وزیر اعلیٰ کے احکامات پر پنجاب حکومت کا سرکاری محکموں میں بھوت ملازمین کو ٹریس کرنے کا فیصلہ

وزیر اعلیٰ کے احکامات پر پنجاب حکومت کا سرکاری محکموں میں بھوت ملازمین کو ...

  

لا ہور (رپورٹ: یو نس با ٹھ) پنجاب حکومت نے سرکاری محکموں میں گھوسٹ ملازمین کو ٹریس کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ابتدائی رپورٹ میں پو لیس سمیت تمام محکمو ں میں 1780گھو سٹ ملا زمین کی تقرری کا انکشاف ہواہے جبکہ وزیر اعلی پنجا ب نے انسپکٹر جنر ل پو لیس پنجا ب سمیت دیگر اعلی افسران کیسا تھ ایک اعلی سطحی اجلا س میں ان ملا زمین کو ٹریس کر نے کا حکم دیا ہے۔ گھوسٹ ملا زمین میں ایجو کیشن پہلے، پو لیس دوسرے جبکہ محکمہ زراعت وآبپا شی کے ملا زمین تیسرے نمبر پر ہیں۔ حال ہی میں ایجو کیشن اتھا رٹی پنجا ب کے مختلف اضلاع میں ایجو کیٹرز کی تقرری کے دوران غیر مقا می امیدوارو ں کی بو گس سلیکشن کا سکینڈل پکڑا بھی گیا ہے جبکہ محکمہ پو لیس کے گھو سٹ ملا زمین کیخلا ف پہلے ہی مقد مہ درج ہو چکا ہے۔ ذر ا ئع نے دعوی ٰکیا ہے کہ پنجاب میں کر پٹ اہلکا روں کا ایک گروہ موجود ہے جو ما فیا کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس گروہ نے نادرہ سمیت تمام محکموں میں کر پٹ اہلکا روں کی ایک ٹیم تشکیل دے رکھی ہے۔ یہ گروہ جعلی ڈاکو منٹس بنا نے کا ما ہر ہے ۔ با خبر ذرائع کے مطا بق وزیر اعلی پنجا ب نے پو لیس سمیت محکمہ ایس اینڈ ڈی اے جی کو گھوسٹ ملازمین کا پتہ چلانے کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی ہے۔ ذرائع کے مطا بق حکومت نے گھوسٹ ملازمین کیخلاف سخت محکمانہ کاروائی اور انہیں نوکری سے برخاست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ ایس اینڈ ڈی اے جی نے پہلے بھی اے جی پنجاب کو خط لکھا تھا کہ تمام محکموں کے گھوسٹ ملازمین کو ٹریس کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائے تا کہ ان ملازمین کی شناخت کی جا سکے۔ حکومت پو لیس ،سکولوں ،زراعت وآبپا شی اور ہسپتالوں سمیت تمام محکموں میں گھوسٹ ملازمین کی شناخت کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے گی۔ واضح رہے وز یر اعلی پنجا ب کو شکا یت مو صو ل ہو ئی تھی کہ حا ل ہی میں ڈسڑکٹ ایجو کیشن اتھا رٹی گو جر ا نو الہ میں ایجو کیٹرز کی بھر تیو ں کے دوران وسیع پیما نے پر گھپلے اورغیر قانو نی تقرریا ں ہو ئی ہیں۔ پہلے بھی ایجو کیشن اور پو لیس میں اس طر ح کا ایک سکینڈل پکڑا گیا تھا ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ابتدائی اطلا عات کے مطا بق جو رپورٹ سا منے آئی ہے اس میں 1780مختلف محکمو ں میں گھو سٹ ملا زمین بیا ن کیے گئے ہیں۔تا ہم اصل حقائق انکوائر ی کے بعد سا منے آئیں گے۔

مزید :

صفحہ آخر -