پاک چین تجارتی معاہدے سے الٹا نقصان ہورہا ہے ،میاں زاہد حسین

پاک چین تجارتی معاہدے سے الٹا نقصان ہورہا ہے ،میاں زاہد حسین

  

کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینیئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے مابین-07 2006 میں ہونے والے آزادانہ تجارت کے معاہدے سے فائدے کے بجائے الٹا نقصان ہو رہا ہے۔ اسکی وجہ سے سینکڑوں کارخانے و کاروباربند، لاکھوں مزدور بے روزگار اور معیشت کی بنیادیں ہل گئیں ہیں۔اگر آزادانہ تجارتی معاہدے میں فوری طور پر بنیادی تبدیلیاں نہ4 پاک چین تجارتی معاہدے سے الٹا نقصان ہورہا ہے ،میاں زاہد حسین

کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینیئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے مابین-07 2006 میں ہونے والے آزادانہ تجارت کے معاہدے سے فائدے کے بجائے الٹا نقصان ہو رہا ہے۔ اسکی وجہ سے سینکڑوں کارخانے و کاروباربند، لاکھوں مزدور بے روزگار اور معیشت کی بنیادیں ہل گئیں ہیں۔اگر آزادانہ تجارتی معاہدے میں فوری طور پر بنیادی تبدیلیاں نہ لائی گئیں تو یہ پاکستان کی معیشت کی جڑیں کاٹنے کے مترادف ہو گا۔وفاقی چیمبر نے بیوروکریسی کی ہاں میں ہاں ملا نے کی پالیسی پر عمل کیا اور کاروباری برادری کے مفادات کو نظر انداز کر کے انتہائی منفی کردار ادا کیا۔ میاں زاہد حسین نیکہا کہ تجارتی معاہدے کے وقت پاکستان چین سے سالانہ تقریباًساڑھے تین ارب ڈالر کی اشیاء درآمد کر رہا تھا جو اب سولہ ارب ڈالرسے بڑھ گئی ہیں جبکہ اربوں ڈالر کی اسمگلنگ اسکے علاوہ ہے۔معاہدے کے بعد سے چین کی برآمدات میں کئی سو گنا اضافہ ہوا ہے ۔

مگر پاکستان سے برآمدات میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا ۔ اسی معاہدے کے وجہ سے چین پاکستان کا سب سے بڑا ٹریڈنگ پارٹنر بن گیا ہے مگر یہ رفاقت یک طرفہ ہے جسے دو طرفہ اور متوازن ہونا چائیے کیونکہ اس سے پاکستان کاتجارتی خسارہ جو 2006-07 میں 2.9 ارب ڈالر تھا 2016-17 میں 12.7 ارب ڈالر اور گزشتہ سال تیس ارب ڈالر سے بڑھ گیا ہے ۔پاکستان تیل کے علاوہ جو کچھ بھی درآمد کر رہا ہے اس میں چین کا حصہ چھتیس فیصد تک جا پہنچا ہے جس سے کاروباری برادری میں بے چینی بڑھ رہی ہے مگر ایف پی سی سی آئی اس سلسلہ میں کوئی کردار ادا کرنے کو تیار نہیں کیونکہ حکومت کی خوشامد انکی اولین ترجیح ہے۔ پاکستانی دھاگے پر چین نے 3.5 فیصد ڈیوٹی لگا رکھی ہے جبکہ بھارت سے کوئی تجارتی معاہدہ نہ ہونے کے باوجود بھارتی دھاگے پر بھی اسی شرح سے ڈیوٹی لگائی جاتی ہے جو حیران کن ہے۔چین نے دیگر ممالک اور ٹریڈ بلاکس سے جو معاہدے کئے ہیں ان سے پاکستان سے کیا جانے والا معاہدہ ہمارے لئے غیر متعلق ہو چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں دوست ممالک سے ایسے معاہدوں کی کوئی ضرورت نہیں جو ملک کے اقتصادی مستقبل کو داؤ پر لگا دیں۔

لائی گئیں تو یہ پاکستان کی معیشت کی جڑیں کاٹنے کے مترادف ہو گا۔وفاقی چیمبر نے بیوروکریسی کی ہاں میں ہاں ملا نے کی پالیسی پر عمل کیا اور کاروباری برادری کے مفادات کو نظر انداز کر کے انتہائی منفی کردار ادا کیا۔ میاں زاہد حسین نیکہا کہ تجارتی معاہدے کے وقت پاکستان چین سے سالانہ تقریباًساڑھے تین ارب ڈالر کی اشیاء درآمد کر رہا تھا جو اب سولہ ارب ڈالرسے بڑھ گئی ہیں جبکہ اربوں ڈالر کی اسمگلنگ اسکے علاوہ ہے۔معاہدے کے بعد سے چین کی برآمدات میں کئی سو گنا اضافہ ہوا ہے ۔

مگر پاکستان سے برآمدات میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا ۔ اسی معاہدے کے وجہ سے چین پاکستان کا سب سے بڑا ٹریڈنگ پارٹنر بن گیا ہے مگر یہ رفاقت یک طرفہ ہے جسے دو طرفہ اور متوازن ہونا چائیے کیونکہ اس سے پاکستان کاتجارتی خسارہ جو 2006-07 میں 2.9 ارب ڈالر تھا 2016-17 میں 12.7 ارب ڈالر اور گزشتہ سال تیس ارب ڈالر سے بڑھ گیا ہے ۔پاکستان تیل کے علاوہ جو کچھ بھی درآمد کر رہا ہے اس میں چین کا حصہ چھتیس فیصد تک جا پہنچا ہے جس سے کاروباری برادری میں بے چینی بڑھ رہی ہے مگر ایف پی سی سی آئی اس سلسلہ میں کوئی کردار ادا کرنے کو تیار نہیں کیونکہ حکومت کی خوشامد انکی اولین ترجیح ہے۔ پاکستانی دھاگے پر چین نے 3.5 فیصد ڈیوٹی لگا رکھی ہے جبکہ بھارت سے کوئی تجارتی معاہدہ نہ ہونے کے باوجود بھارتی دھاگے پر بھی اسی شرح سے ڈیوٹی لگائی جاتی ہے جو حیران کن ہے۔چین نے دیگر ممالک اور ٹریڈ بلاکس سے جو معاہدے کئے ہیں ان سے پاکستان سے کیا جانے والا معاہدہ ہمارے لئے غیر متعلق ہو چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں دوست ممالک سے ایسے معاہدوں کی کوئی ضرورت نہیں جو ملک کے اقتصادی مستقبل کو داؤ پر لگا دیں۔

مزید :

کامرس -