڈیکلیئریشن مسترد کرنے، منسوخ کرنے یا پرنٹنگ پریس کا لائسنس دینے یا مسترد کرنے کا اختیار مل گیا ۔

1962ء کے آئین کے تحت صدارتی انتخابات ہونے والے تھے۔ ایوب خان کو اپنی انتخابی مہم کے لیے اخبارات اور جرائد کی ضرورت تھی جو ہر روز اُس کی خبر شہ سرخی میں شائع کریں۔ چنانچہ 39صنعت کاروں اور بینکوں کے مالکان نے پچاس لاکھ روپے سے نیشنل پریس ٹرسٹ (این پی ٹی ) کے نام سے بنیادی دستاویز 18اپریل 1964ء کو رجسٹرڈ کروائی۔ اس ٹرسٹ نے پچاس لاکھ روپے سے پاکستان کے گیارہ اخبارات اور جرائد خرید لیے۔ حالاں کہ ان کا سالانہ بجٹ دس کروڑ روپے تھا۔ 1962ء میں ہی پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈی نیشن نافذ کیا گیا، جس نے اخباری دنیا کے تمام شعبوں کا گلا گھونٹ ڈالا۔

پھر 1964ء میں ایک نیا سرکاری ادارہ نیشنل پریس ٹرسٹ قائم کرکے پی پی ایل کے مذکورہ اخبارات سمیت مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے 11اردو، بنگالی اور انگریزی پرچوں کو اس کے قبضے میں دے دیا گیا۔ اس کے علاوہ ملک کی سب سے بڑی نجی نیوز ایجنسی اے پی پی کو بھی سرکاری تحویل میں لے لیا گیا۔ ستمبر 63ء میں نافذ ہونے والا ’’پریس اینڈ پبلی کیشنز امینڈمنٹ آرڈی نینس‘‘ آزادی صحافت پر کسی قہر سے کم نہیں تھا۔ ایسا ہولناک قانون برطانوی حکومت نے بھی اپنے دور میں نافذ کرنے کی جرأ ت نہیں کی تھی۔ اخبارات اس دور میں حکومتی اقدامات سے اس حد تک خوفزدہ تھے کہ کوئی آواز اٹھانے کے لئے تیار نہیں تھا۔ صحافیوں کی ملک گیر تنظیم ’’پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ( پی ایف یو جے ) نے عملی طورپر جلسوں، جلوسوں، مظاہروں، قراردادوں کے ذریعے ہر حکومت کے ظالمانہ اقدام کی بھرپور مذمت اور مخالفت کی ۔ پی ایف یو جے کی اُ س زمانے میں مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے تمام بڑے اخباری مراکز میں شاخیں قائم تھیں۔ اس نے اپنے قیام کے بعد پہلے ہی روز سے ہر آمرانہ اقدام کے خلاف بہادری سے آواز بلند کی تھی۔ چنانچہ 6ستمبر 1963ء کو پی ایف یو جے کی اپیل پر پورے ملک میں چوبیس گھنٹے کی ہڑتال کی گئی، جگہ جگہ احتجاجی جلسے منعقد ہوئے اور اگلے روز اخبارات شائع نہیں ہوئے ۔

ایوب خان کا دور ختم ہوا، ملک میں ایک فرد ایک ووٹ کی بنیاد پر ہونے والے پہلے عام انتخابات کے نتائج کو اس وقت کی مار شل لاء حکومت نے تسلیم نہیں کیا اور ایک خطر ناک صورت حال اور بھارت کی تھونپی ہوئی جنگ کے نتیجے میں پاکستان دو لخت ہوگیا۔ مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو حکومت قائم ہوئی جو اخبارات کی آزادی کے معاملے میں کسی طرح بھی ایوب خان کی آمرانہ حکومت کے جابرانہ اقدامات سے مختلف نہیں تھی۔ درجنوں اخبارات اور رسائل کی بندش معمول بن گئی تھی۔ گرفتاریاں، قید ایک ایسا سلسلہ بنا دیا گیا تھا جس کے شکار وہ تمام لوگ تھے جو بھٹو حکومت سے ذرا سا بھی اختلاف رکھتے تھے۔ مجیب الرحمان شامی، الطاف حسن قریشی، حسین نقی، صلاح الدین، سید سردار علی شاہ اور دیگر درجنوں افراد قید کی سزائیں بھگت رہے تھے۔

