پاکستان کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں : طیب اردوان ، پاک ترک دوستی مزید بڑھے گی : شہباز شریف

پاکستان کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں : طیب اردوان ، پاک ترک دوستی مزید بڑھے گی : ...

  

لاہور(جنرل رپورٹر)تر صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کو سیاسی، اقتصادی اور دفاعی طورپر مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں اورترکی پاکستان کے ساتھ غیرمشروط تعاون جاری رکھے گا لہٰذامشکل ہویا آسانی ہم پاکستان کے سا تھ کھڑے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے استنبول میں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف سے ملاقات کے دوران کیا۔ترک صدر نے کہا کہ توانائی کی فراہمی اوردہشت گردی کے سدباب کیلئے حکومت پاکستان کی کاوشیں قابل قدر ہیں جبکہ پنجاب میں ترکی کے تعاون پر مبنی منصوبے پاک ترک دوستی کی زندہ علامت ہیں اورآپ کی قیادت میں پنجاب کی تعمیروترقی کا سفر لائق تحسین ہے۔ترک صدر نے بیگم کلثوم نواز کی صحت کے بارے میں دریافت کیا اورکہاکہ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جلد صحت یاب کرے۔اس موقع پروزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام کو ترکی کے ساتھ دوستی پر فخر ہے، حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں ٹھوس تعاون نے اس دوستی کو نئی جہتوں سے آشنا کیا ہے اور آنے والا وقت پاک ترک دوستی کے عروج کا وقت ہوگا۔وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکی نے ہمیشہ ایک دوسرے کاساتھ دیاہے اور دونوں ملک آئندہ بھی ہر قسم کے حالات میں ایک دوسرے کیساتھ کھڑے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ترکی کے تعاون سے بننے والے منصوبوں نے عام آدمی کی زندگی بہتر بنانے میں مدددی ہے۔اس موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ۔بعدازاں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے ترکی کے وزیر معیشت نیہت زبی بیکی نے ملاقات کی،جس میں باہمی دلچسپی کے امور،پاک ترک تعلقات کے فروغ اور تجارتی تعلقات میں اضافے پر تبادلہ خیال کیاگیا۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے نماز جمعہ استنبول کے علاقے بشک ٹاس کی جامعہ مسجد ارطفرل تکھے میں ادا کی ۔وزیراعلیٰ نے امت مسلمہ کے اتحاد و ترقی اورمیانمارمیں روہنگیا مسلمانوں کی مشکلات سے نجات کیلئے خصوصی دعا کی۔قبل ازیں وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ترکی روانگی سے قبل لاہور ائیرپورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں،پاکستان اور ترکی علاقائی اور عالمی امور پر یکساں موقف رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میرے دورہ ترکی سے دونوں ملکوں کے مابین دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔

مزید :

صفحہ اول -