پنجاب اسمبلی اجلاس، خلاف اسلام نصاب تعلیم کا سوچ بھی نہیں سکتے، الزامات غلط ہیں: حکومت، تاخیر اور کورم کا مسئلہ برقرار رہا

پنجاب اسمبلی اجلاس، خلاف اسلام نصاب تعلیم کا سوچ بھی نہیں سکتے، الزامات غلط ...

  

لاہور (نمائندہ خصوصی ) سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال کی زیر صدارت ہونیوالا پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک مرتبہ پھر کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اٹھارہ ستمبر بروز پیر دوپہر دو بجے تک کیلئے ملتوی کر دیاگیااپنے مقررہ وقت سے تاخیرسے شروع ہونیوالے اس اجلاس میں کورم کی نشاندہی اس وقت کی گئی جب پنجاب اسمبلی کے ایوان میں سرکاری کارروائی کا آغاز ہونے لگا تھا ،صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود نے محکمہ سکولز ایجوکیشن سے متعلق مختلف اراکین اسمبلی کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ان الزامات کہ پنجاب حکومت اسلامیات کی درسی کتب سے احا د یث کو حذف کرنا چاہتی ہے یا حذف کر دیاگیا ہے کوبے بنیادقرار دیااور کہا حکومت ایسا سوچ سکتی ہے نہ اسے کبھی برداشت کریگی ، ہم نے ملک اور دین اسلا م کے مطا بق تعلیمی نصاب کو ترتیب دیا ہے ، کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، ڈیفڈکی طرف سے ہمیں کوئی ’’ ٹی او آرز‘‘ نہیں دیئے گئے، پنجا ب حکومت کے بہتر ین ویژن کی وجہ سے پبلک پارٹر شپ کے تحت چلنے والے سکولوں میں بچوں کی تعداد میں تین لاکھ سے زائد اضافہ ہوا ہے، پنجاب حکو مت نے4ہزار سے زائد سکولوں کو پبلک پارٹرشپ کے تحت چلانے کا فیصلہ کیا ہے، گزشتہ روز بھی بھی اپنے مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ 20منٹ کی تاخیر سے اجلاس شروع ہوا،ڈاکٹر نوشین حامد کے سوالات کے جواب میں صوبائی وزیر رانا مشہود احمد نے کہا اب تک21سکول مرج کئے گئے ہیں اور ان میں کوئی بھی عمار ت محکمہ کی اپنی نہیں تھی بلکہ کرائے کی عمارت تھی، پہلے پانچویں تک کو ایجوکیشن کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن بچوں کے والد ین کی طرف سے اس پر تحفظات کا اظہار کیا گیا جس کے بعد صرف تیسری جماعت تک کو ایجوکیشن کو محدود کردیا گیاہے۔ پبلک پارٹنر شپ کے تحت چلنے والے سکولوں میں بچوں کی تعداد میں تین لاکھ سے زائد اضافہ ہوا ہے، بین الاقوامی ادارے ڈیپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ( ڈیفڈ ) کیساتھ ملکر چار ہزار سے زائد سکول چلانے کا فیصلہ کیا ہے ، اخراجات پنجاب حکومت اورڈیفڈ بر د ا شت کررہے ہیں ،محمد ارشد ملک ایڈووکیٹ کے سوال کے جواب میں صوبائی وزیرتعلیم کا کہنا تھا پنجا ب بھر میں در جہ چہارم کے ملازمین کی بھرتی پر کوئی پابندی نہیں بلکہ اس کا اختیار ہیڈ ماسٹرز اور تعلیمی ادارے کے سربراہان کو دیا گیا ہے اور انہیں با قا عد ہ نان ڈویلپمنٹ سیلری بجٹ بھی دیا جاتا ہے جس کا مقصد بھی یہی ہے تاہم رانا مشہود اور ارشد ملک کے درمیان مکالمہ بازی ہوتی رہی۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر محمود الرشید نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے کہا اس ایوان میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے جو قرارداد پیش کی گئی تھی اسے غیر آئینی و غیر قانونی ثابت کرنے کیلئے بولنے کی اجازت دی جائے جس پر سپیکر اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر کو یقین دہانی کرائی کہ انہیں پیر کے روز اس ایشو پر بات کرنے کا موقع دیا جائیگا ،اسی دوران سپیکر اسمبلی نے سبزیوں و پھلو ں کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق اپوزیشن رکن کے پوائنٹ آف آرڈر پر متعلقہ وزیر کو قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لینے کی ہدایت کی وقفہ سوالات کے دوران جیسے ہی سرکاری کارروائی شروع ہونے کا وقت آیا تو ایوان میں موجود اپوزیشن رکن اسمبلی احسن ریاض فتیانہ نے ایوان میں کورم کی نشاندہی کر دی جس پر سپیکر اسمبلی نے پندرہ منٹ کیلئے گھنٹیاں بجانے کا حکم دیا مقررہ وقت ختم ہونے پر جب ایوان میں موجود اراکین اسمبلی کی گنتی کرائی گئی تو ایوان پورانہ تھا جس پر سپیکر نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس آئند ہ پیرکے روز دو بجے تک ملتوی کر دیا ،پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ایجنڈ ے سرکاری کارروائی کے دوران حکومت نے چار بل پیش کرنے تھے۔

مزید :

صفحہ آخر -