حافظ سعید کی نظر بندی غیر آئینی ،کالعدم قرار دی جائے: اے کے ڈوگر

حافظ سعید کی نظر بندی غیر آئینی ،کالعدم قرار دی جائے: اے کے ڈوگر

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے حافظ سعید کی نظر بندی کے خلاف درخواست کی سماعت 19 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین کے وکلا ء کو مزید بحث کے لئے طلب کر لیاہے۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کی درخواست پر سماعت کی۔ حافظ سعید کے وکیل اے کے ڈوگر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت نے حافظ سعید کی نظر بندی میں غیر قانونی طور پر نوے روز کی توسیع کی ہے ، حکومت نے ثبوت کے بغیر محض الزامات کی بنیاد پرحافظ سعید کو نظر بندکر رکھا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کرنا بھی غیر قانونی ہے اور ان کی نظر بندی قانون کے تقاضوں کے منافی ہے۔اے کے ڈوگر نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت کسی شہری کو نوے یوم سے زائد نظر بند نہیں رکھا جا سکتا، نظر بندی کے خلاف درخواست ہائی کورٹ میں زیرالتوا ہے،اور حکومت نے امریکی امداد کی بندش کے دباؤ میں آکر حافظ سعید کو نظر بند کیا ،انہوں نے استدعا کی کہ حافظ سعید کی نظر بندی آئین اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ،پابندی کو کالعدم قرار دیاجائے۔ عدالت نے اے کے ڈوگرسے استفسارکیا کہ کیا آپ نے اپنی درخواست میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ حافظ سعید کی نظر بندی امریکہ کی کہنے پر کی گئی،آپ نے اپنی درخواست میں اس بات کا کہیں ذکر نہیں کیا کہ حافظ سعید کی نظر بندی امریکہ کے کہنے پر کی گئی، آپ نے اپنے کیس میں اخبار کی خبر کو بنیاد بنایا ہے۔ عدالت نے مزید سماعت 19 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین کے وکلا ء کو مزید سماعت کے لئے طلب کر لیاہے۔

مزید :

علاقائی -