ان کے پرچے ضبط کئے گئے، ڈکلیئریشن منسوخ ہوئے، چھاپے خانے بند ہوئے، غرض وہ تمام اقدامات کئے گئے جن سے آزادی صحافت شدید متاثر ہوئی۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ یہ لوگ اپنے اخبارات اور جرائد میں وہ کچھ تحریر کیا کرتے تھے جسے بھٹو حکومت پسند نہیں کرتی تھی۔ جنرل ضیاء الحق کے مار شل لاء کے نفاذ کے بعد بھٹو حکومت کا خاتمہ ہوا تو بھی صحافی اور اخبارات ابتلاء کا شکار ہی رہے۔

ضیاء کے دور میں تو صحافیوں کو ہڑتالیں کرنے اور جلوس نکالنے کے جرم میں کوڑے تک مارے گئے۔ اس دور میں بھی اخبارات کی بندش ہوئی۔ ضیاء کی موت کے بعد حکومت تبدیل ہوئی تو نگران حکومت نے پریس آرڈیننس کی جگہ نیا آرڈیننس جاری کیا۔

اس وقت کے وفاقی وزیر اطلاعات الٰہی بخش سومرو نے اس کا اعلان کیا تھا۔ اس آرڈینینس کے اجرا کے بعد اخبار شائع کرنے کا ڈکلیئریشن حاصل کرنا نہایت آسان ہوگیا تھا۔ اس دور میں سینکڑوں ڈکلیئریشن کا اجرا ہوا۔ حکومتوں کو کبھی اخبارات سے کوئی شدید شکایت نہیں ہوئی۔ اخبارات نے خود بھی ذمہ داری کا ثبوت دیا اور مالکان اور مدیران نے اپنے تئیں خبروں پر نظر رکھی۔یہ اچانک موجودہ حکومت کو کیوں راتوں رات ضرورت محسوس ہوئی کہ پرنٹ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے۔

محکمہ اطلاعات ہو یا کوئی اور محکمہ، کسی سرکاری افسر کی کیا مجال کہ اپنی مرضی سے اتنا بڑا کام کر سکے۔ اگر وزیر کی اجازت اور علم کے بغیر یہ کام کیا گیا تھا تو پھر یہ پریس کونسل کے اجلاس کے ایجنڈے میں کس طرح آیا۔ پریس کونسل اس کام کے لئے تو بنائی ہی نہیں گئی ہے کہ وہ اخبارات سے متعلق قانون بنائے۔

اس ملک میں ہمیشہ یہ مسلہ رہا ہے کہ آزادئ صحافت کی حفاظت کی جنگ صحافیوں نے لڑی ہے۔ صحافیوں کی ملک گیر تنظیم پی ایف یو جے نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ آج صورت حال اس لحاظ سے مختلف ہے کہ صحافی اور ان کی تنظیمیں بری طرح تقسیم ہیں حالا نکہ خود صحافیوں کے مفاد میں ہے کہ ان کے درمیاں مضبوط اتحاد ہو اور ان کی ایک ہی منظم تنظیم ہو۔ مالکان کا پرنٹ کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا پر بھی تسلط ہے۔ ٹی وی چینل کی بڑی اکثریت کے مالکان بیک وقت اخبارات کے مالک بھی ہیں۔پاکستان میں صحافیوں کی تن خواہوں کے سلسلے میں پہلا ویج بورڈ 1960ء میں قائم ہوا تھا۔

آج ساٹھ سال گزرنے کے بعد ساتواں ویج بورڈ نافذ تو ہوا ہے لیکن اس پر عمل در آمد ندارد ہے۔ صحافیوں کو کسی قسم کا تحفظ اور سہولتیں حاصل نہیں۔اخبارات اور چینل سے مالک جب چاہتے ہیں، صحافیوں کو کسی معقول وجہ کے بغیر جبری رخصت کر دیتے ہیں۔ صحافی تماش بینی ہی کرتے رہ جاتے ہیں۔ معمولی اور غیر موثر احتجاجی مظاہرے کسی کو بھی دوبارہ روز گار نہیں دلا سکے ہیں ۔

مزید :

کالم -