ججوں کو فیصلے کرتے ہوئے مصلحت کے خول میں نہیں چھپنا چاہیے : جسٹس عباد الرحمن لودھی

ججوں کو فیصلے کرتے ہوئے مصلحت کے خول میں نہیں چھپنا چاہیے : جسٹس عباد الرحمن ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے 3ججوں پر مشتمل فل بنچ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی امیدواربیگم کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف درخواستیں مسترد کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیاہے، 3 رکنی فل بنچ کے دو ایک کے تناسب میں اختلافی فیصلہ لکھنے والے جسٹس عبادالرحمن لودھی نے قرار دیا ہے کہ ججوں کوفیصلے کرتے ہوئے مصلحت کے خول میں نہیں چھپنا چاہیے بلکہ بلاخوف و خطر فیصلے کرنے چا ہئیں،3 رکنی فل بنچ کے اکثریتی ارکان جسٹس امین الدین اور جسٹس شاہد جمیل نے تحریری فیصلے میں بیگم کلثوم نوز کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف درخواستیں مسترد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف یہ درخواستیں ناقابل سماعت ہیں،اس حوالے سے لاہور ہائی کورٹ مناسب فورم نہیں ہے، درخواست گزار الیکشن کے بعد الیکشن ٹربیونل کے روبرو اعتراضات اٹھا سکتے ہیں، اکثریتی ججوں نے ریٹرننگ افسر کے فیصلے کو کالعدم نہیں کیا تاہم ریٹرننگ افسر کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ریٹرننگ افسر کی ذمہ داری تھی کہ وہ قانون کے مطابق سکروٹنی کرتے، اختلافی فیصلہ لکھنے والے جسٹس عباد الرحمن لودھی نے کاغذات نامزدگی مسترد کئے ہیں اور جامع سکروٹنی کے بعد نیا الیکشن شیڈول جاری کرنے کا فیصلہ لکھا ہے، اختلافی فیصلے میں جسٹس عباد الرحمن لودھی نے کہا ہے کہ ریٹرننگ افسر نے بیگم کلثوم نواز کے کاغذات کی عوامی نمائندگی ایکٹ کے مطابق سکروٹنی نہیں کی، عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 14کی ضمنی دفعہ 2، 3 اور 4 کے تحت ریٹرننگ افسر پر لازم تھا کہ وہ جامع سکروٹنی کرتا اور کاغذات نامزدگی منظور کرنے یا اعتراضات مسترد کرنے کی تحریری وجوہات لکھتا لیکن ریٹرننگ افسر نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے کاغذات منظور کرنے یا اعتراضات مسترد کرنے کی وجوہات نہیں لکھیں، جسٹس عباد الرحمن لودھی مزید لکھتے ہیں کہ ریٹرننگ افسر نے انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا، ایسے ریٹرننگ افسر جمہوری نظام میں خامیاں لاتے ہیں ،آر او کا فیصلہ پنچایتی فیصلے کی مانند ہے لہذاضمنی الیکشن کا شیڈول کالعدم کیا جاتا ہے، جسٹس عباد الرحمن لودھی فیصلہ سازی میں ججوں کے بارے میں لکھتے ہیں کہ فیصلے کرتے ہوئے ججوں کو مصلحت کے خول میں نہیں چھپنا چاہیے ، ان کے آئینی حلف کا تقاضہ ہے کہ وہ بلاخوف فیصلہ دیں اور اگر انہوں نے بطور جج مصلحت کی تو یہ ان کے حلف کی خلاف ورزی ہوگی اور ان کا شعور انہیں گناہ گارکہے گا، مسٹر جسٹس عباد الرحمن لودھی نے مزیدلکھا ہے کہ ان کاضمیر کہتا ہے کہ وہ آئین و قانون کے مطابق فیصلہ کریں کیونکہ یہی وقت ہے کہ عدلیہ فیصلوں کے ذریعے ریاستی معاملات میں بامعنی کردار ادا کرے۔ بیگم کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف پیپلز پارٹی کے امیدوار فیصل میر کے علاوہ 4 درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

تفصیلی فیصلہ

مزید :

علاقائی -